منہ نالوں چنگی ٹنڈ

منہ نالوں چنگی ٹنڈ
منہ نالوں چنگی ٹنڈ

  


میری بد دعا ہے کہ نیب کے بعد اے این ایف والوں کو کیڑے پڑیں، یہ کیا بات ہوئی یا آپ ہمیں مار لو یا ہمارے پیسے چھین لو، سنا ہے اے این ایف نے رانا ثناء اللہ کی جائیدایں منجمد کرنے کی استدعا کی ہے اس سے پہلے نیب یہی استدعا ہماری مریم بی بی اور یوسف عباس کے لئے کر چکی ہے۔ میاں شہباز شریف کی جائیدادیں قرق ہو چکیں۔ اسحاق ڈار ہمارے دیار غیر میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ میر ی اے این ایف اور نیب سے درخواست ہے کہ خدارا آپ ہمارے قائدین کو جیلوں میں بند کریں۔ سزائیں دیں عہدوں پر پابندی لگائیں لیکن ان کی جائیدادوں کو قرق نہ کریں۔ ہمارے قائدین نے ان جائیدادوں کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ انہوں نے اپنی عزت بیچ کر یہ جائیدادیں بنائیں۔ وہ اتنے معصوم ”اچیاں شاناں تے پھٹے دھیان والے تھے“ کہ قوم انہیں لیڈر بناتی گئی وہ جائیدادیں بناتے گئے، قومی وسائل اور خزانے کو انہوں نے جس طرح چنگم وانگ چبیا اے یہ ان کی ہی کرامت ہے۔ سنتا سنگھ کو ڈاکو پڑ گئے ڈاکو بولا سردار جی پیسے دے دو یا جان، سنتا سنگھ بولا جان لے لو پیسے تے بڑھاپے لئی رکھے نے۔ جان کا کیا ہے وہ تو کسی وقت بھی جا سکتی ہے آن کا کیا ہے کسی وقت بھی گھٹ ہو سکتی ہے اور شان تو ہے ہی درویشوں کے لئے آنی جانی شئے۔ سردار بنتا جی سوتے میں اٹھ بیٹھے دیکھا سامنے فرشتہ کھڑا ہے۔ بولے کیوں آئے ہو فرشتہ بولا تمہاری جان لینا ہے۔ بنتا سنگھ بولا لے لو ہمسائی میں رہتی ہے۔ اللہ بخشے ہماری قیادت کو اس کی جان بھی غیر ملکی اکا?نٹس محلوں بنگلوں ”ٹی ٹی?ں“ میں رہتی ہے۔ آپ ان کی جان تو نہ کڈیں۔ ابھی ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی جان کڈی جارہی ہے کل یہی ملک الموت پی ٹی آئی کے سرہانے کھڑا ہو گا۔ قوم کا کیا ہے تب تک وہ کسی اور سے آس لگائے بیٹھ جائے گی۔ ”گلی باتی“ لگانے والے ہونا چاہئے یہ ہر وقت اس کے ساتھ ”ٹرن نو“ تیار ہوتی ہے۔

ماشاء اللہ ہمارے پیارے اسلم اقبال حج سے واپس آ گئے ہیں اور انہوں نے وہاں سنت ابراہیمی کے تحت اپنی ٹنڈ کرا دی ہے، لیکن یقین کریں بس اللہ ہر کسی پر اتنی رحمت نہیں کرتا ماشاء اللہ کئی ایسے خوش قسمت ہوتے ہیں کہ منہ سے اچھی ان کی ٹنڈ نکل آتی ہے، ہنس مکھ تو ہمارے میاں اسلم ہیں ہی اب وہ منہ سے کچھ نہ بھی بولیں تو مخالف کا انہیں دیکھ کر ویسے ہی ہاسکا نکل جائے گا۔ یوں سیاست میں گالی اور طعنوں کی روایت ختم ہوگی۔وہ پنجاب کابینہ میں سب سے زیادہ ذہین اور تجربے کار وزیر میں شاید لہورئیے ہیں اس لئے ہمارا دل کچھ زیادہ ان کی طرف کھینچتا ہے۔ کھوتے کھانا ان کا اور ہمارا مشترکہ مشغلہ ہے۔ اچھا ہے کرپشن کے غوطے کھانے سے بندہ کھوتے کھا لے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیر اعلیٰ بزدار چھپے رستم ہیں۔ پہلے انہوں نے کن سن میں وزارت اعلیٰ حاصل کی پھر اپنی ایک سالہ کارکردگی میں باقی صوبوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ میرا خیال ہے اس میں ان کی کارکردگی میں ان کی تیزی سے زیادہ باقی صوبوں کی سستی کا کریڈٹ جاتا ہے۔ ورنہ پنجاب کابینہ کو اگر سست اور کاہل لوگوں کے ٹورنامنٹ میں بھیجا جائے تو براہ راست فائنل کھیلے۔ لڑکی والے بولے ہمیں لڑکا پسند نہیں۔ لڑکے کا باپ بولا پسند تو مجھے بھی نہیں پر ”ایس نوں گھروں نہیں کڈ سکتے“۔ وزیر اعلیٰ بزدار سنبھال کے رکھیں اپنے بیٹوں کو لیکن انہیں سمجھائیں عوام انہیں پسند نہیں کر رہی اور یہ ناپسندیدگی بزدار جسے کم گر سیدھے اور سادھے وزیر اعلیٰ کی کارکردگی پر وٹے مار رہی ہے۔ سنا ہے کہ وہ نالائق بچوں کو کابینہ سے نکال رہے ہیں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ہم پہلے ہی ان کی سادگی اور شرافت کے قائل ہیں ہماری قائلی کے مزید درجات بلند ہو سکتے ہیں۔ بزدار محنتی ہیں، لگن کے پکے ہیں اور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ ہیں اور دشمنوں کی تمام تر سازشوں کے باوجود ”گج وج“ کے وزیر اعلیٰ ہیں ہماری درخواست ہے کابینہ کا جائزہ لیں محنتی لگن والے بچے تلاش کریں اسلم اقبال جیسے ذہن سمارٹ بچے تلاش کریں جو ٹنڈ کرا کے بھی اچھے لگیں۔

کراچی کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ ہماری جائے پیدائش ہے۔ لیکن اس عظیم شہر پر شاپروں کے حملے گٹروں کی نہروں اور پورے شہر کو کچرہ کنڈی بنانے سے پہلے ہم ہجرت کر گئے تھے، یوں ہم پاکستان میں رہ کر ایک طرح کے مہاجر کے مہاجر رہے۔ اس گلے سڑے نظام میں اگر ایک شہر کئی دہائیوں سے گل سڑ رہا ہے، اگر ہم اس نظام کے تعفن میں سانس لے سکتے ہیں تو ہمارے کراچی والے بھی خاصے ”ایمیون“ ہو چکے ہیں۔ ایک صاحب سنتا سنگھ کی والدہ کے پاس شکایت لیکر آئے آپ کا بیٹا میرے کپڑوں پر کچرہ کنڈی کا گند پھینک رہاہے۔ وہ بولیں کوڑھ نہ مار، میرا بیٹا بہت شریف ہے وہ آپ پر گند نہیں پھینک رہا میرا بیٹا تو وہ ہے جو آپ کی پگڑی گٹر کے پانی میں پھینک رہا ہے، اب کیا پیپلزپارٹی کیا ایم کیو ایم مرحوم اور کیا پی ٹی آئی مغفور سب ہی شریف ہیں کس پہ الزام دیں کہ اس عروس البلاد شہر کو کس نے گندہ کیا؟کس نے ایک محبتوں سے معطر شہر کو بدبوؤں کا مسکن بنایا۔ شرم کا کیڑا چونکہ ہم بطور قوم آپریشن کر کے نکلوا چکے ہیں اس لئے یہ کیڑاپیپلزپارٹی کو تنگ کرے گا نہ ایم کیو ایم یا پی ٹی آئی کو، کبھی کراچی دنیا کا خوبصورت شہر تھا، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری چائنہ کٹنگ کے بعد بس یہی رہ گیا تھا کہ اس کے گلی کوچوں کو اتنا بدہیئت کر دیا جائے کہ اگر کوئی طواف کو نکلے تو وہ جسم و جان بچا کے چلے اور نظر جھکا کے چلے، سنتا سنگھ ڈاکٹر کے پاس آنکھیں چیک کرانے پہنچا اور بولاڈ اکٹر صاحب عینک لگانے کے بعد میں پڑھنے کے قابل ہو جاؤں گا۔ ڈاکٹر بولا ہاں، سنتا سنگھ بولا شکر ہے میں نے تعلیم حاصل نہیں کہ ا ب صرف عینک لگانے سے پڑھنے لگوں گا۔ آہ ہم اہل کراچی پی پی، ایم کیو ایم پی ٹی آئی کی عینکیں بدلتے رہے اور سمجھتے رہے کہ ہم پڑھنے کے قابل ہو جائیں گے، لیکن دیوار پہ لکھا نہ پڑھ سکے کہ جب چور اچکے لیڈر بن جائیں تو کراچی جیسے شہر کچرہ کنڈی بن جاتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...