کشمیریوں کی جدوجہد کے سامنے کیا بھارتی حکومت ٹھہر سکے گی؟

کشمیریوں کی جدوجہد کے سامنے کیا بھارتی حکومت ٹھہر سکے گی؟
کشمیریوں کی جدوجہد کے سامنے کیا بھارتی حکومت ٹھہر سکے گی؟

  


ہماری حکومت اور اپوزیشن دونوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی اقدام پر سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے اسے حقیقت سے متصادم قرار دیا ہے۔ تازہ ترین بھارتی اقدام کشمیر پر طویل عرصے سے جاری اس کے قبضے میں ایک نیا اور تباہ کن موڑ ہے۔بھارت شاید بھول گیا ہے کہ جب ہندوستانیوں کی آزادی کی خواہش کے سامنے برطانوی راج نہیں ٹھہر سکا تو کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کے سامنے بھارتی حکومت کہاں تک ٹھہر سکے گی۔ بھارت کے ناجائز قبضے کے سامنے کشمیری گذشتہ سات عشروں سے سینہ سپر ہیں اور ان کے حوصلوں کو توڑا نہیں جا سکا بلکہ وہ مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے پر پاکستان کی درخواست پرگزشتہ ہفتے سلامتی کونسل کا 50 سال میں پہلی مرتبہ صرف مسئلہ کشمیر پر اجلاس ہوا جس میں سلامتی کونسل نے بھارت کے دعوؤں کی نفی کر دی۔ کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر یو این چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہی حل ہو گا۔کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔ کشمیر عالمی امن اور سیکورٹی کا مسئلہ ہے جو اقوام متحدہ کے دائرہ اختیار کے اندر 1965 کے بعد پہلی بار زیر بحث آیا۔ بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر ماضی میں کبھی عمل کیا نہ اس کی طرف سے آئندہ عمل کرنے کی امید ہے۔ بھارت کو قراردادوں پر عمل کیلئے ایک ڈیڈ لائن دی جائے۔ بھارت اس دوران کشمیر میں استصواب کرانے پر تیار نہیں ہوتا تو اس پر عالمی پابندیاں عائد کر دی جائیں۔ اس کے سوا مسئلہ کشمیر کا کوئی پرامن حل نہیں ہے۔

5 اگست کو کشمیر کے خصوصی حیثیت کے خاتمے کے اقدام کے خلاف بلاتاخیر غم و غصے سے سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کرنے لگے۔ اس پر بھارت نے کرفیو نافذ کر دیا۔ اس کی طرف سے مقبوضہ وادی میں گزشتہ دنوں فوج میں بھی اضافہ کیا گیا۔ سفاکیت میں اپنی مثال آپ بھارتی فوج کی 70 لاکھ کی آبادی کے خطے میں تعداد 9 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے گویا ہر گھر کے دروازے پر مہلک ہتھیاروں سے مسلح ایک فوجی کھڑا ہے۔کشمیری ایسی پابندیوں کو خاطر میں نہیں لا رہے جن کو توڑنا ممکن ہے کرفیو کے نفاذ کے باوجود حریت پسند گھروں سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں جن میں سے کئی کو فورسز موقع پر فائرنگ کر کے شہید کر دیتی ہیں کئی کو گرفتار کر کے عقوبت خانوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ حقیقت میں مقبوضہ جموں و کشمیر کرہ ارض کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہوچکا ہے۔

وادی کشمیر کی مجموعی آبادی ستر لاکھ سے زائد ہے جن میں 97 فیصد مسلمان ہیں لیکن فی الوقت ان ستر لاکھ مسلمانوں کا بھارت کی سات لاکھ سے زائد مسلح افواج نے محاصرہ کررکھا ہے لیکن گزشتہ تین دہائیوں سے جاری کشیدگی میں پچاس ہزار سے زائد کشمیری لقمہ اجل بن چکے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی تعداد میں اضافہ اور دوسری طرف کشمیریوں کی شہادت اتنی زیادہ ہے کہ شہریوں اور فورسز کے درمیان تناسب ایک فوجی بمقابلہ چھ شہری سے تبدیل ہوکر ایک فوجی بمقابلہ ایک شہری ہو جائے گا۔بھارتی فورسز تلاشیوں کے بہانے مسلمانوں کے گھروں میں گھس جاتی ہیں اور پھر کوئی بہانہ بناکر گھروں کو بارودی مواد سے تباہ کردیتی ہیں۔ یہ ایسی زیادتیاں ہیں جو عالمی دنیا کو نظر نہیں آتیں یا وہ قصداً ان کو نظر انداز کردیتے ہیں۔

ماضی میں بھی بھارت نے مقبوضہ وادی میں ہندو پنڈتوں کی بستیاں بسانے کی کوشش کی تھی تاکہ کشمیری مسلمانوں کی اکثریت کو کم کیا جائے۔ مردم شماری میں بھی کئی دفعہ غلط اعدادو شمار کے ذریعے ہندوؤں کی اکثریت دکھانے کی کوشش کی مگرریاستی انتظامیہ کے فیصلے پر مقبوضہ کشمیر میں زور دار احتجاج شروع ہو گیا۔ لوگ کرفیو کی پابندیاں توڑ کر سڑکوں پرنکل آئے لوگوں نے ایک بڑا جلوس نکالا جو آزادی کے حق میں نعرے لگا رہاتھا۔ وہاں موجود ظالم پولیس نے جلوس پر لاٹھی چارج شروع کر دیا۔ بڑے پیمانے پر نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔ لوگوں کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ کشمیر میں ہندوؤں کی بستیاں اور اور ان کی بڑھتی آبادی قبول نہیں۔

وادی کشمیر جو اپنے قدرتی حسن، پرشکوہ پہاڑوں اور آمن وآشتی کے لئے مشہور تھی وہ گزشتہ 30 برس سے ایمرجنسی کی حالت میں ہے۔ اب اس خطے میں ظلم و تشدد کی حکمرانی ہے جہاں انسانی اقدار اپنے معنی کھو چکے ہیں۔ ریاست کو بھارتی فوجی اپنے بوٹوں تلے کچل رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی سات لاکھ فوج بے گناہ کشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہے اور اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کر چکی ہے۔یوں پورا کشمیر لہو لہان ہو چکا ہے۔ کشمیریوں پر ان مظالم کے ساتھ ساتھ ان کے مال واسباب کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ صرف اس لئے کہ شائد وہ ڈر کر اپنے حق خودارادی کے مطالبہ سے دستبردار ہو جائیں لیکن جان و مال کی تباہی بھی ابھی تک کشمیریوں کے پائے استقلال میں لغزش تک پیدا نہیں کر سکی۔

بھارتی حکومت کے نئے ڈرامے کے بعد صورتحال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں ختم، اقلیتیں بھی خطرے میں اور ٹرمپ کی ثالثی بھی ختم ہوگئی۔ اسرائیل نے جو کچھ فلسطین میں کیا وہی اب بھارت کشمیر میں ہونے جارہا ہے۔مودی کو ایک اور باری مل گئی تو نوٹوں پر گاندھی کی بجائے گائے کی تصویر ہوگی۔ بھارت کا کشمیر کا خصوصی سٹیٹس ختم کرنے کا اقدام شرمنا ک ہے۔ مودی کو آدھا بھارت قاتل مانتاہے۔کس قدر افسوسناک بات ہے کہ ڈیڑھ ارب انسانو ں پر پاگلوں کا ایک جتھا حکومت کر رہا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ ہمارے ساتھ کیا ہونیوالا ہے لیکن میں اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہوں کہ اللہ قادر مطلق کی طرف سے جو بھی منصوبہ بندی کی جاتی ہے وہ ہمیشہ بہتر ہوتی ہے۔ ہم شائد اللہ کی حکمتوں کودیکھ نہ پائیں لیکن ہم کو ان میں شک نہیں کرنا چاہئے۔ اللہ کرے کہ آپ سب کیلئے بہتری ہو۔ آپ محفوظ اور پرسکون رہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...