پنجاب حکومت کے عملی اقدامات

پنجاب حکومت کے عملی اقدامات

پاکستان کو معرض وجود میں آئے سات دہائیوں سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے اور اتنے عرصہ میں پاکستان کو تمام دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان بنانی تھی لیکن ہمارے ملک کے امیر ترین حکمرانوں نے اس اپنے ملک کے ساتھ انصاف کا ایسا کھلواڑ کیا کہ باقی صوبے تو دور اس ملک کاآبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ پنجاب ترقی کی کئی ایسی منازل طے نہ کر سکا جو وہ کر سکتا تھا۔ سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باعث اس کے مسائل آج بھی جوں کے توں نظر آتے ہیں اس صوبے میں ایک عرصہ بلکہ اگر کئی دہائیاں کہوں تو غلط نہ ہو گا کہ شیر کی دھاڑ اور گرج لوگوں کے ذہنوں میں اتر گئی لیکن جنگلہ بس اور ابھی تک نامکمل اورنج ٹرین جیسے منصوبوں نے اس کی شہرت کو داغدار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،اگر ان کا فوکس ملک کے ساتھ اس صوبے کے تعلیمی اور صحت کے نظام کی جانب ہوتا تو شاید اس ملک کی تقدیر بدل سکتی تھی۔”لیکن کہتے ہیں کہ جب نیت ہی کھوٹی ہو تو اپنا سکہ بھی نہیں چلتا“ بالکل اسی مثال کی مانند یہاں قائم ہونے والی حکومتوں نے صرف اپنی تجوریاں بھرنے پر زور دیا اور عوام کو غربت و افلاس کی اس نہج تک پہنچا دیا جہاں سے واپسی ایک مشکل مرحلہ ہے لیکن ناممکن نہیں۔ایسے میں گزشتہ برس کپتان کی ٹیم کو ایک ایسا شخص میسر آیا جس کا تعلق صوبہ پنجاب کے پسماندہ علاقے سے ہے اور عوام کو اس بات کا بالکل بھی یقین نہیں تھا کہ ایک ایسے علاقے سے تعلق رکھنے والا شخص پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہو جائے گا۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا اس عہدے پر فائز ہونا ان لوگوں کے لیے ایک حیران کن بات تھی جو شاید یہ سمجھ رہے تھے کہ اس منصب پر کپتان کسی ایسے منجھے،سلجھے اور دیانتدار شخص کو لائیں گے جو اصل میں اس صوبے کا وارث لگے۔لیکن کپتان عمران خان نے عثمان بزدار پر اعتماد کا ہاتھ رکھ کر ایسے کئی دانشوروں،صحافیوں،ناقدوں،تجزیہ کاروں اور سیاستدانوں کو موروثی سیاست کے ختم ہونے کا عندیہ دیا جو شاید یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ملک سے موروثی سیاست کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا سب سے زیادہ پاور فل انسان ہونے کے ناطے وزیر اعلیٰ پنجاب نے کپتان کے اعتما د کو ٹھیس پہنچانے کی بجائے دھیمے انداز سے اپنا کام شروع کیا اور آہستہ آہستہ لوگوں کی باتوں کی پرواہ کیے بغیر ایسے کاموں کی جانب اپنی توجہ مبذول کی جو آج تک ادھورے تھے یا جن کی جانب ابھی تک کسی سرکار نے دلچسپی نہیں دکھائی۔

اگر بات کی جائے وزیر اعلیٰ پنجاب کے شروع کیے گئے پروگراموں کی تو انہوں نے تعلیم کو سب سے پہلے ترجیحی بنیادوں پر سامنے رکھا اسی لیے محکمہ ہائر ایجوکیشن کی ترقی سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ اتنا وسیع و عریض ہو چکا ہے کہ چند سالوں میں ملک ترقی و خوشحالی کی وہ منازل طے کرے گا کہ ہر شعبہ ہر محکمہ اور ہر طبقہ کے لوگ ان کے گن گاتے نظر آئیں گے۔ہائر ایجوکیشن میں یونیورسٹیوں کا قیام،نئی یونیورسٹیز کی منظوری،نئے کالجز کی تعمیراور بی ایس پروگرام کے آغاز کے ساتھ لیکچرارز کی بھرتیاں،اسپیشل ایجوکیشن کے محکمے میں اصلاحات،پسماندہ شہروں میں طلباء کے لیے ٹرانسپورٹ کی بحالی جبکہ دیگر شہروں میں اسپیشل ایجوکشن سینٹرز کی تعمیر نو کا آغازاس سلسلے کی پہلی کڑی تھی جس کی بنیاد قائم کر دی گئی ہے بس عملی کام جاری ہے جو جلد ہی پایہ ء تکمیل تک پہنچ جائے گا۔اس کے علاوہ ہمارے ہاں پولیس کا محکمہ سب سے زیادہ پسائی میں آیا سیاستدانوں نے اسے اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا اور اس محکمے کے سپوتوں کو ان کے اصل کام سے دور کر دیاجس کے باعث اس محکمے سے وابستہ افراد ذہنی الجھنوں کا شکار ہو کر رہ گئے مگر موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس محکمے کے لیے ایسی اصلاحات کی ہیں جس کے باعث اس محکمے کی بھی شنوائی عمل میں آگئی او رپولیس فورس کے الاؤنس کی بحالی سمیت،پولیس کی کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی،نئی جیلوں کی تعمیر،پولیس خدمت مراکز،موبائل سروس کا قیام سمیت دیگر منصوبے عملی اقدامات کی جانب گامزن ہیں۔اس کے علاوہ محکمہ خوراک میں گنے کے کاشتکاروں کی ریکوری کو سو فیصد یقینی بنایا گیا،ہر فصل کی اصل قیمت کسان تک پہنچائی گئی،گندم کی خریداری کا ہدف مکمل کیا،شوگر ملز سے وصولی سمیت پنجاب فوڈ اتھارٹی کو مزید مو ثر بنانے پر کام جاری ہے۔جبکہ صوبائی محکمہ اوقاف و مذہبی امور کی کئی ایکڑ زمینوں کو واگزار کروایا گیا جبکہ مزارات کے قریب تین پارکنگ پلازوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ محکمہ ہیلتھ میں ڈاکٹروں کی بھرتیاں،ہیلتھ کیئر ورکرز کی بھرتیاں،مزید بھرتیوں پر کام جاری،تھلیسیمیا بل،ریجنل ہیلتھ اتھارٹی بل،ہیلتھ کیئر سٹاف،میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز،پنجاب مینٹل ہیلتھ اتھارٹی،صحت کارڈ کی فراہمی،نئے ہسپتالوں کا قیام، ہسپتالوں میں ہزاروں بیڈ ز کا اضافہ،ایمرجنسی وارڈز کی تعمیر سمیت ہیلتھ میں مختلف پراجیکٹس پر کام شروع کیا۔جبکہ محکمہ بلدیات میں تاریخی بلدیاتی ایکٹ کی منظوری،ٹھیکیداروں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی،اس کے ساتھ دیگر کئی ایسے محکمے ہیں جن پر کام جاری و ساری ہے۔

اگر بنیادی طور پر پنجاب حکومت کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو جو کام سابقہ اور نام نہاد وزرائے اعلیٰ سر انجام نا دے سکے وہ کام انہوں نے ایک سال کے عرصے کے دوران سر انجام دیئے کیونکہ وزیر اعظم عمران خان کا اعتماد ہی ان کی کامیابی تھی اور اس کامیابی کے بعد عملی اقدامات اتنی تیزی اور خاموشی سے ہوں گے جس کا کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا۔ ملک کو ترقی کی جانب گامزن کرنے کا جو خواب وزیر اعظم اور انکی ٹیم نے دیکھا ہے وہ ضرور پایہء تکمیل تک پہنچے گا منزل دور سہی لیکن پہنچنا دشوار نہیں۔یہ تمام کام صوبے کی اور ملک کی ترقی کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔

مزید : رائے /کالم


loading...