"2008 میں جنرل کیانی اور میں نے ق لیگ کو جتوایا اور ڈیل کروائی ، پھر۔ ۔ ۔" وہ وفاقی وزیر جس نے اعتراف کرلیا

"2008 میں جنرل کیانی اور میں نے ق لیگ کو جتوایا اور ڈیل کروائی ، پھر۔ ۔ ۔" وہ ...

  


اسلام آباد (ویب ڈیسک)وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نےانکشاف کیا ہے کہ2008ء میں میں نے استعفیٰ دیا کیونکہ میری اور جنرل کیانی کی پلاننگ تھی مسلم لیگ ق کو جتوانے کے بعد میں اس کو undo بھی ہم نے ہی کیا ، کیانی میرے بھائیوں کی طرح ہیں میرے سے چھوٹے ہیں اور مجھ سے سینئر بھی نہیں مگر جنرل بن گئے ۔ق لیگ کی ڈیل بھی انہوں نے ہی پیپلز پارٹی کے ساتھ کروائی تھی اور نام میرا دیا تھا کہ یہ سب معاملات دیکھے گا پیپلز پارٹی سے ڈیل جنرل کیانی نے کی تھی اس لئے انہوں نے ان کو جتوایا بھی ، ق لیگ کو ہم جتوانا نہیں چاہ رہے تھے بس ان کو اتنی سیٹیں دلوانا چاہ رہے تھے جتنی کہ مل گئیں۔

روزنامہ جنگ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ ابھی اپوزیشن کے دھرنا دینے میں دو مہینے ہیں، میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ نکلیں گے تو لوگوں نے ان کو ادھر ہی اینٹیں مارنی ہیں یہاں پہنچ ہی نہیں سکیں گے میں تو خواہش مند ہوں کہ نکلیں تاکہ اپنی موت آپ مریں ، وزیر اعظم عمران خان کے کئے اقدامات بھارت کو تنہا کردینگے،نواز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ توبہ کرتا ہی نہیں ہے اس لئے قبول نہیں ہوتی وہ توبہ کرلیں تو بات ہوسکتی ہے میں ضمانت لینے کو تیار ہوں بس وہ جو کمایا ہے اس کے آدھے پیسے دیدیں چھڑانا میرا کام ہے۔انہوں نے کہا کہمودی کا 5 اگست کا اقدام خود مودی سرکار کے لئے بہت بڑا نقصان ہے اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے اس اقدام کے ساتھ ہی اپنا نقصان کرلیا ہے تو بے جا نہ ہوگا ۔مودی نے کسی ایک چیز کو نہیں ہر قانون کی خلاف ورزی کی ہے سب سے بڑی چیز اس نے کونسپٹ آف انڈیا کی خلاف ورزی کی ہے ۔ جو نہرو کا ، پٹیل کا ، مولانا عبدالکلام کا ہندوستان تھا مودی نے اس کی تو دھجیاں اڑادی ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق  جیو نیوز کے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں   سوالات کے جواب دیتے ہوئے بریگیڈیئر اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ مودی نے یہ اقدام کرکے اپنے تابوت میں آخری کیل ٹھونک کر قائداعظم کے بیانیہ کو درست ثابت کردیا ہے ۔مقبوضہ وادی کے رہائشیوں کے رد عمل پر انہوں نے کہا لوگ اس انتظار میں ہیں کہ کرفیو اٹھے گا تو دنیا دیکھے گی لیکن جو میری اطلاعات ہیں اس کے مطابق وہاں پر بھرپور احتجاج شروع ہوچکا ہے بھارتی فوجیوں کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے،میں آپ کو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت کا جو بھی فیصلہ ہو لیکن وہاں کی عوام مکمل طو رپر کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے ، ہم نیو کلیئر پاور ہیں اور اللہ نہ کرے کہ ہم اس اسٹیج پر جائیں کہ جنگ کرنا پڑے ، انہوں نے واضح کیا کہ اگر جنگ ہوئی تو جہاد کے لئے لوگوں کو بلایا بھی جائے گا اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ امین گنڈا پور کے ساتھ میں بھی جنگ کے لئے جاؤں گا ۔

پاکستان کے سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس خبر کی تردید کی کہ اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں میں ان کا کوئی کردار رہا ہے انہوں نے سلیم صافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا میں آپ کی قدر اس لئے نہیں کرتا کہ آپ سخت سوالات کرتے ہیں بلکہ آپ کی قدر اس لئے کرتا ہوں کہ آپ پڑھے لکھے صحافی ہیں اور آپ معلومات رکھتے ہیں لیکن کیا آپ یہ بتاسکتے ہیں کہ کوئی ایسا ملک جس نے دوران جنگ اپنے کریمنل کو چھوڑ دیا ہو یا اپنے کریمنل سے کہا ہو کہ تم پیسے لینا شروع کردو ۔ جب سیکنڈ ورلڈ وار ہوئی تھی لندن کے اوپر جرمن ایئر کرافٹ آیا تو اندھیرا چھاگیا تو چرچل نے پوچھا کیا ہماری فورس کام کررہی ہیں جس پر اس کو جواب ہاں میں دیا گیا تو اس نے کہا پھر ہمیں ڈر نہیں ہم جنگ جیت جائیں گے ۔اس سوال کہ زرداری کی ہر کرپشن میں ذوالفقار مرزا ان کے رائٹ ہینڈ تھے اور وہ سب کرپشن جانتے ہیں کے جواب میں اعجاز شاہ نے کہا یہ باتیں تو ذوالفقار مرزا نے چار سال پہلے کی تھیں جب نواز شریف کی حکومت تھی پی ٹی آئی کی نہیں اس وقت نواز شریف کو ان کو گرفتار کرنا چاہئے تھا ۔انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ ایم کیو ایم کے تقریباً ہر جرائم سے واقف ہیں تاہم انہوں نے یہ بھی وضاحت دی کہ ایم کیو ایم کے لوگ جو حکومت کے ساتھ بیٹھے ہیں وہ بانی متحدہ کی آئیڈیا لوجی کے ساتھ نہیں بیٹھیں ہیں ۔ انہوں نے کہا مہاجر تو اپنی مال و دولت ، رشتہ داری چھوڑ کر پاکستان آئے ہیں وہ دہشت گرد نہیں تھے ان کو بانی متحدہ کی آئیڈیالوجی کی تحت دہشت گرد بنادیا گیا مگر اب وہ آئیڈیا لوجی ختم ہوگئی ہے ۔ اب ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ ہم ڈھائی کروڑ کی عو ام کو سمندر میں پھینک دیں ۔

 اس سوال کہ موجودہ حکومت پرویز مشرف دور کا تسلسل ہے اگر نہیں تو پھر آپ یہاں کیسے آگئے کے جواب میں بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کہا اگر یہ پرویز مشرف حکومت کا تسلسل ہوتا تو ان کی پارٹی ہمارے ساتھ ہوتی یا وہ خود ہمارے ساتھ ہوتے ۔ میری یہاں موجودگی اس وجہ سے ہے کہ میں کسی بھی پارٹی میں نہیں رہا ، پرویز مشرف سے تعلق تھا اور ہے ، میں ان کے زمانے میں ان کا ڈی جی آئی بی بھی تھا ۔ 2008ء میں میں نے استعفیٰ دیا کیونکہ میری اور جنرل کیانی کی پلاننگ تھی مسلم لیگ ق کو جتوانے کے بعد میں اس کو undo بھی ہم نے ہی کیا ، کیانی میرے بھائیوں کی طرح ہیں میرے سے چھوٹے ہیں اور مجھ سے سینئر بھی نہیں مگر جنرل بن گئے ۔ق لیگ کی ڈیل بھی انہوں نے ہی پیپلز پارٹی کے ساتھ کروائی تھی اور نام میرا دیا تھا کہ یہ سب معاملات دیکھے گا پیپلز پارٹی سے ڈیل جنرل کیانی نے کی تھی اس لئے انہوں نے ان کو جتوایا بھی ، ق لیگ کو ہم جتوانا نہیں چاہ رہے تھے بس ان کو اتنی سیٹیں دلوانا چاہ رہے تھے جتنی کہ مل گئیں اللہ بخشے بے نظیر کو ان کا مرڈر ہوا تو ان کو زیادہ سیٹیں مل گئیں ورنہ کیانی صاحب کا پلان تو یہی تھا کہ جتنی سیٹیں دینی ہیں اتنی ہی دیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے 10سال اس کے بعد اپنے علاقے سے سیاست کی جس کے بعد میں نے الیکشن لڑا اور سیٹ جیتی۔

مزید : اہم خبریں /قومی /سیاست


loading...