کشمیری تو پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن ہماری حکومت کس کی طرف دیکھ رہی ہے؟ سراج الحق نے بڑا دعویٰ کردیا

کشمیری تو پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن ہماری حکومت کس کی طرف دیکھ رہی ہے؟ ...
کشمیری تو پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن ہماری حکومت کس کی طرف دیکھ رہی ہے؟ سراج الحق نے بڑا دعویٰ کردیا

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاہے کہ کشمیریوں کے حقوق چھینے جارہے ہیں، کشمیری پاکستان اور حکومت امریکہ کی طرف دیکھ رہی ہے,

بھارت کشمیریوں کے حقوق چھین رہاہے ہے ، کشمیری 71سال سے آزادی کی جدوجہد کررہے ہیں،کشمیری اس وقت پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں جبکہ حکومت امریکہ کی جانب دیکھ رہی ہے،حالات نے ثابت کردیاہے کہ مودی اور ٹرمپ نے باقاعدہ منصوبہ بندی سے ہمارے وزیراعظم کو ٹریپ کیا اور وزیراعظم ان کے دھوکے میں آگئے ،ٹرمپ کو ثالثی کا موقع دینا اپنی گردن کاٹنے کے لیے اس کے ہاتھ میں چھری پکڑانے کے مترادف ہے،ٹرمپ کی ثالثی کےاعلان پر خوشیاں منانے والے حکمران تاریخ سے سبق سیکھیں،امریکہ نے ایک بار نہیں بار بار پاکستان کو دھوکہ دیا ہے،کشمیر ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے،پاکستان کی بقا اور سا لمیت کشمیر کی آزادی سے وابستہ ہے،اگر پاکستان کو بنجر اور صحرا بننے سے بچانا ہے تو کشمیر کو آزاد کرانا ہوگا ،پاکستان کی شہ رگ کٹ رہی ہے اور ہمارے حکمران تماشا دیکھ رہے ہیں،اسلام آباد کے سنگ مر مر کے قبرستان میں بیٹھے حکمران نہ اٹھے تو کراچی سے چترال تک غیور پاکستانی اٹھیں گے اور کشمیر کی آزادی کے لیے اپنے کشمیری بھائیوں کا ساتھ دیں گے،سری نگر کو بھارت کا قبرستان نہ بنایا تو انڈیا یہ لڑائی لاہور ، سیالکوٹ اور مظفر آباد تک لے آئے گا ،مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کو الگ ملک بنانے والی اقوام متحدہ کشمیر پر گونگی بہری اور اندھی ہو جاتی ہے،کشمیر کی آزادی کے لیے ایک ہزار سال تک لڑنا پڑا تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، وہ دن آنے والا ہے جب سری نگر پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرائے گا، یکم ستمبر کو کراچی میں کشمیر بچاؤ مارچ کریں گے۔

پشاور میں’ کشمیر بچاؤ مارچ‘ کے  ہزاروں شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہکشمیر ی 72 سال سے آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور اب تک انہوں نے تکمیل پاکستان کی جنگ میں لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیاہے،پوری کشمیری قیادت اور ہزاروں نوجوان جیلوں میں بند ہیں،ہسپتالوں میں لاشوں کے ڈھیر اور زخمیوں کی چیخ و پکار ہے،ہماری بیٹیاں ہمیں پکار رہی ہیں مگر کوئی محمد بن قاسم اور صلاح الدین ایوبی ان کی پکار کو سننے والا نہیں، کشمیری پاکستان اور پاکستانی حکمران امریکہ کی طرف دیکھ رہے ہیں، وزیر اعظم دنیا کو بتاتے ہیں کہ کشمیر میں قتل عام ہونے والا ہے، کیا وزیراعظم کسی اور قتل عام کے انتظار میں ہیں ؟ حکومت کا فرض تھاکہ بروقت فیصلہ کرتی،ہمیں حکومت کی پالیسیاں منظورنہیں ہیں،وزیراعظم کو بتاناچاہتاہوں کہ سانحہ کے بعد مگر مچھ کے آنسو بہانے کا کوئی فائدہ نہیں، اب وقت ہے کہ جرأت کا مظاہرہ کریں اور احمد شاہ ابدالی اور محمود غزنوی کی طرح کشمیری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی حفاظت کریں ،ہم اس حکومت کو کچھ دن مزید موقع دیں گے، اگر حکمرانوں نے کشمیریوں کی کوئی عملی مدد نہ کی تو پاکستان کے عوام آزاد کشمیر کے بھائیوں کے ساتھ ایل او سی پر لگی باڑ کو خود گرا دیں گے،اگر اس لمحے بھی حکومت آگے نہ بڑھی تو سقوط غرناطہ اور سقوط ڈھاکہ سے بڑا سانحہ ہوگا ۔

سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہوزیراعظم کہتے ہیں امت کہاں ہے؟میں انہیں بتانا چاہتاہوں کہ امت موجود ہے مگر امت پر مسلط حکمران ملی غیرت و حمیت سے عاری ہیں، لاکھوں کشمیریوں کا قاتل مودی ہماری فضائیں استعمال کر رہاہے اور حکومت تماشا دیکھ رہی ہے ،مودی کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور کچھ مسلم حکمران مودی کو اعلیٰ ترین ایوارڈ دے رہے ہیں، یواے ای کامودی کوایوارڈکشمیریوں اورعالم اسلام سے بےوفائی ہے جس پر پورے عالم اسلام کے سرشرم سے جھک گئے ہیں۔

کشمیر بچاؤ مارچ  سے امیر جماعت اسلامی خیبر پی کے سینیٹر مشتاق احمد خان ، امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر خالد محمود ، امیر جماعت اسلامی پشاور عتیق الرحمن اور دیگر نے بھی خطاب کیا ،اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان قیصر شریف بھی موجود تھے ۔

مزید : قومی


loading...