نیازی حکومت کشمیر کی صورتحال سے پیشگی آگاہ تھی،حکومت کے خاتمے کیلئے مارچ اکتوبر میں ہی ہوگا:مولانا فضل الرحمن

نیازی حکومت کشمیر کی صورتحال سے پیشگی آگاہ تھی،حکومت کے خاتمے کیلئے مارچ ...
نیازی حکومت کشمیر کی صورتحال سے پیشگی آگاہ تھی،حکومت کے خاتمے کیلئے مارچ اکتوبر میں ہی ہوگا:مولانا فضل الرحمن

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نیازی حکومت نے کشمیر معاملے پر مجرمانہ غفلت سے کام لیا،نیازی حکومت کشمیر کی صورتحال سے پیشگی آگاہ تھی،ہزاروں مسلمانوں کے قاتل کو ایوارڈ دینے سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے،یو اے ای حکومت مودی سے ایوارڈ واپس لے، وفاقی دارالحکومت میں نااہل حکومت کے خاتمے کے لیے آزادی مارچ اکتوبر میں ہی ہو گا۔

نجی ٹی وی کے مطابق جمعیت علمائے اسلام ف کے شوریٰ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں آزادی مارچ اکتوبر میں ہی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے حزب اختلاف کی جماعتوں کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے گی،وزیر داخلہ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر ملک میں انارکی پھیلا رہے ہیں وہ کس کھیت کی مولی ہیں جو ہمیں ڈرا دھمکا رہے ہیں؟میں وزیر داخلہ کو دعوت دوں گا کہ وہ ہمارے قافلوں کا استقبال دیکھیں ہمارے کارکنان پر امن لوگ ہیں۔مولانا فضل الرحمن  نے کہا کہ حکومت کی ایک سالہ کارکردگی سے مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے جبکہ جبری طور پر اس حکومت کو ہم قوم پر مسلط نہیں ہونے دیں گے،پاکستان کے اسلامی تشخص کے لیے ہم اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔

مولانا فضل الرحمان نےکہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت انسانی حقوق بری طرح پامال ہو رہے ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی سوالیہ نشان ہے،ہماری جماعت اور پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے انتخابی منشور میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کا ذکر موجود تھا لیکن ہماری حکومت نے مجرمانہ غفلت سے کام لیا، ہم کشمیریوں کے ساتھ حکومت کی مجرمانہ پالیسی کو بھی اپنی احتجاج تحریک کا حصہ بنائیں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری جماعت اور پوری قوم کشمیریوں کے جدوجہد میں ان کے ساتھ شانہ بشانہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کی صورتحال انتہائی گھمبیر ہے، وہاں اس وقت انسانی حقوق پوری طرح پامال ہو رہے ہیں، اس کے باوجود اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظمیں خاموش ہیں، یہ ایک سوالیہ نشان ہے، اس پر اقوام متحدہ کو پوزیشن واضع کرنی چاہیے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مدارس کی تنظیمیں حکومت کے ساتھ مذکرات کو معطل کریں کیونکہ موجودہ حکومت نااہل بھی ہے اور مدارس کے حوالے سے بدنیت بھی ہے۔

مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ مہنگائی نے غریب شخص سے جینے کا حق چھین لیا ہے،معاشی طور پاکستان دیوالیہ پن کے دہانے پر ہے،جب تک یہ حکومت ہے کشمیربک جائے گا،وزارت خارجہ اور سفارت خانے بڑی طاقتوں کے خوش آمدی مرکز بن چکے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہزاروں مسلمانوں کے قاتل کو ایوارڈ دینے سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے اور ہم متحدہ عرب امارات کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہے کہ مودی سے ایوارڈ واپس لیں۔

مزید : قومی


loading...