پاکستان علماء کونسل نے محرم الحرام میں امن وا مان کےقیام کیلئے تمام مکاتب فکر کی مشاورت سے 10 نکاتی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا

پاکستان علماء کونسل نے محرم الحرام میں امن وا مان کےقیام کیلئے تمام مکاتب ...
پاکستان علماء کونسل نے محرم الحرام میں امن وا مان کےقیام کیلئے تمام مکاتب فکر کی مشاورت سے 10 نکاتی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان علماء کونسل نے محرم الحرام میں امن وا مان کےقیام کیلئے تمام مکاتب فکر کی مشاورت سے مرکزی چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی سربراہی میں ضابطہ اخلاق جاری کر دیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان علماء کونسل کے سربراہ اور متحدہ علما بورڈ کے چیئرمین علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی کی سربراہی میں تمام مکاتب فکر کے جید علما و مشائخ نے محرم الحرام کی آمد سے قبل ضابطہ اخلاق جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہمذہب کے نام پر دہشت گردی ، قتل و غارت گری خلاف اسلام ہے، تمام مکاتب فکر اور تمام مذاہب کی قیادت اس سے مکمل اعلان برأت کرتی ہے، کوئی مقرر ، خطیب ، ذاکر یا واعظ اپنی تقریر میں انبیا ء علیہ السلام ، اہل بیت اطہار ؓ ، اصحاب رسول ؓ ، خلفائے راشدین ؓ ، ازواج مطہرات  ؓ ، آئمہ اطہار اور امام مہدی کی توہین نہ کرے اور ایسا کرنے والے کی کسی مسلک کے نمائندے سفارش نہیں کریں گے۔ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہکسی بھی اسلامی فرقے کو کافر قرار نہ دیا جائے اور کسی بھی مسلم یا غیر مسلم کو ماورائے عدالت واجب القتل قرار نہ دیا جائے اور پاکستان کے آئین کے مطابق تمام مذاہب اور مسالک کے لوگ اپنی ذاتی اور مذہبی زندگی گزاریں۔ اذان اور عربی کے خطبے کے علاوہ لاؤڈ سپیکر پر مکمل پابندی ہو اور اس کے علاوہ تمام مذاہب اور مکاتب فکر کے لوگ اپنے اپنے اجتماعات کیلئے مقامی انتظامیہ سے اجازت لیں۔ شر انگیز اور دل آزار کتابوں ، پمفلٹوں ، تحریروں کی اشاعت ، تقسیم و ترسیل نہ ہو ، اشتعال انگیز اور نفرت انگیز مواد پر مبنی کیسٹوں اور انٹر نیٹ ویب سائیٹوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے ۔ د ل آزار اور نفرت انگیز اور اشتعال انگیز نعروں سے مکمل اعراض کیا جائے اور آئمہ ، فقہ ، مجتہدین کا احترام کیا جائے اور ان کی توہین نہ کی جائے۔عوامی سطح پر مشترکہ اجتماعات منعقد کر کے ایک دوسرے کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے۔پاکستان میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم بھی رہتے ہیں ، لہذا شریعت اسلامیہ کی رو سے غیر مسلموں کی عبادت گاہوں ، ان کے مقدسات اور ان کی جان و مال کا تحفظ بھی مسلمانوں اور حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے ، لہذا غیر مسلموں کی عبادت گاہوں ، ان کے مقدسات اور ان کے جان ومال کی توہین کرنے والوں سے بھی سختی کے ساتھ حکومت کو نمٹنا چاہیے ۔ حکومت ایکشن پلان پر بلا تفریق مکمل عمل کرائے ۔مجالس اور جلوسوں کے اوقات کی پابندی کی جائے اور جلوسوں کے راستوں اور مجالس کے مقامات کے تحفظ کیلئے حکومت اور مقامی ذمہ داران کے درمیان رابطوں کا مؤثر نظام بنایا جائے۔کسی بھی حادثہ کی صورت میں مقامی امن کمیٹی کے اراکین فوری طور پر حادثہ کے مقام پر پہنچیں اور عوام الناس کو ہر قسم کی اشتعال انگیزی اور نفرت انگیزی سے دور رکھا جائے

مزید : علاقائی /اسلام آباد


loading...