پاکستان کی جانب سے بھارتی بیان مسترد

پاکستان کی جانب سے بھارتی بیان مسترد

  

دفتر خارجہ نے پاک چین وزرائے خارجہ سٹرٹیجک ڈائیلاگ کے مشترکہ اعلامیہ پر بھارتی بیان سختی سے مسترد کر دیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دینا نہ صرف مضحکہ خیز ہے،بلکہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور تاریخی و قانونی حقائق کے برخلاف بھی ہے۔ ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کو جھٹلایا نہیں جا سکتا، مقبوضہ جموں و کشمیر کو اٹوٹ انگ اور اندرونی معاملہ قرار دینے کے بارے میں خط محض مزاحیہ افسانہ ہے۔ جب بھی پاکستان اور چین مل بیٹھتے ہیں، بھارت کی بوکھلاہٹ دیدنی ہوتی ہے۔ سی پیک کے حوالے سے پاکستان اور چین کا موقف بہت واضح اور صاف ہے۔ بھارت سی پیک  کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کرکے دنیا کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے، جس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔بھارت سی پیک کی اہمیت سے بخوبی واقف ہے یہی وجہ ہے کہ سی پیک کے تحت منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان اور خطے میں خوشحالی کی نوید بھارت کوہضم نہیں ہو رہی۔

 مسئلہ تو یہ ہے کہ بھارت اپنی ہی بنائی ہوئی کسی دنیا میں مگن ہے، وہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ توقرار دیتا ہے لیکن اہل کشمیر پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔اس سے قبل آئین میں ترمیم کر کے مقبوضہ کشمیر کو مزید مقبوضہ بنانے کی کوشش بھی کی جا چکی ہے۔ ایک برس سے زائد ہونے کو آیا، اہل کشمیر کرفیو میں زندگی گزار رہے ہیں،کاروبار زندگی نہ ہونے کے برابر  ہے۔پاکستان نے ہر قومی اور بین الاقوامی فورم پر اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی، گزشتہ برس وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے معاملے کا حل تلاش کرنے پر پوری شدت سے زور دیا، ان کی اس تقریر نے ہر انسان کے دل پر اثر کیا لیکن بھارتی حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔

بھارت میں موجود مودی سرکار تو بے لگام بھینسے کی طرح معلوم ہوتی ہے، جہاں اس کے سینگ سماتے ہیں اسی طرف کو چل پڑتی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں پر زمین تنگ کرنے کے لئے شہریت کے قانون میں بھی تبدیلی کر دی گئی، اس متنازع قانون کے بعد سے وہاں مسلمانوں پر تشدد کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔خود کو سیکولر کہنے والے بھارت کا اصل چہرہ پوری دنیا کے سامنے ہے۔بھارت کے تواپنے اندرونی حالات بدسے بدتر ہوتے جا رہے ہیں، وہ کورونا وباء سے نمٹنے میں ناکام نظر آ رہا ہے،کروڑوں افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، رہنے کو چھت نہیں ہے۔ پھر بھی اسے پاکستان کے خلاف محاذ کھڑا کرنے میں زیادہ دلچسپی ہے۔ امریکہ کے ایوان نمائندگان سے لے کر یورپی یونین کے ارکان سمیت پوری دنیا مقبوضہ کشمیر میں مظلوم کشمیریوں کی نسل کشی، خواتین کی بے حرمتی اور اہل کشمیر پر ہونے والے مظالم سے بخوبی واقف ہے۔اب ضرورت ہے تو اس بات کی کہ بین الاقوامی طاقتیں سامنے آئیں اور بھارت کا راستہ روکیں۔ 

 اس بات کا امکان موجود ہے کہ جوں جوں سی پیک تعمیر اور تکمیل آگے بڑھے گی، بھارت اور اس کے حواریوں کی بد ہضمی بھی بڑھے گی۔ خطے میں امن و امان کی صورت حال خراب کرنے کی کوششیں تو پہلے سے ہی جاری ہیں تاہم پاکستان اور چین پر عزم ہیں کہ وہ سی پیک کے حوالے سے ہر قسم کے چیلج کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں، یہی وجہ ہے سی پیک کے کام میں ایک مرتبہ پھر تیزی آ گئی ہے۔پاکستان، بھارت کو مذاکرات اور خطے کے مسائل کے حل کے لئے کئی مرتبہ مل بیٹھنے کی دعوت دے چکا ہے،کئی مرتبہ مذاکرات کا آ غاز بھی ہوا لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔بھارت کوئی نہ کوئی عذر تراش کر مذاکرات کا سلسلہ منقطع کر دیتا ہے۔ اب بھی وقت ہے بھارتی قیادت ہوش کے ناخن لے، جھوٹے دعوؤں اور پراپیگنڈے کی بجائے خطے کی صورت حال کا حقیقت پسندی سے ادراک کرے، اس خطے کو پر امن بنانے کے لئے مثبت قدم اٹھائے۔مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سنجیدگی اپنائے، اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل کرے۔اس سلسلے میں عالمی برادری کو بھی بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہئے۔ بھارت کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ طلم و تشددکے ذریعے کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ الٹا بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔مسئلہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، بالآخر مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوتا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -