لاہور کی خوبصورتی اور ترقی: وزیراعلیٰ کا خواب!

لاہور کی خوبصورتی اور ترقی: وزیراعلیٰ کا خواب!

  

کراچی کے مسائل حل کرنے کے لئے وفاق اور صوبہ سندھ کی چھ رکنی کمیٹی کا پہلا اجلاس ہونے اور متعدد اہم فیصلوں کے بعد اب  ان منصوبوں کی تکمیل کے لئے وقت اور رقم درکار ہے۔ سندھ کے وزیراعلیٰ نے دس ارب ڈالر کے تخمینے کا ذکر کیا ہے۔وہاں دو، بلکہ تین جماعتوں کے درمیان رسہ کشی ہے اور یہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ تاہم پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی صورت حال مختلف ہے، دونوں صوبوں میں ایک ہی جماعت کی حکومت ہے، جو وفاق میں بھی برسراقتدار ہے، اس لئے پشاور، راولپنڈی اور لاہور جیسے بڑے شہروں کو درپیش مسائل حل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے، اس کے باوجود حالیہ بارشوں نے ان شہروں کے عمومی معاملات کو بھی اجاگر کر دیا۔یہاں پر بھی عوام کو  ٹرانسپورٹ، ٹریفک، سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ اور نکاسیء آب کے ساتھ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی جیسی مشکلات  کا سامنا ہے۔لاہور پنجاب کا دارالحکومت ہے لیکن عوام لاتعداد مسائل کا شکارہیں۔ اب خبرتو یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے اپنی ذاتی توجہ صوبائی دارالحکومت کی طرف مبذول کر دی ہے۔ گزشتہ روز ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا اس میں وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ حکام کی کارکردگی کے حوالے سے کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، سب کو کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب وہ خود براہ راست لاہور کی ترقی کی نگرانی کے فرائض سرانجام دیں گے۔ لاہور کو خوبصورت بنانے کے لئے پارکوں، سبزہ زاروں، سٹریٹ لائٹس، ٹریفک کے نظام کی بہتری، سڑکوں، گلیوں کی مرمت، نکاسیء آب کے نظام اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔فی الحال تو وزیراعلیٰ کے اس عزم اور فیصلے کی تعریف ہی کی جا سکتی ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ اس پر عملدرآمد بھی ہو گا۔وزیر اعلیٰ نے لاہور کو مسائل سے پاک کرنے کے لئے پندرہ رکنی وزارتی کمیٹی بھی بنا دی، اللہ یہ جذبہ سلامت رکھے۔ وزیراعلیٰ نے لاہور کے حوالے سے فیصلہ کیا ہے تو ان کے پیش نظر یہ بھی ضرور ہوگا کہ یہاں ترقیاتی ادارے، نکاسی و فراہمی آب کی اتھارٹی اور سبزہ زاروں کی بہتری کی اتھارٹی اور ساتھ ہی ساتھ بلدیاتی ادارے بھی موجود ہیں۔افسوس تو یہ ہے کہ  ان سب کے ہوتے ہوئے مسائل حل نہیں ہوئے، بلکہ بڑھے ہی ہیں۔ نکاسیء آب ہی ایک بہت بڑی پریشانی ہے،اب تو جب بھی بارش ہوتی ہے مختلف مقامات پر کئی کئی دن پانی کھڑا رہتا ہے۔  برساتی نالے سکڑ گئے، ان پر تجاوزات قائم کر لی گئیں۔ حال ہی میں صوبائی حکومت نے لکشمی چوک سمیت شہر کے دیگر ایسے مقامات پر زیرزمین ٹینک بنا کر برساتی پانی جمع کرکے بعدازاں استعمال کا منصوبہ بنایا اور پہلے منصوبے پر کام بھی شروع کر دیا گیا تھا، لیکن کام کی رفتارتسلی بخش نہیں معلوم ہوتی۔ اب وزیراعلیٰ نے یہ ذمہ داری براہ راست خود سنبھالی ہے تو ان تمام مسائل کا درست ادراک کرکے منصوبے بننے چاہئیں اور عملی شکل بھی جلد سامنے آنی چاہئے،کہیں یہ سب اقدامات بھی صرف دل بہلانے کا سامان نہ ثابت ہوں۔

مزید :

رائے -اداریہ -