بلدیاتی نظام اورمقامی حکومت

بلدیاتی نظام اورمقامی حکومت
بلدیاتی نظام اورمقامی حکومت

  

پاکستان میں جمہوریت کے نام پر جو سیاسی تماشہ کئی عشروں سے لگایا جا رہا ہے اس میں مقامی حکومتوں کا نظام بھی ہے۔ اگرچہ سیاسی جماعتیں اس مقامی نظام حکومت کو جمہوریت کی بنیادی اکائی سمجھتی ہیں،جس کے بغیر جمہوریت مضبوط بنیادوں پر استوار نہیں ہو سکتی،لیکن اگر ان مقامی حکومتوں کے ساتھ کسی نے سب سے بڑا استحصال کیا ہے تو وہ  سیاسی جماعتیں ہیں، جنہوں نے اس نظام کو کمزور کیا ہے۔ ملک میں چار سال پہلے جو مقامی حکومتوں کے الیکشن ہوئے، بالخصوص پنجاب اور سندھ میں وہ سیاسی جماعتوں کی قیادت کی خواہش سے زیادہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے دباؤ کا نتیجہ تھے۔1973ء کے آئین کے تحت تمام صوبائی حکومتیں پابند ہیں کہ آئین کی شق140 A کے تحت نہ صرف مقامی نظام کے الیکشن کو   یقینی بنائیں، بلکہ اس نظام کو آئین و دستور کے تحت سیاسی، انتظامی اور مالی خود مختاری بھی دیں۔ اگر دیانت داری سے موجودہ مقامی حکومتوں کے نظام کے آئین کی شق140 A کے تحت جائزہ لیا جائے تو یہ نظام اس دستور کی نفی کرتا ہے۔ پنجاب میں موجودہ حکومت نے بلدیاتی نظام اور بلدیاتی نمائندوں کو ختم کیا ہوا ہے، شنید ہے کہ کوئی نظام پنجاب میں لاگو کیا جائے گا اور یہ نظام شائد عوام کی توقعات پر پورا نہیں اُتر سکے گا۔اس میں نظام بنانے والوں نے کس طرح کی عوامی ترجمانی اور عوام کے حقوق کے حصول کو واضح کیا ہے، کیونکہ صوبائی حکومتوں نے 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں سے اضلاع کو اختیار دینے یا اس نظام کو طاقتور بنانے یا با اختیار بنانے کی بجائے اس  نظام کو صوبالی کنٹرول میں رکھ کر عملی طور پر18ویں ترمیم کی بھی نفی کی ہے،جس میں تمام اختیارات کا مرکز، صوبائی حکومت بالخصوص وزیراعلیٰ کو بنا دیا گیا ہے، صوبائی حکومتیں اپنے طے شدہ مقررہ وقت میں انتخابات نہیں کروا سکیں گی، کہ سیاسی سمجھوتوں یا سیاسی مفادات کا شکار ہیں۔

ملک میں مقامی حکومتوں خصوصاً پنجاب میں اس نظام کو فی الحال ختم کر دیا گیا ہے۔ سندھ میں بھی انتشار ہے، اب اس نظام کی سیاسی ساکھ، صحت اور مستقبل پر سوال اٹھایا جا  رہا ہے کہ یہ نظام کہاں کھڑا ہے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت کا مینڈیٹ نئے انتخابات تک محدود ہے۔  ایسے میں یہ مقامی حکومتوں کا نظام کیسے چلے گا،اس کا مستقبل کیا ہو گا؟ یہ بھی سوالیہ نشان ہے۔ کیا ملک میں مختلف افواہوں کی وجہ سے اس نظام کا خاتمہ تو نہیں ہو جائے گا۔ خدشہ یہ ہے کہ مقامی نظام کی مدت تقریباً ختم ہو چکی ہے، اب آگے اس پر کس طرح عمل ہو گا؟ کیا صوبہ پنجاب میں بلدیاتی نظام کی کوئی نئی شکل متعارف کروائی جا رہی ہے، وہ عام انتخابات کے تناظر میں کہیں سیاسی استحصال کا شکار نہ ہو جائے؟  اب پہلے مقامی حکومتوں کے الیکشن کا  وقت ہے، جو لیٹ ہو رہا ہے اس کے بعد2023ء میں عام انتخابات ہونے  ہیں۔ یہ نظام حکومتی جماعت کو فائدہ اور حزبِ اختلاف کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور انتخابات کے عمل کی شفافیت اور نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے،اِس لئے یہ امکان موجود ہے کہ بلدیاتی الیکشن کو فی الحال ملتوی کر کے بلدیاتی نظام کوجو پہلے ہی معطل ہے،  کے اختیارات کو ختم کر کے ایڈمنسٹریٹر لگا دیئے جائیں  گے، جو حکومت وقت کے مفادات کا تحفظ کر سکیں اگر اس طرح کا کوئی قدم اٹھایا گیا اور بلدیاتی الیکشنوں کو عام الیکشنوں تک ملتوی کر دیا گیا یا نظام کی تبدیلی کی طرف حالات چلے گئے تو پھر بلدیاتی انتخابات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ صوبے کی بیورو کریسی  پہلے ہی بلدیاتی نمائندوں سے بہت زیادہ خوش نہیں ہے،حالانکہ بلدیاتی نظام نہ ہونے کے برابر ہے۔ سندھ میں ہے، خیبرپختونخوا میں ہو گا، بلوچستان میں ہو گا، پنجاب میں تو بلدیاتی نمائندے فارغ کر دیئے گئے ہیں، اب تو حالات بالکل بلدیاتی الیکشنوں کے خلاف ہیں، مہنگائی سرفہرست ہے، تو پھر حکومتی نمائندے کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں؟

 پنجاب میں تو پہلے ہی صوبے کا سارا نظام مجموعی طور پر بیس سے زیادہ اتھارٹیوں کی مدد سے چلایا جا رہاہے یہ اتھارٹیاں مقامی حکومتوں کی نفی ہیں اور یہی اتھارٹیاں مقامی حکومتوں کے نظام کو ختم کرنے کے  در پے ہیں۔ ان کا نظام چلانے والے طاقتور بیورو کریٹ ہیں اور ان اتھارٹیوں کے ذریعے سارا کنٹرول حکومت نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ ان میں تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ،فوڈ، سینی ٹیشن، پائپوں کی صفائی وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تمام اتھارٹیاں ضلعی انتظامیہ کو نہیں، بلکہ صوبائی حکومت کو جوابدہ ہیں۔ یہ اتھارٹیاں عملی طور پر کمشنروں، ریجنل پولیس آفیسرز، ڈی سی اوز، ڈی پی اوز اور چیف سیکرٹری کی مدد سے چلائی جا رہی ہیں،جو مقامی نظام کے خلاف ہے۔عام انتخابات کے تناظر میں تمام صوبائی حکومتیں وہ ترقیاتی فنڈز اور وسائل و ختیارات کی مدد سے پوری توجہ عام انتخابات کی سیاست پر دیں گی، ان کی ترجیح مقامی منتخب نمائندے نہیں،بلکہ اس وقت کے ایم این اے اور ایم پی اے یا حکومتی جماعتوں کے  متوقع امیدوار ہوں گے،ان کی مدد سے علاقوں میں فنڈز خرچ کر کے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ سابقہ روایات ہیں، ہو سکتا ہے اب اس طرح نہ ہو، عملی طور حلقوں میں اثرو رسوخ رکھنے والے معطل شدہ بلدیاتی نمائندوں کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، ہو سکتا ہے بلدیاتی الیکشن عام الیکشنوں سے پہلے ہو جائیں، بظاہر تو مشکل نظر آ رہا ہے، لیکن آئندہ الیکشنوں میں حالات کچھ بھی ہو سکتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -