انڈین فضائیہ کو 42فائٹر سکواڈرنوں کی ضرورت کیوں؟(1)

انڈین فضائیہ کو 42فائٹر سکواڈرنوں کی ضرورت کیوں؟(1)
انڈین فضائیہ کو 42فائٹر سکواڈرنوں کی ضرورت کیوں؟(1)

  

کل کے کالم میں انڈین ائر فورس کا ذکر پڑھ کر ڈنمارک (سویڈن) کے ایک پاکستانی قاری نے ای میل کے ذریعے کہا ہے کہ کسی کالم میں انڈین اور پاکستانی ائر فورسز کا موازنہ بھی بتائیں تاکہ جو پاکستانی بیرونِ ملک مقیم ہیں وہ اپنے انڈین ’دوستوں‘ سے کھل کر بات کر سکیں کہ پاکستان کی دفاعی حیثیت ایسی بھی کمتر اور کمزور نہیں کہ اس کو خاطر میں نہ لایا جائے۔ یہ محترم قاری میرے کالم کے اس فقرے کا حوالہ دے رہے تھے جس میں، یہ حقیقت بیان کی گئی تھی کہ: ”پاکستان، بھارت کے مقابلے میں ایک چھوٹا ملک ہے اور اسی نسبت سے اس کی ڈیفنس انڈسٹری بھی چھوٹی ہے“…… میں ان شاء اللہ کسی اگلے کالم میں بتاؤں گا کہ پاکستانی دفاعی صنعت کتنی ’چھوٹی‘ اور انڈین دفاعی صنعت کتنی ’بڑی‘ ہے!

فی الوقت یہ دیکھتے ہیں کہ انڈین میڈیا اپنی فضائیہ کو پاکستان کے مقابلے ہی میں نہیں بلکہ چین اور پاکستان دونوں کے مقابل رکھ کر تبصرے اور تجزیئے کرتا رہتا ہے۔ انڈین تبصرہ نگار اور تجزیہ گو  حضرات جن میں کئی ریٹائرڈ جرنیل اور ائر مارشل وغیرہ شامل ہیں یہ کہتے نہیں تھکتے کہ اگر انڈین ائر فورس کے پاس حکومت کی طرف سے منظور شدہ 42 فائٹر سکواڈرن ہوں تو  وہ بیک وقت چین اور پاکستان کی ائر فورسز کو ہر لیول کے فضائی معرکوں میں نیچا دکھا سکتی ہے۔ حال ہی میں انڈیا نے فرانس سے جن پانچ رافیل طیاروں کو اپنی فضائیہ میں انڈکٹ کیا ہے اس تناظر میں اس کی اَنا کا غبارہ بہت پھول گیا ہے۔ درج ذیل سطور میں بھارت کے ایک ریٹائرڈ ائر فورس آفیسر ونگ کمانڈر کے ٹی سباسٹین (K.T.Sebastian) کے تبصرہ کا ایک حصہ پیش کیا جا رہا ہے جو دو روز قبل (22اگست) ایک معروف انڈین روزنامے ’دکن ہیرالڈ‘ میں شائع ہوا ہے۔

یہاں قارئین کو یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ائر فورس، باقی دو آرمڈ فورسز (گراؤنڈ فورس اور نیول فورس) کے مقابلے میں ایک جدید تر فورس ہے۔ اس کی ایجاد کو تقریباً ایک صدی گزری ہے۔ لیکن اس کی دفاعی تاثیر (Impact) اتنی کارگر اور نمایاں ہے کہ فوج کی باقی دو سروسز (آرمی اور نیوی) اس کی ’مشروط برتری‘ تسلیم کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔ ونگ کمانڈر سباستین لکھتا ہے کہ انڈین ائر فورس میں حال ہی میں فرانس کے پانچ رافیل فائٹر طیارے انڈکٹ کئے گئے ہیں لیکن چین کے ساتھ جھڑپوں کے تناظر میں ان طیاروں کی آمد کا جو واویلا انڈین میڈیا نے مچایا ہے اس کی کوئی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ ان رافیل طیاروں کی انڈکشن سے پہلے بھی تو بھارتی فضائیہ میں لڑاکا طیارے شامل کئے جاتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر 1990ء کے عشرے کے اواخر میں رشین ساختہ SU-30MKI اور اس سے بھی پہلے 1980ء کے عشرے کے اوائل میں برٹش جیگوار اور سوویٹ مگ۔29فائٹرز، بھارتی فضائیہ میں شامل کئے گئے تھے لیکن اس وقت ان کا کوئی نمایاں ذکر کسی انڈین اخبار نے شہ سرخیوں میں شائع نہیں کیا تھا…… اور آج اپنے ٹیلی ویژن چینلوں کو دیکھ لیں۔ ان رافیل طیاروں کی تمام تر تکنیکی صلاحیتوں مثلاً ان کی ایوی آنکس، سیٹلتھ، ہتھیاروں کا پے لوڈ، پروازی رینج، فضا میں ایندھن بھرنے اور اس طرح کی دوسری اہلیتوں کا تذکرہ بڑی تفصیل سے شائع اور آن ائر کیا جا رہا ہے۔

آج انڈین ائر فورس کے پاس 33 فائٹر سکواڈرن ہیں۔ ہر سکواڈرن میں 16طیارے ہوتے ہیں اور ان کے علاوہ 2ٹریننگ طیارے بھی ہوتے ہیں یعنی ایک سکواڈرن میں 18ائر کرافٹ ہوتے ہیں۔ تربیتی طیارے میں ایک کی بجائے دو نشستیں ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انڈیا کے پاس آج 594 فائٹر ائر کرافٹ میں  (594=18x33)…… یہ تعداد انڈین ائر سپیس کے فضائی دفاع کے لئے اور نیز پاکستان اور چین کا مقابلہ کرنے کے لئے کافی و شافی تعداد ہے…… کہا جاتا ہے کہ پاکستان اور چین کا بیک وقت مقابلہ کرنے کے لئے انڈین ائر فورس کو 42لڑاکا سکواڈرن (756طیارے) درکار ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ انڈیا کو اپنے دونوں حریفوں کا سامنا کرنے کے لئے مزید 150لڑاکا طیارے درکار ہیں۔ لیکن 42سکواڈرن کی یہ تعداد آج سے 40سال پہلے طے کی گئی تھی۔ تب سے اب تک وقت کے پل کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔آج پرانے طیاروں کو جدید ٹیکنالوجی اور جدید سہولیات سے ہمکنار کرنے کے لئے بہت سے وسائل اور ذرائع پیدا ہو چکے ہیں اور بھارتی فضائیہ ان سے فائدہ اٹھا چکی اور اٹھا رہی ہے۔ ان سہولیات میں طیارے کی شیلف لائف کے وسطی برسوں میں اس کی اہلیتوں کو اَپ گریڈ کرنا، ان طیاروں کے ہمراہ اٹیک ہیلی کاپٹروں اور ”ائربورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم“(Awacs) شامل ہیں!

انڈیا کی 42سکواڈرنوں والی متھ (Myth) کا حال بھی سن لیں …… انڈیا کا پہلا ہوا باز جہانگیر رتن ٹاٹا تھا جس کو بھارتی حکومت نے اعزازی طور پر میجر جنرل (ائر وائس مارشل) کا رینک دے رکھا ہے۔ اس کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔امبانی اور ٹاٹا، انڈیا کی دو ارب پتی کارپوریٹ کمپنیاں ہیں۔ جہانگیر رتن ٹاٹا بھی ان میں سے ایک کا بڑا قد آور سپوت شمار ہوتا ہے۔ اسے طیاروں، طیارہ سازی اور ہوابازی کا عشق نہیں، جنون تھا۔ اس کا ذکر پھر کبھی سہی۔ فی الحال قارئین کو یہ بتانا ہے کہ حکومتِ ہندوستان نے 1960ء میں اس کو کہا کہ وہ یہ بتائے کہ ملک کی جاری دفاعی صورت حال کے پیش نظر انڈیا کو اپنے فضائی دفاع کے لئے کتنے فائٹر سکواڈرنوں کی ضرورت ہو گی۔ یاد رہے کہ اس وقت بنگلہ دیش کا کوئی وجود نہ تھا۔ انڈیا کو مشرقی پاکستان، مغربی پاکستان اور چین کی طرف سے فضائی حملوں کے خطرات تھے۔ یعنی مشرقی، شمالی اور مغربی جوانب سے خطرات (Threats) کا ایک سلسلہ درپیش تھا۔ اس دور میں انڈین ائر فورس جنگ عظیم دوم میں استعمال ہونے والے امریکی بمبار طیاروں کا ایک فضائی بیڑا رکھتی تھی۔ مگ21 رشین فائٹر طیارے تو بعد میں انڈکٹ کئے گئے۔ مسٹر ٹاٹا نے 1960ء میں حکومت کو سفارش کی کہ انڈیا کو اپنے فضائی دفاع کے لئے 42سکواڈرنوں (فائٹر ائر کرافٹ) کی ضرورت ہے…… تب سے لے کر آج تک 42سکواڈرنوں کی یہ تعداد ہر جگہ کوٹ کی جاتی ہے!

1960ء کے بعد انڈین ائر فورس میں مگ۔21فائٹر شامل کئے گئے جو اپنے دور کے بہترین لڑاکا طیارے شمار کئے جاتے ہیں۔ ان مگ۔21لڑاکا طیاروں کی بہت سی اقسام تھیں جن میں مختلف اوزان (Payloads) کے مگ۔21 شامل تھے۔ یہ طیارے نہ صرف یہ کہ انڈیا کے فضائی دفاع کے ذمہ دار تھے بلکہ سٹرائیک رول اور گراؤنڈ مشنوں میں بھی استعمال ہوتے تھے۔

قارئین کو یہ بتانا (یا یاد دلانا) بھی شائد ضروری ہو کہ جب ہم کسی طیارے کو ملٹی رول یا ملٹی پرپز (Multi- Purpose) لڑاکا طیارہ کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ طیارہ کئی کرداروں  میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ویسے تو لڑاکا طیارے کا اولین اور اساسی (Basic) مقصد دشمن کے لڑاکا طیاروں سے فضا میں دو دو ہاتھ کرنا ہوتا ہے۔ لیکن یہ طیارہ فضا سے زمین پر بھی کئی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اسے دشمن علاقے کی ریکی کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، اپنی گراؤنڈ فورسز کو فضائی چھاتہ مہیا کرنے کا رول بھی یہ طیارہ ادا کر سکتا ہے (اسے کلوز سپورٹ کہا جاتا ہے) اور وقت پڑنے پر اسے بطور بمبار بھی استعمال کیا جا سکتا ہے(اگرچہ یہ رول شاذ و نادر ہی اس کے ذمے لگایا جاتا ہے)

انڈیا کے روسی ساختہ یہ مگ۔21لڑاکا طیارے اس کے فضائی بیڑے کا ایک عرصہ تک اہم اثاثہ شمار ہوتے رہے۔ بعد میں اگرچہ ان کو اَپ گریڈ بھی کیا گیا لیکن اس کے حریف دوسرے ایسے طیارے بھی ”میدان“ میں آ کودے جن کی تاب یہ مگ نہیں لا سکتا تھا۔ اس کی رینج، رفتار اور اس میں لگے / رکھے اسلحہ جات، حریف طیاروں سے بہت پیچھے رہ گئے۔ جب دورانِ ٹریننگ یکے بعد دیگرے یہ مگ۔21کریش ہونے لگے اور ان کے پائلٹ بھی ایجکشن سیٹ ہونے کے باوجود موت کے منہ میں جانے لگے تو انڈین ائر فورس کو ہوش آیا۔ اس کا فضائی بیڑا چونکہ سینکڑوں مگ۔21طیاروں پر مشتمل تھا اس لئے اس کو یک قلم گراؤنڈ کرنا یا ریٹائر کرنا ممکن نہ تھا۔ اس کثیر تعداد کا بدل خرید کرنا، انڈکٹ کرنا اور اس پر پائلٹوں کو ٹریننگ دینا بھی بہت مشکل تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خود انڈین ائر فورس کے پائلٹ بھی مگ۔21کو ”اڑتا ہوا تابوت“  (Flying Coffin) کہنے لگے۔ ناچار انڈیا نے ان کو ریٹائر کر دیا۔ لیکن ریٹائرمنٹ سے پہلے ان کی اَپ گریڈیشن کی بہت کوششیں کی گئیں …… نہ صرف اپنے ہاں بلکہ ان کو روس بھی بھیجا گیا۔ لیکن ان پر لاگت کا تخمینہ اتنا زیادہ ہو گیا کہ اس سے نئے فائٹرز خریدنے ارزاں معلوم ہونے لگے۔ پھر بھی ایک قلیل تعداد روس کی طرف سے اَپ گریڈیشن کرنے کے بعد باقی رکھ لی گئی۔ ان جدید مگ۔21 کو مگ۔21(Bison) کا نام دیا گیا۔ آج بھی انڈین ائر فورس میں اَپ گریڈ شدہ ان مگ۔21 (Bison) لڑاکا طیاروں کے تین سکواڈرن (54طیارے) موجود ہیں جو ابھی چند برس اور سروس میں رہیں گے اور پھر ریٹائر کر دیئے جائیں گے۔(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -