معاون خصوصی عارف احمد زئی نے کان حادثہ میں زخمی کان کنوں کی عیادت کی 

معاون خصوصی عارف احمد زئی نے کان حادثہ میں زخمی کان کنوں کی عیادت کی 

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے معدنیات عارف احمدزئی پیر کے روز ضلع اورکزئی کے علاقے ڈولہ میں لیز کان حادثے میں زخمی کان کنوں کی عیادت کے لیے برن سنٹر حیات آباد گئے۔ معاون خصوصی کے ہمراہ چیف انسپکٹر آف مائنز خیبرپختونخوا فضل رازق، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نواز خان سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ضلع اورکزئی ڈولہ میں لیز کان میں دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں ایک کان کن شہید جبکہ چار دیگر کان کن زخمی ہوئے تھے۔ معاون خصوصی عارف احمد زئی نے زخمی کان کنوں کے لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کی علاج کے لیے تمام تر سہولیات مہیا کیے جا رہے ہیں۔ علاج معالجہ میں کسی بھی قسم کی کوتاہی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے لواحقین کو یقین دلایا کہ علاج معالجہ و دیگر دی جانے والی سہولیات کا جائزہ میں نے خود لیا ہے۔ جبکہ ہسپتال انتظامیہ کو بھی خصوصی توجہ سے علاج معالجے کی سہولیات دینے کی ہدایت کی ہے۔اس موقع پر معاون معدنیات عارف احمدزئی سے پاکستان مائنز ورکر فیڈریشن کے وفد نے بھی ملاقات کیا۔ عارف احمدزئی نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زخمی افراد کو تمام سہولیات کی فراہمی یقینی بنا رہے ہیں۔ واقعے کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ پر گیس بھر جانے سے اور حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے واقعہ سامنے آیا۔جائے وقوعہ پر ایس او پیز کی خلاف ورزی کا ذکر کرتے ہوئے معاون خصوصی عارف احمدزئی نے کہا کہ متعلقہ مائنز لیز کے مالک کے خلاف قانونی کارروائی ہو رہی ہے۔ اسی سلسلے میں  صوبے میں حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد ہر قیمت پر یقینی بنا رہے ہیں۔حفاظتی ایس او پیز نہ فالو کرنے والے لیز ہولڈرز کو خبردار کرتے ہوئے معاون معدنیات عارف احمدزئی نے کہا کہ جو لیز ہولڈرز معدنی کان میں حفاظتی اقدامات و تدابیر فالو نہیں کریں گے اس کو فی الفور بند کر دیا جائے گا جبکہ قانونی کارروائی بھی ہوگی۔خیبرپختونخوا میں معدنی کانوں میں ایس او پیز بارے بات کرتے ہوئے معاون وزیراعلٰی عارف احمدزئی نے واضح کیا کہ حفاظتی ایس او پیز چیک کرنے کے لیے کمیٹی قائم کر دی ہے۔ یہ کمیٹی ایک مہینے کے اندر رپورٹ پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مائنز ورکر کی سیفٹی ہماری اولین ترجیح ہے۔ اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -