یوم شہید سپینہ تنگی 1930ء، اے این پی کی سردار بابک کی قیادت میں ریلی 

  یوم شہید سپینہ تنگی 1930ء، اے این پی کی سردار بابک کی قیادت میں ریلی 

  

بنوں (نمائندہ پاکستان)یوم شہدائے سپینہ تنگی1930کی یاد میں عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک کی قیادت میں ریلی نکالی گئی اور تحصیل ڈومیل میں جلسے کا انعقاد کیا گیا تحصیل صدر ملک شیروز خان خوجڑی سے جلوس لیکر ریلی میں شامل ہوئے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک،مرکزی رہنما وسابق سینیٹر حاجی باز محمد خان،صوبائی سینئر نائب صدر خوشدل خان ایڈوکیٹ،صوبائی ڈپٹی سیکرٹری تیمور باز خان،صوبائی کلچرل سیکرٹری ڈاکٹر حادم حسین ودیگر مقررین نے کہا کہ ہم صوبائی صدر ایمل ولی خان کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے یوم شہدا سپینہ تنگی کو صوبائی سطح پر منایا کیونکہ شہدا ہمارے اصل ہیروز ہیں جنہوں نے پختونوں کے حقوق اور آزادی کیلئے اپنی جانیں قربان کیں لیکن جس مقصد کیلئے انہوں نے قربانیاں دیں وہ مقصد آج بھی ادھورا ہے پاکستان کسی کے خواب دیکھنے سے آزاد نہیں ہوا بلکہ قربانیوں سے حاصل ہوا ہے اور پاکستان کا مقصد زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ پختونوں سمیت تمام اقوام کیلئے برابری کی سطح پر حقوق اور آزادی حاصل کرنا تھا لیکن جن پختونوں نے انگریز کو اس خطے سے بھگایا وہ انگریز کے چلے جانے کے بعد انگریزوں کے غلاموں غلام بن گئے اور پختونوں کیلئے حقوق اور شناخت مانگنے پر باچاخان کو غدار کہا گیا اور جن خدائی خدمتگاروں اور پختونوں نے آزادی کی خاطر جیلیں کاٹیں،جائیدادیں ضبط ہوئیں اور شہادتیں دیں تاریخ میں ان کا ذکر نہیں اور آج ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ اے این پی کے پرچم تلے گھر گھر اور حجرہ حجرہ جاکر پختونوں کو بیدار پریں گے اور اے این پی کیلئے کارکن پیدا کریں گے انہوں نے کہا کہ صوبائی صدر ایمل ولی خان نے صوبے،ضلع،تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر علما ونگ کی تنظیم سازی کے علاوہ پارٹی تنظیم سازی کا اعلان کیا ہے جبکہ خدائی خدمتگار پختونوں کی قربانیوں اور تاریخ پر فل میں بنانے کا اعلا ن کیا ہے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں کو خدائی خدمتگاروں اور آزادی کے شہدا کی قربانیوں سے آگاہ کیا جاسکے۔ جبکہ صوبے بھر میں شمولیتی تقریبات کا انعقاد بھی کیا جائیگا مقررین نے کہا کہ پختونوں کو پاکستان اور مذہب کے نام پر تقسیم کیا جارہا ہے پاکستان میں مذہب کو سیاست اور اقتدار کیلئے استعمال کرنے پر پابندی لگانی چاہیئے کیونکہ پختون پیدائشی مسلمان ہیں اور عاشق رسول ;248; ہیں کسی سے ان کو مسلمان اور عاشق رسول;248; ہونے کا سرٹیفیکیٹ لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے اقتدار میں پختونوں کو شناخت دی اور صوبے کا نام تبدیل کیا صوبائی خود مختاری کیلئے اٹھارویں ترمیم منظور کروائی جو کہ 1973کے آئین کو اصل حالت میں بحال کرتی ہے پختونوں کے ترقی کیلئے پالیسیاں بنای شروع کیں تو دہشت گردی کو ہوا دی گئی ہمارے وزرا،ممبران اسمبلی اور کارکن شہید کئے گئے سردار حسین بابک نے کہا کہ عمران خان جعلی وزیر اعظم ہیں اور انکی حکومت سلیکٹڈ حکومت ہے عمران خان نے126روزہ دھرنے پر صوبے کے حکومت کے وسائل خرچ کئے لیکن ان کا یہ دھرنا پختونوں کیلئے نہیں بلکہ اقتدار کیلئے تھا آ ج وہ صوبہ جہاں سے انہیں سب سے زیادہ ووٹ ملے ہیں 6ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کررہا ہے جبکہ استعمال1700سے2200میگا واٹ ہے لیکن یہاں کے عوام بجلی کیلئے ترس رہے ہیں کرک کی گیس پبجاب کے شہروں تک پہنچ گئی ہے لیکن ضلع کرک کی خواتین آج رائلٹی اور گیس کیلئے سڑکوں پر احتجاج کررہی ہیں صوبے کو بجلی،گیس اور معدنیات کا منافع اور حق نہیں دیا جارہا ہے پاکستان کے خزانے میں چشمہ راٹ بینک کینال منصبے کیلئے190ارب روپے نہیں پنجاب میں موٹر وے کا جال بچھایا گیا ہے لیکن پشاور سے کراچی تک موٹر وے پختونوں کے صوبے کا حق نہیں انہوں نے کہا کہ جس بی آر ٹی پر پی ٹی آئی والے ناچ رہے ہیں وہ پشاور شہر کی تباہی کا منصوبہ ہے کیونکہ اس کو 100ارب روپے میں قرضے لیکر مکمل کیا گیا اور پشاور کی60فٹ شاہرہ کو12فٹ کرکے تجارتی روٹ اور شہر کی خوبصورتی کو تباہ کیا گیا آج صوبے میں تاجروں سے بھتے مانگے جا رہے ہیں نئے اضلاع میں پھر سے پرانے حالات پیدا ہورہے ہیں حکومت کہیں نظر نہیں آرہی ہے حکمران وضاحت کریں کہ نیشنل ایکشن پلان کے مقاصد کہاں تک حاصل کئے گئے انہوں نے کہا کہ 40سالوں میں پختونوں کے حجرے،شادی بیاہ کی تقریبات،سکول اور جنازے بھی محفوظ نہ رہے ان حالات کے ذمہ دار کون ہیں بعد ازاں انہوں نے تحصیل ڈومیل میں یادگار شہدا پر پرچم کشائی کی اور سلامی دی گئی جبکہ فضل قادر شہید پارک میں فضل قادر شہید کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی گئی اس موقع پراے این پی بنوں کے قائمقام صدر دلاسہ خان،جنرل سیکرٹری ناز علی خان،،نائب صدر فہیم خان، تحصیل ککی کے صدر ملک شیروز خان،سابقہ امیدوار نثار خان منڈان،شاہ قیاز باچا،سابق ایم پی اے کرک گل صاحب خان،لکی مروت کے علی سرور خان ودیگر رہنما اور کارکن بھی موجود تھے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -