نیوزی لینڈ حملے، ملزم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو قتل، مساجد نذر آتش کرنا چاہتا تھا: پراسیکیوٹر کا انکشاف

نیوزی لینڈ حملے، ملزم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو قتل، مساجد نذر آتش کرنا چاہتا ...

  

 کرائسٹ چرچ (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)نیوزی لینڈ کی مساجد میں گزشتہ برس کیے گئے حملوں میں ملوث ملزم سے متعلق مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق مساجد پر حملوں میں ملوث آسٹریلوی شہری ملزم برینٹن ٹیرنٹ کی سزا سے متعلق کیس کی سماعت کرائسٹ چرچ کی عدالت میں شروع ہوچکی ہے جو چار روز جاری رہے گی۔دورانِ سماعت عدالت میں کورونا سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں جس کے باعث کورٹ روم کو خالی رکھا گیا اور متعدد افراد نے کورٹ کی کارروائی کو دیگر کورٹ رومز میں ویڈیو لنک پر دیکھا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق پولیس نے ملزم کو قیدیوں کے لباس میں عدالت میں پیش کیا اور سماعت کے دوران ملزم خاموش رہا۔دوران سماعت پراسیکیوٹر نے انکشاف کیا کہ ملزم برینٹن ٹیرنٹ تیسری مسجد کو بھی نشانہ بنانا چاہتا تھا، اس کے علاوہ مساجد کو آگ لگانا اور جتنا ممکن ہوسکے لوگوں کو قتل کرنا ملزم کے اہداف میں شامل تھا۔پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے حالیہ برسوں میں حملوں کی منصوبہ بندی شروع کی اور اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلانا تھا۔پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ملزم نے نیوزی لینڈ میں مساجد کی معلومات جمع کیں جن میں مساجد کا فلور پلان، ان کا مقام اور دیگر تفصیلات شامل ہیں جب کہ ملزم کا مقصد لوگوں کو اس وقت نشانہ بنانا تھا جب وہ عبادت میں مصروف ہوں۔پراسیکیوٹر نے مزید بتایا کہ حملوں سے چند مہینے قبل ملزم کرائسٹ چرچ گیا جہاں اس نے اپنے پہلے ٹارگٹ النور مسجد پر ڈرون اڑایا، ملزم نے ایشبرٹن مسجد اور لائن ووڈ اسلامک سینٹر کو بھی نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا۔پراسیکیوٹر کے مطابق ملزم نے مساجد پر حملے سے قبل گلی میں موجود لوگوں پر فائرنگ کی جنہوں نے جان بچانے کے لیے مسجد کی طرف رخ کیا۔پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ملزم نے گرفتاری کے بعد پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ مساجد پر حملوں کے بعد انہیں آگ لگانا بھی اس کی منصوبہ بندی میں شامل تھا۔برطانوی میڈیا کے مطابق ملزم پر 51 قتل، 40 اقدام قتل اور دہشت گردی کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی ہے جس کے باعث اسے بغیر کسی پرول کے عمر قید کی سزا کا سامنا ہے۔برطانوی میڈیا کا بتانا ہے کہ ملزم کو 17 سال کی سزا ہوسکتی ہے البتہ کیس کی سماعت کرنے والے ہائیکورٹ کے جج کے پاس یہ اختیارات ہیں کہ وہ ملزم کو بغیر پرول کے عمر بھر کے لیے جیل میں قید رکھنے کی سزا سنا سکیں اور اس طرح کی سزا اس سے قبل نیوزی لینڈ میں کبھی نہیں دی گئی۔

مسجد حملہ

مزید :

صفحہ آخر -