سرکاری ملازمین کو گروپ انشورنس دینے کے پابند ہیں،مکیش کمار

  سرکاری ملازمین کو گروپ انشورنس دینے کے پابند ہیں،مکیش کمار

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ کے وزیر پارلیمانی امورمکیش کمار چالہ نے کہا کہ ہے کہ حکومت سندھ سرکاری ملازمین کو گروپ انشورنس دینے کی پابند ہے اور اس سلسلے میں اسٹیٹ لائف سے بات چیت بھی چل رہی ہے انہوں نے یہ بات پیر کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی کے ایک توجہ دلا نوٹس کے جواب میں کہی۔ نصرت سحر کا کہناتھا کہ سرکاری ملازم کی تنخواہ سے مخصوص رقم انشورنس کی مد میں کٹتی ہے لیکن اس کے باوجود وہ گروپ انشورنس سے محروم ہیں۔عدالتی حکم کے باوجود صوبائی حکومت ان ملازمین کو گروپ انشورنس نہیں دی جارہی۔ وزیرپارلیمانی امور مکیش چاولہ نے کہا کہ اس حوالے عدالتی احکامات واضح ہیں جن پر پوری طرح عمل درآمد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ گروپ انشورنس سے متعلق ریٹس کا ایشو ہے،آئندہ کابینہ اجلاس میں اس معاملے کو حتمی شکل دی جائیگی۔ ایم کیوایم پاکستان کے علی خورشیدی نے کراچی میں پانی کی کمی سے متعلق توجہ دلاو  نوٹس پیش کیا۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے بیشتر علاقے خصوصا ضلع غربی میں پانی کی شدید قلت ہے۔حکومت بتائے کب پانی فراہم کریگی؟پارلیمانی سیکریٹری برائے بلدیات سلیم بلوچ نے کہا کہ کراچی کو پانی کی فراہمی کے دو وسائل ہیں۔حب ڈیم سے کراچی کو سو ملین گیلن پانی کا شیئر ملتا ہے،بارشوں کے بعد حب ڈیم بھر چکا ہے۔جتنی قلت پہلے تھی اب اتنی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے تجویز دی ہے کہ حب ڈیم سے کراچی کو ڈیڑھ سو ملین گیلن پانی دیاجائے تاکہ یہ مسئلہ مستقل حل کیا جائے۔ ایم کیو ایم کے رکن صداقت علی نے اورنگی ٹاو ن میں پانی کی کمی سے متعلق توجہ دلاو  نوٹس پر کہا کہ اورنگی ٹاون میں کہاں پانی آرہا ہے بتایا جائے؟حکومت غلط بیانی سے کام لے رہی ہے۔صداقت علی نے اشعار پڑھ دئیے جس پر قائم مقام اسپیکر نے انہیں ٹوکا اور کہا کہ یہاں کوئی مشاعرہ نہیں ہورہا۔

مزید :

صفحہ آخر -