2برسو ں کے دوران حکومتی قرض میں 45فیصد اضافہ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ختم ہو گیا: سٹیٹ بینک 

2برسو ں کے دوران حکومتی قرض میں 45فیصد اضافہ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ختم ہو گیا: ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) وزارت خزانہ نے نئی دستاویز جاری  کر دی ہے جس کے مطابق گزشتہ 2 سالوں میں حکومتی قرض میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری  کی جانے والی نئی دستاویز کے مطابق 2 سالوں میں حکومتی قرضہ جی ڈی پی کے 87 فیصد کے برابر ہوگیا جب کہ قرض میں اضافے کی بڑی وجہ مالی خسارہ پورا کرنے کے لیے لیا گیا قرض ہے۔ دوسری جانب قانون کے مطابق حکومتی قرض جی ڈی پی کے 60 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) کے دور میں حکومتی قرضہ جی ڈی پی کا تقریباً 73 فیصد تھا۔ سٹیٹ بنک کا کہنا ہیحکومت کے موثر معاشی اقدامات کے باعث پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس ہوگیا، جون میں 10کروڑ ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا تھا۔سٹیٹ بینک آف پاکستان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس میں تبدیل ہوگیا، جولائی 2020میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 42کروڑ40 لاکھ ڈالرزتک جا پہنچا جبکہ جون میں 10کروڑ ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا تھا۔اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال اکتوبر سے اب تک 4ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس سرپلس رہا جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 61 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھا جس میں نمایاں بہتری آئی۔مرکزی بینک نے مزید کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس میں بہتری برآمدات میں مسلسل بحالی، ریکارڈ سے زیادہ ترسیلات زر کی بدولت ہے جبکہ اسٹیٹ بینک اور حکومت کی جانب سے متعدد پالیسیوں اور انتظامی اقدامات نے بھی سپورٹ فراہم کی۔بینک نے مزید کہا کہ برآمدات میں بھی بحالی برقرار رہی، جولائی میں برآمدات کی شرح نمو میں مزید 19.7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جون میں 25.5 فیصد رہی۔

حکومتی

مزید :

صفحہ اول -