ریفنڈ ز ملنے سے برآمدات بڑھانے کے نتائج ممکن : چیئر مین پیاف 

ریفنڈ ز ملنے سے برآمدات بڑھانے کے نتائج ممکن : چیئر مین پیاف 

  

 لاہور(سٹی رپورٹر)پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) نے ٹیکس دہندگان کے زیر التواء انکم ٹیکس ریفنڈز جاری کرنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔چیئرمین پیاف میاں نعمان کبیر نے سینئر وائس چیئرمین ناصر حمید خان اور وائس چیئرمین پیاف جاوید اقبال صدیقی کے ہمراہ پریس ریلیز جاری کرتے کہا کہ ایف بی آر کے تحت انڈسٹری کے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریفنڈز کی مد میں پھنسے ہزاروں ملین روپے جلد سے جلد جاری کئے جائیں۔حکومت نے کرونا وبا کی وجہ سے معاشی ابتری کے تناظر میں کاروباری طبقہ کی سہولت کیلئے طویل عرصے سے زیر التواء انکم ٹیکس ریفنڈز جاری کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور تمام ٹیکس گزاروں کو آگاہ کیا گیاہے کہ قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے اپنے متعلقہ ریجنل ٹیکس آفس سے رابطہ کریں۔ نعمان کبیرنے کہا کہ انڈسٹری کاکیش فلو کے رکنے کی وجہ سے ایکسپورٹرز اور دیگر کاروباری طبقہ پریشانی کا شکار ہے۔ وقت پر ریفنڈز نہ ملے سے تجارتی پالیسی اور برآمدات  بڑھانے کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے جا سکیں گے۔ گرتی ہوئی برآمدات کو سہارا دینے کیلئے از حد ضروری ہے کہ بزنس کمیونٹی کے تمام رکے ہوئے انکم ٹیکس ریفنڈز کے ساتھ ساتھ سیلز ٹیکس ریفنڈز بھی فوری ادا کر دیے جائیں۔ انٹر نیشنل مارکیٹ میں پاکستانی ایکسپورٹرز کو سخت مقابلے کا سامنا ہے اور کیش فلو رکنے کی وجہ سے ٓاڈرز کی تکمیل میں مشکلات درپیش ہیں اور وہ اپنی کیپیسٹی کے مطابق کام نہیں کر پا رہے  چیئرمین پیاف میاں نعمان کبیر نے کہا  ریفنڈز کی  تمام ادائیگیاں جلد از جلد کی جائیں چونکہ چھوٹے بڑے تمام یونٹس نے اپنے اپنے بزنس میں وسیع سرمایہ کاری کر رکھی ہوتی ہے اور سرمایہ کے رک جانے سے ان کے آئندہ کے کے لائحہ عمل شدیدمتا ثر ہورہے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ ایک سال سے زائد عرصے کی برآمدات کے ریفنڈز ابھی تک جاری نہیں کئے گئے انڈسٹری کا کیش فلو رکنے کی وجہ سے 40  فیصد تک انڈسٹریل کیپیسٹی بیکار ہو گئی ہے اوراکثر یونٹس بند ہو جانے سے بیروزگاری مین بھی اضافہ ہو اہے  ریفنڈز  بلاک ہونے کی وجہ سے 25 سے  30% ورکنگ کیپیٹل رک گیا ہے۔ پیاف کے عہدیداران نے ارباب اختیار سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ برآمدات کا حدف پورا کرنے کے لئے  اندسٹری کے تمام ریفنڈز کلیم جلد سے جلد جاری کیے جائیں۔

مزید :

کامرس -