قانون گوئی اراضی ریکارڈ سنٹرز کا منصوبہ لٹک گیا 

  قانون گوئی اراضی ریکارڈ سنٹرز کا منصوبہ لٹک گیا 

  

   لاہور (عامر بٹ سے) پنجاب حکومت کی منظوری سے شروع کیا جانے والا قانون گوئی اراضی ریکارڈ سنٹر کا منصوبہ حکومتی عدم توجہی اور فنڈز کی عدم دسیتابی کے باعث کھٹائی میں پرگیا، 2216 ملین کے بجٹ سے منظور کیے جانے والے اس منصوبے کو جون 2020 میں مکمل کیے جانے کے دعوے کئے گئے تھے جو کہ فنڈز نہ ملنے کے باعث دھرے کے دھرے رہ گئے، صوبے بھر میں بنائے جانے والی قانون گوئی اراضی سنٹر پنجاب کی صرف 32 تحصیلوں میں تعمیر کئے گئے جو کہ ابھی تک آپریشنل نہ ہونے کے باعث بھوت بنگلے کا منظر پیش کرتے ہیں ملتان، ساہیوال، ڈیرہ غازی خان، گوجرانوالہ، قصور، شیخوپورہ، روالپنڈی میں 32 تعمیر کیے جانے والے نان آپریشنل اور خالی اراضی ریکارڈ سنٹرز کو مقامی لوگوں نے سیر سپاٹے اور وقت گزاری کی جگہ بنا لیا ستم بالا ستم یہ کہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے منصوبہ مکمل ہونے سے قبل 20 سے زائد آن لائن سروس  مہیا کرنے والی گاڑیاں بھی خرید لیں جو کہ بارش کے پانی سے کھڑے کھڑے خراب ہو رہی ہیں پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی انتظامیہ دو ارب روپے کے اس پروجیکٹ کو مکمل کرنے سے تاحال قاصر نظر آرہی ہے جس کی وجہ حکومت پنجاب کی جانب سے فنڈز کی عدم دسیتابی اور عدم توجہی بتائی جارہی ہے جس کے باعث پلرا کی انتظامیہ نے اس معاملے کو دبانے اور اس کی موجودہ صورتحال کو خیفیہ رکھنے کیلئے ایک بار پھر کاغذی کارروائی کے زریعے منصوبے کو مکمل کرنے کی تاریخ بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور جون 2020 کو مکمل ہونے والا یہ منصوبہ اب جون 2021 کو مکمل کیا جائے گا۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ سال پر ڈالے جانے والے اس منصوبے کے اخراجات بھی دو ارب روپے سے مزید بڑھ جائیں گے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -