جواں مرد عثمان بزدار جنہوں نے پنجاب کی قسمت بدل دی!

جواں مرد عثمان بزدار جنہوں نے پنجاب کی قسمت بدل دی!

  

وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار نے حیران کن انداز میں پنجاب کے 

معاملات کواس طرح سدھارا کہ ناقدین کہ منہ بند ہو گئے

پاکستان میں وفاق اور پنجاب کی سطح پر تحریک انصاف کی حکومت یقینی طور پر پہلی جمہوری حکومت ہے جو تاریخ کے مشکل ترین حالات میں امور مملکت نمٹا رہی ہے۔ جب ہم تاریخ کے مشکل ترین حالات کہتے ہیں تو اس سے مراد یہ ہے کہ پہلی بار برسراقتدار آنے والی جماعت کو ایسا پاکستان ملا جو قرضوں میں جکڑا ہوا تھا اور بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرضے اتارنے پر خرچ ہوا بلکہ قرضوں کی ادائیگی کے لئے مزید قرض لینا مجبوری تھا۔ پھر ایسا پاکستان جس میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا و سوشل میڈیا کی آزادی کسی بھی دوسرے عالمی ملک سے زیادہ تھی۔ ماضی میں بھٹو اور نوازشریف کے دور میں دو تہائی اکثریت کی حکومت والی جماعتیں اب اپوزیشن میں تھیں۔ عالمی حالات سب کے سامنے ہیں۔ افغانستان کی صورتحال، کشمیر کے حالات،بھارت میں مودی جیسے انتہاپسند کی حکومت تھی۔ ان حالات میں وزیراعظم عمران خان نے اپنا کام شروع کیا۔ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت بن چکی تھی جبکہ اس سے پہلے بھی وہاں پر تحریک انصاف کی حکومت رہی تھی۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں امور حکومت چلانے کے لئے ایک ایسا لیڈر چاہیے تھا جو سب اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلے اور تحریک انصاف کے منشور پر عملدرآمد کر کے اسے مزید مضبوط بنائے۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے ”سٹیٹس کو“ توڑتے ہوئے صوبے کے پس ماندہ علاقے سے منتخب ممبر پنجاب اسمبلی سردار عثمان خان بزدار کو صوبے کی باگ ڈور سنبھالنے کے لئے چنا اور انہیں صوبائی انتظامی ٹیم کا کپتان مقرر کیا۔ اپنے قائد عمران خان کی طرح وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو بھی بے پناہ چیلنجز کا سامنا تھا۔ماضی میں 30برسوں سے برسراقتدار ن لیگ کی حکومت میں اربوں کے اشتہارات سے شخصی پبلسٹی کی گئی تھی اور سابق وزیراعلیٰ کا جھوٹا امیج ہر طرف نمایاں تھا۔ حکومت کے خاتمے کے بعد جب سب کچھ بے نقاب ہوا تو عوام کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اپنے حواریوں کو نوازنے کے لئے جعلی کمپنیاں تشکیل دی گئیں۔ اس طرح کے گھمبیر حالات میں وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار نے اپنی حکومت کا آغاز کیا۔ گذشتہ دو برسوں کے دوران ان کی شخصیت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ہر چھ ماہ بعد ان کے جانے کا پراپیگنڈہ کیا گیا مگر انہوں نے جوانمردی، ہمت اور اپنی کارکردگی کے ساتھ ان حملوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور ہر حملے کو پسپا کر دیا۔ سردار عثمان بزدار نے حیران کن انداز میں پنجاب کے معاملات کواس طرح سدھارا کہ ناقدین کہ منہ بند ہو گئے اور صوبے کے سیاسی و انتظامی امور پر ان کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئی۔ جب بھی ان کی تبدیلی کی ہوا چلی تو وزیراعظم پاکستان عمران خان ان کے ساتھ کھڑے نظر آئے اور انہوں نے ہر مرتبہ یہی کہا کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار ہی رہیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے خاموشی سے اپنی سیاسی بصیرت، تدبر اور حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے حیران کن انداز میں معاملات کو قابو کیا۔ وزیراعلیٰ کی صوبے پر گرفت مضبوط ہے اور تمام افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔ اگر حقائق کو دیکھا جائے تو ان دو برسوں میں سردار عثمان بزدار نے صوبے میں وہ کام کئے ہیں جو گذشتہ 30 سالوں میں نہیں ہوئے۔ انہوں نے صوبے کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے تمام محکموں میں ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو آگے بڑھایا ہے کیونکہ آج کل کا دور آئی ٹی کا دور ہے اور اس کو اپنائے بغیر ترقی کی دوڑ میں آگے نہیں جایا جا سکتا۔ سردار عثمان بزدار نے تمام رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے تسلسل کے ساتھ صوبے میں ترقی کی منازل طے کی ہیں اور اب وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ جس طرح عدالتوں کے فیصلے بولتے ہیں اس طرح سردار عثمان بزدار کی کارکردگی اور عملی اقدامات ان کی صلاحیت کا پتہ دیتے ہیں۔ انہوں نے ذاتی تشہیر کی روایت کو دفن کر کے صوبے میں ترقیاتی کام کئے ہیں جن کی نظیرنہیں ملتی۔ انہوں نے صوبے میں شفافیت اور میرٹ کو فروغ دیا ہے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ نہ کبھی غلط کام کیا ہے اور نہ کسی کو کرنے دیں گے۔ ان دوبرسوں میں تحریک انصاف کے کسی بھی رہنما کا بدعنوانی کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میڈیا نے حکومت کے تعمیری کاموں کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ میڈیا کی تنقید کسی بھی حکومت کے لئے تریاق کی مانند ہوتی ہے اور حکومتیں اس تنقید سے تعمیری اور مثبت رہنمائی حاصل کرتی ہیں۔ 

وزیراعلی عثمان بزدار نے محکموں کو درست سمت میں چلانے او رانہیں ایک پالیسی کے تحت کام کرنے پر خصوصی توجہ دی تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں تبدیلی کا احساس ہو - حکومت نے ان دو برسو ں میں مختلف محکموں کی 12 پالیسیوں کی منظوری دی۔ جن پالیسیوں کی منظوری دی گئی ان میں پنجاب ایڈورٹائزمنٹ پالیسی، کمان ایریا موڈ یفیکیشن پالیسی، فارسٹ پالیسی، پنجاب سپیشل ایجوکیشن پالیسی، لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن پالیسی، نیو پالیسی اسسمنٹ فریم ورک، پنجاب ٹورازم پالیسی، پنجاب زرعی پالیسی، پنجاب لیبر پالیسی، پنجاب واٹر پالیسی اور پنجاب انڈسٹریل پالیسی شامل ہیں جبکہ پنجاب سوشل پروٹیکشن پالیسی، ٹرنسجینڈرپرسنز ویلفیئر پالیسی اور پنجاب لائیوسٹاک پالیسی کے مسودے پر نظر ثانی کی جارہی ہے اور جلد ہی منظوری کیلئے انہیں کابینہ کے اجلا س میں پیش کیاجائے گا - حکومت نے نہ صرف دوسرے شعبے میں اصلاحات کیں بلکہ دوبرسوں میں ریکارڈ قانون سازی بھی کی ہے - حکومت نے قانون سازی اورپالیسی سازی پر خصوصی توجہ دی - ان دو برسوں میں پنجاب اسمبلی نے 58 قانون پاس کئے ہیں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ نوجوان نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کئے بغیر ترقی کا حصول ممکن نہیں۔ اقوام عالم کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جن قوموں نے بام عروج حاصل کیا انہوں نے اپنی توجہ تعلیم کے شعبے کی بہتری کے لئے مرکوز کی اور تمام وسائل نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت کے لئے مختص کئے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے اس لئے انہوں نے تعلیم کے شعبے کی بہتری کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا اور کئی انقلابی اقدامات کئے جن کے دوررس نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ نوجوانوں کو ان کے علاقوں میں ہائرایجوکیشن کی تعلیم کے لئے یونیورسٹی آف چکوال، یونیورسٹی آف میانوالی،میرچاکرخان رند یونیورسٹی ڈی جی خان، یونیورسٹی آف سیالکوٹ، یونیورسٹی آف جھنگ، کہسار یونیورسٹی مری، تھل یونیورسٹی بھکر، یونیورسٹی آف لیہ، راولپنڈی وویمن یونیورسٹی، انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی راولپنڈی اور بابا گرونانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب میں 9یونیورسٹیاں قائم کی جا رہی ہیں۔ حکومت نے 1227ایلیمنٹری سکولوں جن میں 606گرلز سکولز اور 621بوائز سکولز کو اپ گریڈ کر کے ہائر سیکنڈری سکولوں کا درجہ دیا تاکہ طلبا و طالبات ان سکولوں میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر سکولز و ہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اساتذہ کی ای۔ٹرانسفر پالیسی متعارف کرائی۔ اس سسٹم کے تحت اساتذہ اپنی ٹرانسفر کے لئے گھر بیٹھے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔ اس سسٹم کے تحت 5مختلف مرحلوں میں 35 ہزاراساتذہ کی ٹرانسفرز ہو چکی ہیں۔ ان اقدامات سے نہ صرف اساتذہ کے استحصال کا خاتمہ ہوا بلکہ کرپشن کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا۔ ایک اندازے کے مطابق 2.5 ارب روپے کی کرپشن کا خاتمہ ہوا۔ حکومت نے انصاف آفٹرنون سکولز پروگرام کا آغاز کیا ہے جس سے نہ صرف ڈراپ آؤٹ کی شرح میں کمی ہوئی ہے بلکہ طلباء کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 22 اضلاع کے 577 سکولوں میں 21 ہزاربچے داخل ہوئے ہیں۔ اسی طرح کلین اینڈ گرین پاکستان کے تحت یونیسف کے تعاون سے 36 اضلاع کے سکولوں میں 1270 واش رومز تعمیر کئے گئے ہیں۔ 1500 پبلک سکولوں میں واش کلبز قائم کرنے کے علاوہ تربیتی پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔ صوبہ بھر میں سرکاری سکولوں میں 32 لاکھ پودے لگائے گئے ہیں۔ صوبے کے سکولوں میں پرائمری لیول تک اردو کو ذریعہ تعلیم رائج کیا گیا ہے اور انگریزی کو بطور مضمون پڑھایا جائیگا۔ انجینئرز کو ”سسٹم۔ آن۔چپ ڈیزائن“ System-on-Chip Design  اور بین الاقوامی مارکیٹ کے مطابق علوم کے حصول کے لئے ہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور لمپرو میلن Lampro Mellon کے مابین ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں۔ پیف سکالرشپس پروگرام کے تحت 6373 ملین روپے کے 42 ہزار531سکالر شپس دیئے گئے ہیں۔ حکومت نے سرکاری یونیورسٹیوں کے 19 وائس چانسلرز، 8چیئرپرسنز، 7سیکرٹریز، بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے 3 کنٹرولرز، پنجاب ہائرایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین اور 306 کالجز کے پرنسپلز کی خالی آسامیاں میرٹ پرپُر کی ہیں۔ حکومت نے کالجوں کی درجہ بندی کے تحت 700 کالجوں کو ایسوسی ایٹ کالجز میں تبدیل کیا اور بی ایس 4سالہ پروگرام کو 80گریجوایٹ کالجز تک بڑھایا۔اسی طرح بزدار حکومت نے صوبے کے 6اضلاع میں یونیسیف کے تعاون سے 204 غیررسمی تعلیمی ادارے قائم کئے۔ اس کے علاوہ صوبہ بھر میں گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن کی منظوری سے28لاکھ ڈالر سے 1000 غیررسمی تعلیمی ادارے قائم کئے ہیں۔

خصوصی افراد کومعاشرے کا مفید شہری بنانے اور زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے حکومت نے سپیشل ایجوکیشن پالیسی متعارف کرائی ہے تاکہ خصوصی افراد علم حاصل کر کے ملکی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ حکومت نے صوبہ میں 9 نئے سپیشل ایجوکیشن سنٹرز، سرگودھا اور ڈی جی خان میں دو ڈگری کالجز قائم کرنے کے علاوہ ہیلپ لائن 1162 کا اجراء کیا ہے۔ خصوصی بچوں اور اساتذہ کی مانیٹرنگ کے لئے 302 سکولوں اور 475 میں سی سی ٹی وی سسٹم انسٹال کیا گیا ہے۔ آن لائن داخلوں اور تعلیمی اداروں میں سہولیات سے آگاہی کے لئے ”سپیشل ایجوکیشن ایپ“ متعارف کرائی گئی ہے۔

شہریوں کو صحت عامہ کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے جامع اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ پوری دنیا کی طرح پاکستان بھی کورونا سے شدید متاثر ہوا۔ وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار نے فوری اقدامات اٹھائے تاکہ اس وبا کا مقابلہ کیا جا سکے۔ حکومت نے محکمہ صحت اور پی ڈی ایم اے کو 15ارب روپے سے زائد جاری کئے۔ اس کے علاوہ کورونا کے ٹیسٹ کرانے کے لئے ڈویژنل سطح پر 62 کروڑ روپے کی لاگت سے 8 بائیو سیفٹی لیول تھری لیبز قلیل مدت میں مکمل کی گئیں - تیس ہزار سے زائد گنجائش کے قرنطینہ اور 8 فیلڈ ہسپتال ہنگامی بنیادوں پر قائم کئے گئے - چند دنوں میں کورونا ٹیسٹ کی صلاحیت 190 سے بڑھا کر 8 ہزار تک کی گئی- پسماندہ علاقوں کے لوگو ں کو جدید طبی سہولیات فراہم کرنے کے لئے مساوی ترقی کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہئے راجن پور، میانوالی، بہاولپور، لیہ اور گجرات میں دو دو سو بستروں پر مشتمل مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال اور نرسنگ کالجز بنائے جارہے ہیں - گزشتہ دو برسوں کے دوران اربوں روپے کے جاری منصوبے مکمل کئے گئے ہیں جن میں 2ارب 35کروڑ روپے سے زائد رقم سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ نیورو سائنسز فیز ٹو مکمل کیا گیا۔2 ارب 93کروڑ روپے کی لاگت سے میو ہسپتال میں سرجیکل ٹاور کی تعمیر مکمل کی گئی۔1 ارب 58کروڑ روپے سے چلڈرن ہسپتال فیصل آباد مکمل کیا گیا۔ 20 کروڑ روپے سے لاہور جنرل ہسپتال فیزI کی بحالی کی گئی۔ 123 ملین روپے سے انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کی اپ گریڈیشن کی گئی۔ پنجاب کے 36 اضلاع کیلئے 72 لاکھ خاندانوں کیلئے صحت انصاف کارڈ پروگرام کا آغاز کیاگیا -53 لاکھ سے زائد خاندانوں کو صحت انصاف کارڈز کا اجراء مکمل کرلیاگیاہے- اس کارڈ کے ذریعے اب کم آمدنی والے افراد کو علاج معالجہ کیلئے سالانہ 7 لاکھ 20ہزار روپے دیئے جائیں گے - اب وہ امراء کی طرح اپنا علاج نجی ہسپتالوں سے بھی کراسکیں گے - حکومت نے زیادہ آبادی کی شرح والے 22 اضلاع میں 600 نئے فیملی ویلفیئر سنٹر ز قائم کئے ہیں - پنجاب کو ٹی بی جیسی مہلک مرض سے پاک کرنے کیلئے 6 ٹی بی کلر لیبارٹریز قائم کی گئی ہیں - وزیراعلی عثمان بزدار نے ڈی جی خان میں سردار فتح محمد خان بزدار انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا سنگ بنیاد رکھا ہے جس پر 4 ارب روپے کی لاگت آئے گی - اس ہسپتال کی تکمیل سے نہ صرف جنوبی پنجاب بلکہ بلوچستان کے عوام کو دل کے امراض کے علاج کی سہولیات دستیاب ہوں گی - ہسپتالوں میں ڈاکٹروں و نرسوں کی کمی کو دور کرنے کیلئے 25 ہزار ڈاکٹرز، نرسز، کنسلٹنٹس اور دیگر پیرا میڈیکل سٹاف کو بھرتی کیا گیا-وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر کورونا سے متاثرہ افراد کی مالی معاونت کیلئے انصاف امداد پروگرام کا آغاز کیاگیا اور 2.5 ملین خاندانوں کو 12 ہزارروپے فی خاندان کے حساب سے تقسیم کئے گئے - کورونا کے مریضوں کیلئے موجود ادویات کے علاوہ4کروڑ 33لاکھ روپے سے مزید ادویات خریدی گئیں -

آج کے جدید دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو اپنائے بغیر ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا - وزیراعلی سردار عثمان بزدار نے تمام محکموں میں آئی ٹی اصلاحات نافذ کرائیں جس سے نہ صرف محکمانہ کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ شہریوں کے مسائل جلد حل کرنے میں مدد ملی ہے - 9 ملین اوورسیز پاکستانیوں کی سہولت کیلئے پویس خدمت مرکز (گلوبل) پورٹل کا آغاز کیاگیا جس کے تحت انہیں پولیس سے متعلقہ 6 قسم کی خدمات (کریکٹر سر ٹیفکیٹ، ایف آئی آر کی کاپی کاحصول، نیشنل سٹیٹس کی تصدیق، کرایہ دار کی رجسٹریشن، رپورٹنگ آف کرائم) حاصل ہوں گی- حکومت نے ”ای پے پنجاب“ متعارف کرائی ہے جس کے تحت مختلف محکموں کے 16 ٹیکسوں کو ڈیجیٹلائزڈ کیاگیاہے اور شہری اپنے ٹیکس آن لائن جمع کراسکیں گے - پہلے آٹھ ماہ میں تقریبا 2- ارب کاریونیو آن لائن جمع کیاگیاہے -انیٹگریٹڈ سکول مینجمنٹ سسٹم کے تحت پنجاب بھر کے 50 ہزار سکول اور تقریبا 4 لاکھ اساتذہ کا ریئل ٹائم ڈیٹا بیس کی رجسٹریشن کی گئی ہے - اس کے علاوہ آٹھویں جماعت کے امتحانات کیلئے 10لاکھ بچوں کی صرف ایک کلک کے ذریعے آن لائن رجسٹریشن کی گئی -محکمہ خوراک میں ایپ کے ذریعے ایک لاکھ 40 ہزار کسانوں کی رجسٹریشن کی گئی اور پونے 43 لاکھ ٹن کا باردانہ تقسیم کیا گیا -4 ملین ٹن گندم خریدی گئی -ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد گندم کے پرمنٹ جاری کئے گئے-پریزن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے ذریعے 50 ہزار قیدیوں، ساڑھے آٹھ ہزار ملاقاتیوں اور مریض قیدیوں کا تمام ڈیٹا کمپیوٹرائزکیاگیا - وزیراعلی ای روزگار پروگرام کے ذریعے پنجاب کے 26 اضلاع میں 32 مراکز کو فعال کیاگیاہے اور پنجاب کے کالجوں میں مزید30 سنٹرز قائم کئے گئے ہیں جبکہ 17 ہزار گریجوایٹس کی تربیت کی گئی جو مجموعی طور پر 330ملین روپے کما چکے ہیں - وزیٹرز مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کیلئے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے صوبہ بھر میں قائم پناہ گاہوں میں آنے والے افراد کا اندراج کیا-ای - وؤچرسکیم کے ذریعے 2 لاکھ 93 ہزار کسانوں کو 1ارب 70 کروڑ روپے کی ڈی اے پی کھاد اور فاسفیٹ پر سبسڈی دی گئی - اس طرح ای وؤچر کے ذریعے کسانوں میں دو برسوں کے دوران 57 ہزار کسانوں کو کپاس، آئل سیڈ اور دالوں کے بیج کی خریداری کیلئے 51 کروڑ روپے تقسیم کئے گئے- مزید برآں ای کریڈٹ سکیم کے تحت چھوٹے کسانو ں کو 4 لاکھ 34ہزارسود سے پاک قرضے دیئے گئے- 2019ء میں آبیانہ کے ریٹس میں سوفیصد اضافہ کیاگیا جس سے حکومت پنجاب کو سالانہ 2 ارب روپے کا ریونیو میں اضافہ ہوا - سوسال کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے 16 ارب 80کروڑ روپے کی لاگت سے تریموں اور پنجند بیراجوں کی بحالی کی جارہی ہے -32 ارب 72کروڑ روپے کی لاگت سے جلال پور نہر تعمیر کی جارہی ہے جس سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ ایک لاکھ60 ہزار ایکڑ زمین سیراب ہوگی - 16 ارب 80کروڑ روپے گریٹر تھل کینال (چوبارہ برانچ) تعمیر کی جارہی ہے- نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کرنے کیلئے میرچاکر خان رند یونیورسٹی، لاہور میں پنجاب تیجن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور منڈی بہاؤالدین میں پنجاب یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی آپریشنل ہوچکی ہیں - ٹیوٹا میں فنی تربیت کے معیار کوبین الاقوامی سطح پر لانے او رانہیں روزگار فراہم کرنے کیلئے”ہمدرد نوجوان“پروگرام کا اجراء کیاگیاہے - ٹیوٹا پہلے سالانہ ایک لاکھ نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کرتا تھا اب ڈیڑھ ارب ر وپے کی لاگت کے پروگرام سے یہ ادارہ سالانہ مزید ایک لاکھ نوجوانوں کو تربیت فراہم کررہاہے - یہاں 56 نئے کورسز کا اجراء کیاگیاہے- 3217 ایکڑ اراضی پر علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی پر کام جاری ہے جس پر 38.6  ارب روپے لاگت آئے گی - اس سے ملک میں 4 ارب روپے سرمایہ کاری آئے گی- اس پراجیکٹ سے 3 لاکھ براہ راست اور 10 لاکھ بلا واسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے- وزیراعظم پاکستان نے قائداعظم بزنس پارک کا افتتاح کردیاہے اس منصوبے سے ملک میں 250 ارب روپے کی سرمایہ کاری آئے گی -1536 ایکڑ اراضی پر 555 انڈسٹریل پلاٹس ہوں گے -یہ منصوبہ 5 لاکھ نوجوانوں کے لئے نوکریاں فراہم کرے گا - گوجرانوالہ اور وزیرآباد میں انڈسٹریل اسٹیٹس مکمل ہوچکی ہیں -صوبہ میں 115 اضافی اراضی ریکارڈ سنٹر ز قائم کئے گئے ہی - غریب او رکم آمدنی والے طبقہ کو چھت کی فراہمی کیلئے حکومت نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام لاؤنچ کیاہے -پہلے مرحلے میں حضرو، پتوکی، چشتیاں اور بھکر میں نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کا آغاز کیاجارہاہے - فردوس مارکیٹ لاہور میں 1ارب 7کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیاجارہاہے جو ستمبر 2020 میں مکمل ہوجائے گا -وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے تھانہ کلچر کی تبدیلی، شہریوں کو انصاف کی فراہمی او رپولیس کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے جامع اقدامات اٹھائے ہیں - حکومت نے محکمہ پولیس میں نیو انسپکشن رجیم، کے تحت انسپکشن اینڈ ڈسپلن برانچ، کے نام سے علیٰحدہ برانچ قائم کی - تفتیشی افسران کو تحقیقات کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے چوہنگ میں سٹیٹ آف دی آرٹ سکول کو آپریشنل کیا- اسی طرح تھانوں اور لاک اپ میں پولیس اہلکاروں کی طرف سے مجرموں پر تشدد کی مانیٹرنگ کیلئے تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں - وزیراعلیٰ پنجاب نے ہائی وے پٹرول کیلئے 500 پک اپس اور 47گاڑیاں خریدنے کی منظوری دی - جیلوں میں پڑھنے کے کلچر کو فروغ دینے کیلئے 32 جیلوں میں لائبریریاں اور لٹریسی سنٹر قائم کئے ہیں - ٹیوٹا کے تعاون سے قیدیو ں کو فنی تربیت کیلئے ووکیشنل ٹریننگ قائم کئے گئے ہیں او راب تک 16095  قیدیوں کو تربیت دی گئی ہے - سیف سٹی کے دائرہ کار کو بڑھا تے ہوئے قصور میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر قائم کیاگیاہے -

حکومت پنجاب نے ان دوبرسوں کے دوران بے سہارا اور محروم طبقوں کیلئے انقلابی اقدامات کئے ہیں جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی -حکومت نے ٹوبہ ٹیک سنگھ، حافظ آباد، نارووال، لودھراں، لیہ اور مظفرگڑھ میں ”دارالامان“، بہاولپور اور فیصل آباد میں ”نشیمن“ قائم کئے ہیں -لاہور میں مختلف مقامات پر ساڑھے 34کروڑ روپے کی لاگت سے 5 پناہ گاہیں تعمیر کی ہیں تاکہ مسافر ان پناہ گاہوں میں ٹھہر سکیں - باہمت بزرگ پروگرام کے تحت 3 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جس سے سوا لاکھ لوگ مستفید ہوں -10 ہزار 51بچوں کو ریسکیو کرکے انہیں شیلٹر فراہم کیاگیا -89 نومولود بچوں کو چائلڈ پروٹیکشن کی نرسری میں رکھاگیا- گھریلو تشدد کا شکار 195 بچوں کو ریسکیو کرکے انہیں قانونی امداد فراہم کی گئی- راولپنڈی اور لاہور میں Violence Against Women Center  قائم کئے جا رہے ہیں - حکومت نے 944 غریب قیدیوں کو مخیر حضرات کے تعاون سے پونے 28کروڑ روپے جرمانہ ادا کرکے رہا ئی دلائی -

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -