عوام کو ہمہ وقت آٹے کی فراہمی میں کسی صورت قلت پیدانہیں ہوگی: محمودخان 

عوام کو ہمہ وقت آٹے کی فراہمی میں کسی صورت قلت پیدانہیں ہوگی: محمودخان 

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس آج سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء، مشیر، معاونین خصوصی، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔اجلاس میں کابینہ نے گندم کی درآمد اور عوام کوسستے نرخوں پر آٹے کی فراہمی کیلئے تقریباً3ارب روپے کی سبسڈی دینے کی منظوری دیدی۔کابینہ نے وفاقی حکومت کے ذریعے فوری طور پر ڈیڑھ لاکھ ٹن گندم درآمدکرنے کی کی منظوری دی اورمزید گندم کے درآمد کرنے سمیت ایسے اقدامات اٹھانے کی بھی منظوری دی گئی جن کی بدولت کسی قسم کی آٹے کی قلت نہیں ہوگی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈیڑھ لاکھ ٹن گندم درآمدکرنے پر مجموعی طور پر8.510بلین روپے لاگت آئے گی۔اسی طرح صوبائی حکومت گندم کی فلور ملوں کو باقاعدہ ترسیل اور قیمتوں میں استحکام کیلئے تمام آپشنز کھلے رکھے گی۔صوبائی کابینہ نے ایک کمیٹی تشکیل دی جو ملکی و مقامی سطح پر بھی گندم کی خریداری کیلئے پرائیویٹ سیکٹرسے بات چیت کرے گی۔کمیٹی وزیر خوراک، وزیر خزانہ، وزیر تعلیم اور سیکرٹری فوڈ پر مشتمل ہوگی۔     

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے پیر کے روز حیات آباد میں بس ریپڈ ٹرانزٹ کے تین فیڈرروٹس پر زو بس سروس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ ان تین روٹس میں سے پہلا روٹ مال آف حیات آباد سے براستہ بشارت فیز 6 ٹرمینل، دوسرا راستہ کارخانو مارکیٹ  سے براستہ انڈسٹریل اسٹیٹ فیز 7 ٹرمینل جبکہ تیسرا روٹ مال آف حیات آباد سے براستہ باغ ناران حاجی کیمپ تک جائے گی۔ ان فیڈر روٹس پر فی الوقت 25 بسیں چلیں گی جو مسافروں کو حیات آباد کے مختلف علاقوں سے بی آر ٹی کے مین کوریڈرو تک لے آئیں گی۔ زو بسوں کے اوقات کار صبح 6:00 بجے سے رات10:00 بجے تک ہو گی۔افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی اپنے خطاب میں بی آر ٹی پراجیکٹ کو عوامی مفاد کا ایک بہترین پراجیکٹ قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ فی الوقت تین فیڈر روٹس کا افتتاح کیا گیا اور عنقریب مزید چار فیڈر روٹس کا افتتاح کیا جائے گا اور بسوں کی تعداد میں مزید توسیع دی جائے گی تاکہ پورے پشاور ریجن کے عوام اس جدید سفری سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ اُنہوں نے کہاکہ بی آر ٹی پراجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر پر عوام نے بہت تنقید کی مگر عوام نے جتنی تنقید کی اب اُسے کہیں زیادہ تعریف کر رہی ہے۔ پشاور بی آر ٹی پراجیکٹ تما م جدید سفری سہولیات سے آراستہ ایک منفرد منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پشاور کے بی آر ٹی اور دوسرے شہروں کے بی آر ٹی پراجیکٹس میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ دوسرے شہروں کے بی آرٹی منصوبے کسی بھی صورت پشاور بی آر ٹی منصوبے کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے 31 ارب روپے میں 27 کلومیٹر لمبی کوریڈور تعمیر کی ہے جس میں 13 کلومیٹر elevated ہے، جو لوگ اس منصوبے پر بے جا تنقید کر رہے ہیں۔ اُنہیں ہم چیلنج دیتے ہیں کہ وہ خود آکر دیکھ لیں تو اُنہیں معلوم ہو جائے گا کہ پشاور کا بی آر ٹی دوسرے شہروں کے بی آر ٹی سے کئی گنا بہتر منصوبہ ہے۔ اُنہوں نے مزید کہاکہ بی آر ٹی منصوبے کی عوامی مقبولیت اور افادیت کے پیش نظر اس کو مزید توسیع دی جائے گی۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ نے کابینہ کے ہمراہ زو بس سروس پر سفر بھی کیا۔ 

مزید :

صفحہ اول -