پنجابی بلوچ۔۔بھائی بھائی 

پنجابی بلوچ۔۔بھائی بھائی 
 پنجابی بلوچ۔۔بھائی بھائی 

  

جس طرح پاک فوج سرحدوں کی محافظ ہے اور اندرون پاکستان عوام کی ہر مشکل میں مدد کیلئے کسی رنگ نسل اور علاقائی تقسیم کے بغیر اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کرتے اسی طرح پاکستانی پولیس کم وسائل کے باوجود تمام صوبوں میں جرائم کے خلاف سینہ سپر ہے خیبر پختونخواہ ہو‘ یا سندھ‘ پنجاب ہو یا بلوچستان‘ پولیس کی اجتماعی کارکردگی کی بدولت آج ایک پر امن پاکستان دنیا بھر کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہا ہے کہ مسلمان دہشت گرد نہیں اور نہ ہی پاکستانی قوم کسی دہشت گری کو سپوٹ کرتی ہے بادی النظر میں پاکستان کے مختلف صوبوں میں جرائم کے مختلف طریقہ کار ہیں پنجاب میں زن‘ زر اور زمین کی لڑائی ہے تو خیبر پختونخواہ میں جرائم اس سے زیادہ مختلف نہیں افغانستان کے ساتھ سرحد ملنے کی وجہ سے اس صوبے کو بھی ماضی میں دہشت گردوں نے اپنے نشانے پر رکھا۔ سندھ میں پولیس پولیس وڈیرا ازم کا طلسم توڑنے کیلئے کوشاں ہے،ایک لسانی تنظیم کی ماضی کی دہشت گردی کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں تو دوسری طرف بلوچستان پولیس کو دیگر صوبوں کی نسبت سب سے زیادہ مسائل کا سامنا ہے۔

بلوچستان میں لسانی اور علیحدگی کی تحریکیں پولیس کی شاندار قربانیوں اور کارکردگی دم توڑ رہی ہیں، ان تحریکوں کو بالواسطہ یا بلاواسطہ پاکستان کے ازلی دشمن ہندوستان کی مکمل آشیر باد حاصل ہے، کلبھوشن یادیو کی بلوچستان میں سرگرمیوں سے تمام ادارے مکمل طو رپر آگاہ ہیں جسے سزائے موت کی سزا کا سامنا ہے، جس میں بڑی حد تک اسے کامیابی حاصل ہوتی ہے جبکہ عالمی دہشت گردی تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں کا مرکز بھی بلوچستان بالخصوص لورالائی ہے۔

پنجاب میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا تسلیم کرا کے کرائم فائٹر کا خطاب حاصل کرنے والے فخر پنجاب پولیس سید علی محسن کاظمی کو جو بلوچستان تعیناتی سے قبل پنجاب کے سب سے خطرناک ضلع گجرات کے ڈی پی او کے فرائض منصبی احسن طریقے سے سر انجام دے رہے تھے نے دوران تعیناتی کئی دہائیوں سے روپوش اور سرگرم عمل اشتہاری مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچایا کو ڈی آئی جی کے عہدے پر ترقی دیکر بلوچستان کی سب سے زیادہ خطرناک ڈویژن کا آر پی او مقرر کیا گیا۔ بلوچستان کے انسپکٹر جنرل آف پولیس محسن حسن بٹ کی عقابی نگاہوں نے سید علی محسن کاظمی کی صلاحیتوں کو ایک ہی نظر میں پرکھ لیا، اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان ملک کا بڑا صوبہ جسے وسائل دیگر صوبوں کی نسبت سب سے کم ہیں میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے،کامیابی کسی کو طشتری میں رکھ کر نہیں ملتی قدم قدم پر خطرات اور پھر ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے وطن کی محبت میں سرشار بلوچستان پولیس کے افسران و ملازمین کی کارکردگی خراج تحسین کے قابل ہے۔

آر پی او لورا لائی سید علی محسن کاظمی نے لورالائی رینج کا چارج سنبھالتے ہی علاقے کو بلوچستان کا سب سے مثالی اور پر امن ڈویژن بنانے کا عہد کیا ،بلاشبہ یہ انتہائی مشکل تھا مگر جذبہ جوان اور توکل اللہ ارادہ مضبوط ہو تو کوئی کام ایسا نہیں جو ناممکن ہو۔ ان سطور میں اگر منشیات، اسلحہ وغیرہ کی ریکوری کا ذکر جائے تو یہ بھی اصطلاح ہر جگہ استعمال ہوتی ہے مگر سید علی محسن کاظمی نے تعیناتی کے بعد نہ صرف علاقہ کے سرداروں کے ساتھ تعلقات کو اس قدر خوشگوار اور خوبصورت ڈھانچے میں ڈال دیا کہ اسکی مثال ماضی میں ملنا مشکل ہے ۔پاکستانی زائرین بلوچستان کی اس ڈویژن لورالائی کے راستے ایران زیارت پر جاتے ہیں، ماضی میں دہشت گردوں نے سینکڑوں پنجابی زائرین کو بسوں سے اتار کر موت کے گھاٹ اتاردیا تھا حتی کہ آر پی او کی رہائشگاہ کے اندر داخل ہو کر بھی متعدد پولیس اہلکاروں کو شہید کر دیا ،اس علاقے میں بطور اعلی پولیس آفیسر کے لیے تعیناتی ایک ڈراؤنا خواب سا تھا مگر ایمان مضبوط اور جذبہ جوان ہو تو مشکل راستے بھی سہل بن جاتے ہیں۔ دشوار گزار علاقے بھی آسان نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں بنیادی طو رپر پولیس کو تحفظ اور ان کے مسائل حل کر کے ہی ایک نئی اور مضبوط فورس تیار کی جاسکتی ہے ۔

سید علی محسن کاظمی کو انقلابی اقدامات کیلئے وزیر اعلی سے لیکر آئی جی بلوچستان کا مکمل اعتماد اور تعاون حاصل ہے، انہوں نے پولیس کے شہداء کے لواحقین کے سرپر دست پدری رکھا اور اقلیتوں کو احساس تحفظ دیا، یہی وجہ ہے کہ آج لورا لائی کے ہر شہر، گاؤں اور قصبہ کے رہائشی خود کو پولیس فورس کا حصہ تصور کرتے ہیں۔ حقیقی معنوں میں پنجابی زائرین کو ایران زیارات کیلئے جانے کے لیے جو احساس تحفظ آج ہے وہ پہلے نہیں تھا۔ بلوچ‘ پنجابی اتحاد کو سید علی محسن کاظمی نے اس قدر مضبوط بنا دیا ہے کہ اسکے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار جو بلوچستان اور پنجاب کی پٹی کے قریب آبائی گاؤں میں اکثر اوقات آتے جاتے رہتے ہیں، بلوچ عوام میں بھی اپنی معصومانہ قول وفعل اور غریب پروری کی وجہ سے انتہائی مقبول ہیں، بلوچ عوام کی خوشیوں اور مختلف تقریبات میں جاتے رہتے ہیں، اس علاقے کے بلوچ سردار انہیں بے حد پیار کرتے ہیں اور ان سے اکثر وہ امن و امان کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے رہتے ہیں، عوام اور سردار سبھی اس امر کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ جب سے سید علی محسن کاظمی جو پنجاب پولیس سے بلوچستان تعینات ہوئے ہیں نے علاقے کو امن کا گہوارہ بنادیا ہے ۔

سید علی محسن کاظمی کی کارکردگی کی بدولت وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی اس علاقہ میں دستاربندی کے موقع پر سید علی محسن کاظمی آر پی او لورا لائی کی بھی دستار بندی کی گئی جو بہت بڑا اعزاز ہے، پنجاب کے ہردلعزیز اعلی پولیس آفیسر سید علی محسن کاظمی جو پنجاب میں عوامی نمائندوں کی طرح بے حد مقبول ہیں انکی بطور آر پی او لورا لائی کارکردگی پر بھی بے حد خوش و خرم ہیں اور دعا گو ہیں کہ وہ جہاں بھی تعینات رہیں عوام کے ہمدرد اور ظالموں کے لیے ننگی تلواراور قہر خداوند ی بن کر ٹوٹتے رہیں۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -