مردہ قرار دی جانے والی لڑکی کی سانسیں اُس کے جنازے کے دوران دوبارہ چلنے لگیں

مردہ قرار دی جانے والی لڑکی کی سانسیں اُس کے جنازے کے دوران دوبارہ چلنے لگیں
مردہ قرار دی جانے والی لڑکی کی سانسیں اُس کے جنازے کے دوران دوبارہ چلنے لگیں

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) گاہے ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں جب کوئی شخص موت کو چھو کر واپس زندگی کی طرف لوٹ آتا ہے۔ ایسا ہی ایک ناقابل یقین واقعہ گزشتہ روز امریکہ میں پیش آ گیا ہے جہاں ایک 20سالہ لڑکی کو طبی عملے نے بار بار کے چیک اپ کے بعد مردہ قرار دے دیا مگر فیونرل ہوم جا کر لڑکی سانس لینے لگی۔ اے بی سی سیون کے مطابق یہ واقعہ امریکہ ریاست مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ میں پیش آیا ہے۔ شیفیلڈ فائرڈیپارٹمنٹ کو ایک کال موصول ہوئی تھی جس میں انہیں اس لڑکی کے بے ہوش ہونے کے بارے میں بتایا گیا۔ عملے نے موقع پر پہنچ کر 30منٹ تک لڑکی کی سانسیں بحال کرنے اور اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی لیکن جب اس میں زندگی کی کوئی علامت نظر نہ آئی تو انہوں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

رپورٹ کے مطابق بعد ازاں میڈیکل ایگزامینر نے بھی اس لڑکی کا معائنہ کیا اور اس نے بھی اسے مردہ قرار دے دیا جس کے بعد میت لڑکی کے گھر والوں کے حوالے کر دی گئی۔ لواحقین لڑکی کی میت کو جیمز ایچ کول فیونرل ہوم لے گئے جہاں اس کی آخری رسومات جاری تھیں کہ فیونرل ہوم کے ملازمین نے محسوس کیا کہ میت سانسیں لے رہی ہے۔ جب انہوں نے چیک کیا تو لڑکی کی سانس بحال ہو چکی تھی اور نبض بھی ٹھیک چل رہی تھی۔ اس پر لڑکی کو فوراً واپس ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ ہوش میں آ گئی۔شیفیلڈ فائر ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری ایک بیان میں بھی اس واقعے کی تصدیق کی گئی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -