”میں نے دورہ انگلینڈ سے بہت کچھ سیکھا ہے“ 

”میں نے دورہ انگلینڈ سے بہت کچھ سیکھا ہے“ 
”میں نے دورہ انگلینڈ سے بہت کچھ سیکھا ہے“ 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے دائیں ہاتھ کے اوپنر عابد علی نے کہا ہے کہ انگلینڈ کا باﺅلنگ اٹیک دنیا کے بہترین باﺅلنگ اٹیکس میں سے ایک ہے جسے کھیلنا چیلنج ہے، میں نے اپنے پہلے دورہ انگلینڈ سے بہت کچھ سیکھا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ٹیسٹ کرکٹر عابد علی کیلئے انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے، وہ تینوں ٹیسٹ میچز میں پاکستان ٹیم کا حصہ رہے، مانچسٹر میں انہوں نے 16 اور 20 رنز بنائے، ساؤتھمپٹن کے دوسرے ٹیسٹ کی ایک اننگز میں 60 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ ساؤتھمپٹن میں جاری تیسرے ٹیسٹ کی 2 اننگز میں عابد علی نے بالترتیب 1 اور 42 رنز بنائے۔

سری لنکا کے خلاف ڈیبیو ٹیسٹ میں سنچری سکور کرنے والے عابد علی کا کہنا ہے کہ ٹیم نے جو پلان دیا اس کے مطابق کھیلنے کی کوشش کی، پلان یہی تھا کہ کہ وکٹ پر زیادہ سے زیادہ رکنا ہے، سیریز میں اسی پلان کے مطابق کھیلنے کی کوشش کی اور اس میں کامیاب بھی ہوئے لیکن مزید لمبی اننگز بھی کھیلی جا سکتی تھیں۔ انگلینڈ میں کھیلنا مشکل ٹاسک تھا اور ایک بہت بڑا چیلنج تھا کیونکہ یہاں کنڈیشنز آسان نہیں ہو تیں، میرا یہ پہلا انگلینڈ کا دورہ تھا اور میں نے یہاں آکر بہت کچھ سیکھا ہے۔

عابد علی نے کہا کہ انگلینڈ کا باﺅلنگ اٹیک دنیا کے بہترین باﺅلنگ اٹیکس میں سے ایک ہے جسے کھیلنا ایک چیلنج ہے اور مجھے چیلنجز بہت پسند ہیں، میں نے یہاں کھیلنے کی بہت تیاری کی ہوئی تھی اور مجھے علم تھا کہ کریز پر رک کر کھیلنا زیادہ ضروری ہے، اس کی کوشش بھی کی لیکن بدقسمتی سے کوئی لمبی اننگز نہ کھیل سکا۔

 عابد علی کا کہنا تھا کہ انگلینڈ میں وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا، ہم کھلاڑی آپس میں باتیں کرتے ہیں کہ کتنی تیزی سے وقت گزر گیا، بائیو سیکیور ماحول کی وجہ سے مشکل پیش نہیں آئی، سب کھلاڑیوں نے انجوائے کیا اور کرکٹ پر فوکس کیا جبکہ دماغی طور پر کسی دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

مزید :

کھیل -