گورنر سٹیٹ بینک نے کسانوں کو بڑی خوشخبری سنا دی 

گورنر سٹیٹ بینک نے کسانوں کو بڑی خوشخبری سنا دی 
گورنر سٹیٹ بینک نے کسانوں کو بڑی خوشخبری سنا دی 

  

اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے زراعت کو گورنر سٹیٹ بینک نے آگاہ کیا ہے کہ زرعی قرضوں کا حصول آسان بنائیں گے، زرعی شعبے کے قرضوں پر بینکوں کو مانیٹر کر رہے ہیں،گزشتہ مالی سال زرعی قرضوں کا حجم 1225 ارب روپے ہے،گزشتہ مالی سال 28 لاکھ چھوٹے کاشت کاروں کو زرعی قرض دیا گیا،،لینڈ کا کمپیوٹرائز ریکارڈ ضروری ہے، زمینوں کا ریکارڈ بہتر ہوگیا تو زرعی قرض دینا آسان ہوجائے گا،سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین کمیٹی  اسد قیصر نے کہا کہ زرعی قرضوں کا حجم بڑھے گا تو زرعی شرح نمو بڑھے گی،ہم ذراعت میں اصلاحات لا کر معاشی انقلاب لا سکتے ہیں۔

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت خصوصی کمیٹی برائے زراعی مصنوعات کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں  کمیٹی ارکان کے علاوہ وفاقی وزیر برائے فوڈ سیکورٹی سید فخر امام اور اعلی حکام  نے شرکت کی۔گورنر سٹیٹ بنک رضا باقر کی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ زرعی قرضوں کا حجم بڑھے گا تو زرعی شرح نمو بڑھے گی،ہم ذراعت میں اصلاحات لا کر معاشی انقلاب لا سکتے ہیں،کسان کو پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے اقدمات اٹھائے جا رہے ہیں،کسان کی خوشحالی پاکستان کی خوشحالی ہے،پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کا مقصد زراعت کو ترقی دینا ہے،کم وقت میں زیادہ ترقی کے لیے زرعی شعبہ پر توجہ اہمیت کی حامل ہے۔کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک رضا باقرنے کہا کہ زرعی قرضوں کا حصول آسان بنائیں گے، زرعی شعبے کے قرضوں پر بینکوں کو مانیٹر کر رہے ہیں، سال 2005 میں زرعی قرضوں کا حجم 109 ارب روپے تھا،گزشتہ مالی سال زرعی قرضوں کا حجم 1225 ارب روپے ہے،گزشتہ مالی سال 28 لاکھ چھوٹے کاشت کاروں کو زرعی قرض دیا گیا، 2004-5میں زراعت کیلئے 109 ارب روپے کے قرضے دیئے گئے،2019-20میں 1اعشاریہ تین کھرب کے قرضے دیئے گئے،37 لاکھ چھوٹے کسانوں کو قرضے دیئے گئے،کرونا کی وجہ سے کسانوں کے 56 ارب کے قرضے ری شیڈول کئے گئے،لینڈ کا کمپیوٹرائز ریکارڈ ضروری ہے، زمینوں کا ریکارڈ بہتر ہوگیا تو زرعی قرض دینا آسان ہوجائے گا،91 فیصد چھوٹے کاشتکاروں کو زرعی قرضے دیے گئے۔

مزید :

کسان پاکستان -