کیا یہ زمانہ جاہلیت نہیں؟

کیا یہ زمانہ جاہلیت نہیں؟
کیا یہ زمانہ جاہلیت نہیں؟
سورس: maxpixel

  

حضرت قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ ایک بار رسول اکرم ﷺ  کی خدمت میں حاضر ہوئے تو زمانہ جاہلیت میں بیٹیوں کے زندہ درگور کرنے کے فعل پر شرمسار ہوتے ہوئے عرض کی کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں آٹھ بیٹیوں کو زندہ دفن کیا ۔ میرا یہ گناہ معاف ہو جائے گا؟  آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا معاف تو اسلام لانے کے ساتھ ہی ہو چکا ہے البتہ! ہر زندہ در گور کی گئی بیٹی کے بدلے تم ایک غلام آزاد کرو‘‘۔حضرت قیس  نے دوبارہ عرض کیاکہ میرے پاس اونٹ بہت ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ تو پھر ہر بیٹی کے بدلے ایک جانور صدقہ کرو۔حضرت قیس بن عاصم کے اقرار سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب انہوں نے اپنی آٹھ بیٹیوں کو زندہ دفن کیا تھاتو نہ معلوم دوسروں نے کتنی بیٹیوں کو دفن کیا ہو گا۔ اس کے باوجود اس سنگ دل معاشرے میں ایسے افراد بھی تھے جو معصوم بچیوں کی بے کسی پر خون کے آنسو بہاتے اور جہاں تک ممکن ہوتا بچیوں کو زندہ دفن ہونے سے بچانے کی کوشش کرتے ۔

یہ صورت حال تھی  اسلام  سے قبل کی جو آج ہمیں محسوس ہو رہی ہے کہ ہم زمانہ جاہلیت میں جی  رہے ہیں ۔یہاں  پر بیٹیوں کو زندہ درگو کرنے سے زیادہ اذیتیں دی جارہی ہیں۔ عورت کی حفاظت کرنے والے مرد ہی اس کی  عصمت دری میں  کوئی کسر نہیں  چھوڑ رہے ۔بیٹی  ہو ، بہن ، بیوی یا ماں  کی  صورت میں سب سے زیادہ اعتماد عورت اپنے باپ پر  ہی  کرتی ہے جس کی  عزت کی خاطر  وہ اپنی  ساری  خوشیاں  قربان کر دیتی  ہے ۔وہی  باپ  اس کی  عزت  کا دشمن بن  بیٹھاہے ۔  لاہور میں ایک  ایسا واقعہ بھی پیش آیا جس کےبعد انسانیت شرما گئی ۔سوتیلےباپ مقبول نے مبینہ طور پر 16سالہ بیٹی کوزیادتی کانشانہ بنایا۔درندہ صفت ملزم اپنےگھرمیں سوتیلی بیٹی کو چھ  ماہ  تک   زیادتی کا نشانہ بناتارہامیڈیکل رپورٹ میں بچی پانچ ماہ کی حاملہ نکلی ۔ اس  طر ح کا ایک  واقعہ نیوکراچی میں بھی ہوا جہاں  باپ اپنی  سوتیلی بیٹی  کی عزت کے ساتھ  کھیلتا رہا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق   سوتیلی  بیٹی جنوری 2021میں ایک بچی کو بھی جنم دی چکی ہے ۔۔معصوم بچی کس کو با پ کہے گی؟  کیا معاشرہ اسے اس گناہ  کی  سز انہیں دے گا جو اس نے کیا بھی  نہیں؟ کیا ناجائز اولاد اس کی پہچان  نہیں بن  جائے گی  ۔

ہم اخلاقی طور پر کس طرف جارہے ہیں؟ ہر ذی شعور شخص اس وقت  ایک  کرب سے گزر رہا ہے ۔۔۔ وسیم اکر م پلس  کے دورمیں   لاہور میں 24 گھنٹوں کےدوران جنسی زیادتی کے پانچ واقعات رپورٹ ہوئے۔ زیادتی کا ایک واقعہ لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں پیش آیا جہاں سوتیلے باپ مقبول نے مبینہ طور پر 16 سالہ بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنایا ۔دوسری جانب تھانہ شادباغ کے علاقے بھگت پورہ میں چار بچوں کی ماں کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنادیا گیا۔ ادھر مناواں میں بھی 10 سالہ بچے سے نامعلوم شخص نے زیادتی کی۔اس کے علاوہ لاری اڈہ کے علاقے میں 17سالہ لڑکی کو ملازمت کا جھانسہ دے کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جب کہ نواں کوٹ  کےعلاقے میں سات  سالہ بچی سے زیادتی کی  گئی ۔۔یہ زمانہ جاہلیت  سے ابتر نہیں تو کیا ہے ؟؟؟ 

بحیثیت قوم ہمیں ایسے واقعات کے خلاف یک زبان ہو کر آواز اٹھانی چاہیے لیکن ہم کیا کرتے ہیں؟ ہم ایسے واقعات کی توجیحات پیش کرتے ہیں۔موٹر وے پر بچوں کے سامنے خاتون کا ریپ کیوں ہوا؟ کیونکہ وہ ویران سڑک پر تنہا کھڑی تھی۔ مینار پاکستان پر چار سو لوگوں نے ایک لڑکی کے کپڑے کیوں پھاڑے؟ کیونکہ وہ ٹک ٹاک بناتے ہوئے معنی خیز اشارے کر رہی تھی۔  نور مقدم کا قتل کیوں ہوا؟ کیونکہ وہ ایک غیر مرد کے گھر تنہا گئی تھی۔   چھ برس کی زینب کا ریپ کیوں ہوا؟ کیونکہ اس کے والدین عمرے پر گئے ہوئے تھے۔  یوم آزادی کے موقع پر ایک لفنگے نے رکشے میں بیٹھی خاتون کا زبردستی بوسہ کیوں لیا؟ کیونکہ وہ جانتے بوجھتے ہوئے 14 اگست کی رات کو باہر نکل آئی تھی۔ راولپنڈی میں مدرسے کے ناظم نے 16 سال کی طالبہ پر جنسی تشدد کیوں کیا؟ کیونکہ اس کے ماں باپ نے لڑکی کو مرد استاد کے پاس بھیجنے کی غلطی کی تھی۔ رکشے میں سوار ہونے والی ماں بیٹی کو رکشہ ڈرائیور نے اپنے ساتھی کے مل کر ریپ کیوں کیا؟ یہ بڑھتی ہوئی فحاشی کی وجہ سے ہے۔  تین سالہ بچی کا ریپ کیوں ہوا؟ یہ دین سے دوری کا انجام ہے۔ ٹھٹہ میں 14سال کی لڑکی کی لاش کو قبر سے نکال کر ریپ کیوں ہوا؟ یہ جنسی گھٹن کا نتیجہ ہے۔ پردہ دار عورت کا ریپ کیوں ہوا؟ یہ جنسی آزادی کا نتیجہ ہے۔ پانچ بچوں کی ماں کا ریپ کیوں ہوا؟ یہ مادر پدر آزادی کے ثمرات ہیں۔ ذہنی طور معذور بچی کا ریپ کیوں ہوا؟ وہ پیدا ہی غلط ہوئی تھی۔ جب تک ہم ایسے رویوں اور سوچ کا خاتمہ نہیں کردیتے تب تک مجرموں کو کوئی خوف نہیں ہوگا اور ایسے واقعات آئے روز وقوع پذیر ہوتے رہیں گے۔

مزید :

بلاگ -