جناب محسن نقوی کے نام کھلا خط

 جناب محسن نقوی کے نام کھلا خط
 جناب محسن نقوی کے نام کھلا خط

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


راقم جناب محسن نقوی وزیراعلیٰ پنجاب کی صحافتی خدمات، ان کے کارکنان کے ساتھ رویے اور کارکنان کی کفالت، عمرہ اور حج کروانے کے عمل سے بخوبی آگاہ ہوں،90دن میں الیکشن ہو یا 9ماہ بعد،میرا موضوع نہیں ہے آج کا کالم میں نے بطور صحافتی کارکن نہیں لکھا،بلکہ وزیراعلیٰ پنجاب جناب محسن نقوی کے نام کھلا خط بطور لاہور کے ادنیٰ شہری کی حیثیت سے لکھ رہا ہوں۔
آپ کی توجہ لاہور میں اب تک نظر انداز ہونے والے اہم علاقوں اور مسائل کی طرف دلانا ہے لاہور شہر صرف ڈی ایچ اے،گلبرگ، جیل روڈ، مال روڈ، خیابان جناح، مین بلیوارڈ یا ایئرپورٹ روڈ تک محدود نہیں ہے۔لاہور کی ڈیڑھ کروڑ کی آبادی میں شمالی لاہور، جنوبی لاہور اور ٹھوکر نیاز بیگ سے لے کر سمن آباد تک بند روڈ اور آپ کی طرف سے منظور کی جانے والی رِنگ روڈ سے ملحقہ آبادیاں ہیں جن کی آبادی کا اگر حساب لگایا جائے تو40 سے50 لاکھ سے کم نہیں ہے۔
ٹھوکر نیاز بیگ کا چوک جو ملتان روڈ، کنال روڈ، رائیونڈ روڈ، نیاز بیگ روڈ کا جنگشن ہے اب اس پر اربوں روپے کے اخراجات سے برج اور اشارے لگائے گئے ہیں۔ لاہو کی تمام بڑی یونیورسٹیوں کے کیمپس رائیونڈ روڈ اور ڈیفنس روڈ پر منتقل ہونے کی وجہ سے ٹریفک کا سارا دباﺅ ٹھوکر نیاز بیگ چوک پر آ گیا ہے۔ طلبہ و طالبات کا سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پہنچنا محال ہے تاخیر روز کا معمول ہے یہی حال ملازمین کے دفاتر میں پہنچنے کا ہو چکا ہے اس چوک کی ری ماڈلنگ وقت کی ضرورت ہے۔ملتان روڈ سے لے کر چوک یتیم خانہ تک اردگرد کی آبادیاں جن کی آبادی کا تصور نہیں کیا جاسکتا ملتان روڈ کی خستہ حالی، اعوان ٹاﺅن چوک اور ملتان چونگی چوک کی بے لگام ٹریفک اور دباﺅ کی وجہ سے لوگ ذہنی مریض بن رہے ہیں۔ 
منصورہ، ملتان چونگی سے پار کی آبادیاں، گلشن عباس، جمیل پارک، حبیب پارک، مرغزار کالونی،رانا ٹاﺅن، اتفاق ٹاﺅن، نیاز بیگ کے علاقے جن کی آبادی کا شمار نہیں کیا جا سکتا ملتان روڈ سے ان کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ملتان چونگی کا چوک آج تک نہیں بن سکا ہے۔اعوان ٹاﺅن،حسن ٹاﺅن،سوشل سکیورٹی ہسپتال، اتفاق ٹاﺅن سے سینکڑوں موٹر سائیکل، گاڑیاں ٹریفک کے قوائد کے برعکس الٹی سائیڈ سے آ کر وحدت روڈ اور ملتان روڈ پر چڑھتے ہیں، سارا دن ملتان چونگی چوک میدان جنگ بنا رہتا ہے۔منصورہ سے ملتان چونگی تک سڑک کراسنگ میں درجنوں افراد زخمی اور دو جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔سوشل سکیورٹی ہسپتال کا آپ نے پروٹوکول میں دورہ کیا۔ایک دورہ ملتان چونگی چوک کا عام ایڈیٹر اور شہری کی حیثیت سے کر کے دیکھ لیں وحدت روڈ پر منصورہ کالج سید مودودی انسٹیٹیوٹ کے سامنے جسے ہاتھی چوک کہا جاتا ہے۔جامع مسجد سید مودودی انسٹیٹیوٹ،منصورہ کالج اور مودودی مارکیٹ میں اقبال ٹاﺅن کے مہران، کامران نشتر بلاک کے رہائشیوں کا آنے کے لئے سڑک کراس کرنا جان لیوا بن چکا ہے۔گزشتہ تین ماہ میں70 کے قریب موٹر سائیکل سوار زخمی ہوئے اور دو نوجوانوں کی موت ہو چکی ہے،ہاتھی چوک میں اشارے لگانا، نوجوان نسل اور بزرگوں کی جانوں کو بچانے کے لئے ضروری ہو چکے ہیں،کم از کم فوری طور پر سپیڈ بریکر بنا دیئے جائیں تاکہ بچے بچیاں سکولوں، کالجوں اور مساجد جانے والے محفوظ رہ سکیں۔
جناب محسن نقوی صاحب آپ کے جذبے اور اخلاق کی وجہ سے نشاندہی کر رہا ہوں ایک کالم میں چند علاقوں تک کی کر سکوں گا اقبال ٹاﺅن کے رہائشی آپ سے ملاقات کے خواہشمند ہیں ان کی درخواست ہے ایک روز بارش میں یا بارش کے بعد اقبال ٹاﺅن کی سبزی اور فروٹ منڈی کا ضرور وزٹ کریں۔ مہران بلاک کرکٹ گراﺅنڈ جو لاہور کی خوبصورت گراﺅنڈ ہوا کرتی تھی گزشتہ تین ماہ سے گندے پانی کا جوہڑ بن چکی ہے۔ افسوس گزشتہ حکومت نے کروڑوں روپے خرچ کر کے بھی فروٹ منڈی، کرکٹ گراﺅنڈ، سبزی منڈی کے سیوریج کا مسئلہ حل نہیں کیا صرف تختیاں لگائی گئی ہیں میری درخواست ہے گزشتہ دو سال میں ان علاقوں کے لئے منظور کیے گئے ترقیاتی فنڈ کی تحقیقات کا حکم دیں۔
آج کے کالم میں علامہ اقبال ٹاﺅن کے قبرستانوں پر سیاست کا ذکر نہیں کروں گا، آپ کے میٹروپولیٹن کے اہلکاروں کی مدد سے شب خون مار کر مخصوص سیاسی جماعت کے عہدیداروں نے غیر آئینی انداز میں کریم اور نشتر بلاک علامہ اقبال ٹاﺅن کی قبرستان کمیٹیوں پر قبضہ کر لیا ہے جلد ایک کالم اہل علاقہ کو ہوش ربا انکشاف دینے کے لئے لکھوں گا۔جناب وزیراعلیٰ کلین لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی اور پی ایچ اے،واسا نے اقبال ٹاﺅن کو کھنڈر بنا دیا ہے ملتان چونگی سے لے کر کریم بلاک تک کروڑوں روپے کے گٹر گرین بیلٹ کے اندر بنائے گئے ہیں جو بند پڑے ہیں اب تک انہیں کھولا نہیں گیا، تھوڑی سی بارش کے ساتھ ہی ملتان چونگی سے منصورہ کالج، سبزی منڈی، فروٹ منڈی، کرکٹ گراﺅنڈ دریا بن جاتے ہیں،ہاتھی چوک سے نشتر بلاک کی گرین بیلٹ اور اقبال ٹاﺅن کے اندر کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔پی ایچ اے ویسٹ مینجمنٹ اور ایل ڈی اے لاتعلق ہو چکے ہیں۔کلین لاہور مین روڈ کے چوکوں سے کوڑے کے ڈھیر اٹھا کر سب اچھا کا نعرہ لگا رہا ہے۔ مصطفی ٹاﺅن چوک سُچی چکی کے پاس ایس گڑھا بنا دیا گیا ہے جہاں گندھا پانی جمع ہے اور ڈینگی کالا لاروا کئی دفعہ برآمد ہو چکا ہے ویسٹ مینجمنٹ کو محلوں میں نہیں جانا نہ جائے، مگر گرین بیلٹ کے اطراف سڑکوںکو تو صاف کرے۔واسا نے پانی اور سیوریج دو فیصد مہنگا کر دیا ہے، ملتان چونگی سے لے کر کریم بلاک تک گرین بیلٹ کے گٹر بند ہیں، سبزی منڈی، کرکٹ گراﺅنڈ، فروٹ منڈی کے گٹر بند ہیں اور اقبال ٹاﺅن میں تمام ٹیوب ویل خراب ہیں۔
بجلی کی لوڈشیڈنگ کو جواز بنا کر پانی کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے پانی کی فراہمی اور گٹر کا مسئلہ سنگین ہو چکا ہے۔ ایل ڈی اے کا ایک کمرشل پلاٹ کامران بلاک، مہران بلاک، ویلفیئر سوسائٹی کے دفتر کے ساتھ ایک پلاٹ سبزی منڈی میں نشیوں کی آماجگاہ بن کر رہ گئی ہے۔ عرصہ سے کھنڈر بنا ہوا ہے پورے علاقے میں کوڑا ور کباڑ جمع ہو رہا ہے۔ایل ڈی اے اقبال ٹاﺅن کو بنا کر لاتعلق ہو چکا ہے۔مصطفی ٹاﺅن پنجاب یونیورسٹی سے ملحقہ خوبصورت سکیم تھی جو ایل ڈی اے اور اس کے محکموں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے مسائلستان بن گئی ہے۔ جناب وزیراعلیٰ آپ نگران ہیں جس جذبے سے کام کر رہے ہیں لوگوں نے آپ سے امیدیں وابستہ کر لی ہیں اب تک نظر انداز ہونے والے علاقوں کا سروے کروائیں۔ اہل لاہور سے کروڑوں روپے ماہانہ وصول کرنے والے واسا کا قبلہ درست کریں، پانی کی فراہمی اور نکاسی کے نظام کو مربوط بنوا دیں۔ پی ایچ اے جو لاہور کو خوبصورت بنانے کا دعویدار ہے اس کو مخصوص علاقوں سے نکال کر کھنڈر بننے والی گرین بیلٹوں کو آباد کروائیں۔ پی ایچ اے کے سینکڑوںگھوسٹ ملازمین کو تلاش کے کام پر لگائیں۔گورنس کی طرف آپ کی توجہ قابل ستائش ہے، قیمتوں پر کنٹرول ڈنڈے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
کلین لاہور کو ڈنگ ٹپاﺅ پالیسی سے ہٹا کر موثر صفائی کا نظام وقت کی ضرورت ہے،ہسپتالوں کی طرف آپ کی توجہ ہونے سے بہتری آئی ہے اب عوامی مسائل عوام سے سنے اور عوام میں جا کر سنیں اور حل کرنے کےلئے اقدامات کریں

مزید :

رائے -کالم -