اسٹیبلشمنٹ کا چیلنج

 اسٹیبلشمنٹ کا چیلنج
 اسٹیبلشمنٹ کا چیلنج

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 پی ٹی آئی کے پراپیگنڈے سے اپنے اندر پیدا ہوتی تقسیم دیکھ کر اسٹیبلشمنٹ عمران خان کی حمائت سے پیچھے ہٹ گئی ، اگر کل کو عدلیہ بھی پیچھے ہٹ گئی تو کیا ہوگا؟کیا عوام پھربھی اس کے ساتھ کھڑے رہیں گے جب انہیں یقین ہو جائے گا کہ کوئی بھی پی ٹی آئی کے ساتھ ایک پیج پر نہیں ہے ۔ ایسا نہیں ہوگا کیونکہ عوام چڑھتے سورج کی پوجا پر یقین رکھتے ہیں ، وہ بھٹو کو بھول بھال کر کبھی نواز شریف تو کبھی عمران خان کے پیچھے چل پڑتے ہیں !
پی ٹی آئی کے سہولت کاروں نے سوشل میڈیا کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کرکے اپنے اہداف کی نگہبانی اور اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے گزشتہ پانچ چھ برسوں سے ایک مخصوص ماحول بنائے رکھا جس کے نتیجے میں آج عام لوگ بھی عمران خان کو مظلوم کہتے پائے جاتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر ایک نیا رخ اپنایا اور امکانات کو خبر بنا کر پیش کرنا شروع کیا، خواہشوں کو خبر میں بدل کر عوام کو بے وقوف بنانا شروع کیا ۔ طریقہ کار یہ تھا کہ پہلے کسی امکان کو خبر بناﺅ، پھر اسے سوشل میڈیا پر پھیلا کر شور مچاﺅ تاکہ متعلقہ اتھارٹی ایسا کوئی عمل کرنے سے باز رہے جس کی بھنک عمران خان کو پڑجاتی تھی لیکن اگر اس کے باوجود بھی اتھارٹی اپنے ارادوں پر عمل پیرا ہوجاتی تو ایک نیا پراپیگنڈہ کیا جاتا کہ عمران خان نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ایسا ہونے والا ہے، یہی کچھ کرتے کرتے پی ٹی آئی نے عمران خان کو گرفتاری سے بچا یا ہوا تھا تاآنکہ 9مئی کا سانحہ نہیں ہوگیا اور دفاعی پوزیشن اختیار کرنے والی اسٹیبلشمنٹ کو اپنا ہاتھ چلانے کا موقع مل گیا، یہ بالکل آپ کے اردگرد اڑنے والی مکھنی مارنے کا عمل تھا کہ اس کے باوجود کہ آپ نے ہاتھ میں مکھی مار پکڑا ہوا ہو ، آپ کو اسے مارنے کا موقع نہ مل پا رہا ہو!
سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی نے ایک ایسا دبدبہ قائم کرلیا ہوا تھا کہ کوئی بھی اس کی جانب سے بنائے جانے والے ٹرینڈ کے خلاف نہ بول سکتا تھا، نہ سن سکتا تھا، نہ دیکھ سکتا تھا، نہ سوچ سکتا تھا، نہ سمجھ سکتا تھا، نہ پوچھ سکتا تھا ، نہ ٹوک سکتا تھا اور نہ ہی روک سکتا تھا۔ کوئی بھولے سے کچھ کہہ دیتا تو اس کی ایسی پکڑ کی جاتی کہ الامان و الحفیظ۔ وہ پی ٹی آئی کی کہی بات تو آگے بڑھا سکتا تھا ، اس پر موافق تبصرہ تو کرسکتا تھا، اس کو دیکھ اور سن تو سکتا تھا مگر اس کے الٹ کچھ کہہ کر خود کو الٹا نے پلٹانے کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔ پی ٹی آئی کے ٹرولرز دل میں نکالنے سے پہلے سوشل میڈیا پر گالی نکالتے ہیں، اس لئے ان کے منہ کوئی بھی نہیں لگنا چاہتا۔
پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا کے استعمال کو اس خطرناک حد تک اپنا لیا تھا کہ صحافی ارشد شریف کے ناگہانی قتل کو اسٹیبلشمنٹ کے سر تھوپ کر اسے اپنے لانگ مارچ کا جواز بنانے کی راہ ہموار کی ۔ وہ تو ڈی جی آئی ایس پی آر نے بروقت پریس کانفرنس کرکے نقطہ اٹھایا کہ دیکھا جائے کہ ارشد شریف کے قتل کا beneficiaryکو ن بن رہا ہے تو لوگوں نے دوسری طرح سوچنا شروع کیا، یہی نہیں بلکہ جب وزیر آباد میں عمران خان پر گولی چلی اور اس کے بعد جس طرح سے دوبارہ اسٹیبلشمنٹ کو سوشل میڈیا میں نشانے پر رکھا لیا گیا اگر تب بھی ملزم نوید احمد کا ویڈیو بیان بروقت الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر نہ چلتا تو اس وقت ملک کا جو نقشہ ہوتا ، اس کا اندازہ کرنا کچھ زیادہ مشکل نہیں !
پی ڈی ایم حکومت نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی کے قانون میں تبدیلی کرکے الیکٹرانک میڈیا میں بیٹھے ہوئے پی ٹی آئی کے بہی خواہوں کو نکیل ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ کسی کو بھی مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور بغیر تردید یا تصدیق کئے اگر کوئی خبر بار بار چلائی گئی تو ایسے میڈیا ہاﺅس کے خلاف قانونی کاروائی ہوگی ۔ اس کا سبب یہ تھا کہ پہلے پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر ایک کمپین بناتی تھی اور پھر شام کو اینکر مافیا اسے موضوع بحث بنا کر شام سات سے رات بارہ بجے تک عوام کو بار بار باور کراتا تھا کہ پی ٹی آئی کیا کہہ رہی ہے اور اگلے روز کا اخبار شائع ہونے سے قبل ہی وہ ایک سچ بن چکا ہوتا تھا کیونکہ اخبار تو اگلے روز آتا ہے ، ٹی وی پر بحث شام کو ہوتی ہے ، بریکنگ نیوز کچھ بریک ہونے کے بعد بن سکتی ہے مگر سوشل میڈیا پر commentتو منٹ منٹ پر ڈالا جا سکتا ہے اور یہ کام پی ٹی آئی چابکدستی سے کر رہی تھی۔ پی ٹی آئی کی کاروائی دیکھ کر باربار ندیم افضل چن یاد آتے تھے کہ ’گل ودھ گئی اے مختاریا!‘
پہلے وقتوں میں لوگ دل میں مخالف کو گالیاں دیتے تھے اور منہ پر میٹھی باتیں کیا کرتے تھے مگر سوشل میڈیا کی سلیٹ پر وہ سب کچھ عود آتا ہے جو انسان اپنے دل میں سوچ رہا ہوتا ہے ۔ یعنی پی ٹی آئی کا کام صرف ایک شوشہ چھوڑنا ہوتا تھا اور پھر اس کے بہی خواہ وہ سب کچھ بلا جھجھک کہتے پائے جاتے تھے جو ان کے دل میں ہوتا تھا۔ اخبار اور ٹی وی میں تو شناخت چھپائی جا سکتی ہے مگر سوشل میڈیا اس قدر تیزی سے پھیلتا ہے کہ شناخت کا پہلو بے معنی ہو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ ہر کوئی اس میں شامل ہو جاتا ہے اور تادیبی کاروائی غیرموثر ہو کر رہ جاتی ہے ۔ ایک زمانے میں ایوان صدر کی دیوار پر صدر فضل الٰہی کو رہا کرو کے الفاظ لکھے گئے تھے مگر لکھنے والا آج تک نہ پکڑا جا سکا، اس ایک لائن کا اثر آج بھی ہماری سیاسی تاریخ میں اٹل حقیقت رکھتا ہے اور جہاں سوشل میڈیا پر ہر گزرتے لمحے میں ایسا مواد ڈالا جا رہا ہو اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں ، یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور یہی ہماری آج کی اسٹیبلشمنٹ کا چیلنج بن چکا ہے جس کا ادراک کرتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو نے ’اگر مجھے قتل کیا گیا‘ میں پیش گوئی کی تھی کہ پاکستان میں چوتھا مارشل لاءنہیں لگ سکے گا!

مزید :

رائے -کالم -