بین المذاہب مکالمہ.... وقت کی اہم ضرورت

بین المذاہب مکالمہ.... وقت کی اہم ضرورت
بین المذاہب مکالمہ.... وقت کی اہم ضرورت

  

اسلام امن و سلامتی کا دین ہے۔ اسلامی تعلیمات کا حُسن انسانیت کی بقا اور فلاح کے لئے سرگرم عمل رہنا ہے۔ اسلام انٹر فیتھ ڈائیلاگ، یعنی ادیان عالم کے مابین مکالمے کے لئے بنیادیں فراہم کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق اخروی نجات دائرہ اسلام میں داخلے کے ساتھ مشروط ہے، اس لئے کہ قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ” اللہ کے ہاں قابل قبول دین تو اسلام ہی ہے“.... لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو دیگر ادیان و مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ امن و سکون سے رہنے کی نصیحت کرتا ہے۔ حق بلاشبہ اسلام میں محصور ہے اور یہ ہمارے ایمان کا بنیادی نکتہ ہے، لیکن اس کا یہ مطلب قطعاًنہیں کہ دوسرے مذاہب کے لوگوں سے نفرت و حقارت کا سلوک کیا جائے۔ ہم مسلمان اگر انسان ہیں تو یہودی، عیسائی یا ہندو وغیرہ بھی انسان ہیں۔ بطور مسلمان ہمارے اوپر غیر مذاہب والوں کے کچھ حقوق عائد ہوتے ہیں، لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے ان فرائض سے بہت حد تک غافل ہیں۔ قرآن حکیم ہماری رہنمائی کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگرچہ حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی میں روز روشن کی طرح امتیاز ہو چکا، تاہم کسی کو قبولیت حق کے لئے مجبور نہیں کیا جاسکتا، یہ تو اپنے نصیب کی بات ہے۔

 انسان کو اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں آزاد کر دیا ہے کہ وہ جو چاہے، دین اختیار کرے۔ اس پر کسی طرح کا جبر نہیں۔ اپنی پسند کا دین اپنانے کا اختیار یہ اسلامی تعلیمات کا منفرد ضابطہ ہے جو اپنے پس منظر میں مذہبی آزادی کی طرف بنی نوع انسان کی بالعموم اور اہل اسلام کی بالخصوص رہنمائی کرتا ہے۔ ہم ایک غیر مسلم سے اس کی دینی اقدار اور مذہبی روایات کے بارے میں مکالمہ تو کر سکتے ہیں۔ ہم اس کے دینی حقوق و فرائض کو زیر بحث تو لا سکتے ہیں۔ ہم اس کے دینی، معاشرتی اور سماجی مسائل کا حل اس کے اپنے دین اور مذہب کی روشنی میں تلاش تو کرسکتے ہیں لیکن ہم کسی غیر مسلم کو زبردستی اپنے دین کی طرف نہیں بلا سکتے۔ ہم ان کے معاملات ان کے اپنے ایمان کے مطابق طے کریں گے۔ شریعت کے اصول و ضوابط اہل ایمان کے لئے ہوں گے، مثلاً اقامت صلوٰة ایک مسلم ریاست کی ذمہ داری ہے، زکوٰة کی وصولی اور منصفانہ تقسیم اسلامی حکومت کے فرائض میں داخل ہے، اگر کبھی خوش قسمتی سے پاکستان میں اسلامی حکومت آجائے تو اس ملک کے باسی غیر مسلموں کے اموال سے زکوٰة وصول نہیں کی جائے گی، نماز کے وقت انہیں مساجد میں نہیں دھکیلا جائے گا۔ وہ اپنے مذہب پر عمل کرنے میں آزاد ہوں گے۔ ان کے فیصلے ان کے اپنے مذہب کی روشنی میں کئے جائیں گے۔

اسوئہ حسنہ میں ہمیں اس کی ایک سے زائد مثالیں ملتی ہیں۔ ان میں سے ایک زنا کے مرتکب اس یہودی مرد و عورت کا قصہ ہے، جنہیں مدینہ کے یہودی، نبی مکرم کی بارگاہ میں لائے اور درخواست کی کہ آپ ان کا فیصلہ موسوی شریعت،یعنی توریت کی روشنی میں کر دیں۔نبی مکرم توریت نہیں پڑھ سکتے تھے۔ آپ نے یہودی عالم سے کہا کہ توریت میں زنا کے جرم کی سزا والی آیات پڑھو۔ اس شخص نے رجم والی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور دوسری آیت پڑھنے لگا، لیکن آپ نے فرمایا کہ تمہارے ہاتھ کے انگوٹھے کے نیچے کیا لکھا ہے؟....چنانچہ اس کو مجبوراً توریت میں زنا کی سزا رجم والی آیت پڑھنا پڑی اور آپ نے اس جوڑے کو یہودی شریعت کی روشنی میں رجم کر دیا، اگرچہ اسلام میں شادی شدہ زانی کے لئے بھی یہی سزا ہے، لیکن آپ نے اس موقع پر اسلامی شریعت کی روشنی میں یہ سزا نہ دی۔ آپ کا یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ اسلامی معاشرے میں اسلام کے علاوہ دیگر ادیان و مذاہب کا نہ صرف احترام کیا جانا چاہئے، بلکہ انہیں جینے کا حق دیا جائے، لیکن جب ہم اسلام کے نام پر قائم ہونے والے پاکستان میں اپنے دینی اور معاشرتی رویوں پر نگاہ دواڑتے ہیں تو بے حد افسوس ہوتا ہے۔ ہم اسلامی تعلیمات سے کوسوں دور ہیں۔ ہم نے غیر مسلموں سے عمدہ اخلاق اور حُسنِ سلوک کا کیا مظاہرہ کرنا، ہم تو اپنے کلمہ گو بھائیوں کو تشدد اور نفرت کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ بے گناہوں کو راہ چلتے ہوئے ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ فرقہ وارانہ اختلاف کی وجہ سے بسوں سے اتار کر گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس پُرتشدد ماحول اور مذہبی عدم رواداری کے شکار معاشرے میں بین المذاہب مکالمے اور غیر مسلموں سے حسن سلوک کی بات کرنا بہت دلیری کی بات ہے۔ آج یہ سطور لکھنے کا محرک بھی ایسی ہی ایک مجلس بنی ہے۔

9/11 کے بعد بین المذاہب مکالمے کی تحریک نے زور پکڑ لیا ہے، بلکہ ایک طرح سے یہ فیشن بھی بن گیا ہے۔ پاکستان میں بھی ایسی این جی اوز وجود میں آچکی ہیں جو بین المذاہب ہم آہنگی اور مکالمے کی بات کرتی ہیں، لیکن زیادہ تر زبانی جمع خرچ ہے۔ اخلاص بہت کم اور دکھاوا بہت زیادہ ہے۔ منافقت اور ریاکاری کے مرض میں مبتلا معاشرے کے افراد سے اس کے علاوہ اور کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ وہ لوگ کہ جنہیں کلمہ طیبہ کا مفہوم بھی نہیں آتا، جو بنیادی ارکان اسلام سے نابلد ہیں، وہ بین المذاہب مکالمے کے داعی ہیں، حالانکہ یہ ایک آسان راستہ نہیں۔ مکالمے کی تحریک کا حصہ بننے سے قبل ضروری ہے کہ مکالمے کے تقاضوں سے باخبر ہوا جائے۔ زیادہ نہیں تو کم از کم اپنے دین کی اساسی تعلیمات اور اسلام کے بنیادی عقائد سے واقف ہوا جائے، تقابل ادیان کے موضوع پر کچھ نہ کچھ علم تو ہو، تاکہ غیر مسلموں سے مکالمے کی بنیاد مضبوط ہو سکے۔ حالیہ چند برسوں میں اس میں کافی تیزی آچکی ہے۔

سعودی عرب جیسی راسخ العقیدہ اور سلفیت کی دعوےدار حکومت بھی بین المذاہب مکالمے کی تحریک میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ اگرچہ عملی طور پر بہت کم افراد اور تنظیموں کا کام موثر ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر لوگوں کو علم ہی نہیں کہ انٹر فیتھ ڈائیلاگ کس چیز کا نام ہے، لیکن وہ لوگ جو نہ صرف اخلاص اور سنجیدگی سے مسلم اور غیر مسلم کے مابین بالعموم اور مسلم مسیحی مکالمے کے لئے بالخصوص متحرک ہیں اور ان کی سرگرمیاں ایک تسلسل سے جاری ہیں، ان میں مسلم کرسچیئن فیڈریشن انٹرنیشنل کا نام بے حد نمایاں ہے۔ اس کے روح رواں قاضی عبدالقدیر خاموش ہیں جو ایک سیاست دان ہی نہیں، عالم دین بھی ہیں اوار حافظ قرآن بھی، علم و دانش کا مرقع بھی ہیں اور عالمی منظر نامے میں ہونے والی سماجی اور مذہبی تبدیلیوں سے باخبر بھی۔ انہوں نے مسلم کرسچیئن فیڈریشن کے نام سے بین المذاہب مکالمے کی تحریک شروع کی اور آج یہ ننھی سی کونپل ایک تن آور درخت بن چکی ہے۔ مسلم کرسچیئن فیڈریشن کی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ان سطور کے راقم کا امریکہ جانا ہوا، وہاں بھی قاضی صاحب کی خدمات کا اعتراف کیا جا رہا تھا۔

دنیا کے مختلف ممالک میں مسلم کرسچین فیڈریشن کے زیر اہتمام انٹر فیتھ ڈائیلاگ کے لئے ورکشاپس اور سیمینارز منعقد ہو چکے ہیں، جن میں مختلف ادیان و مذاہب سے تعلق رکھنے والی بین الاقوامی شہرت کی حامل شخصیات شریک ہو چکی ہیں۔ ابھی چند روز پہلے قاضی صاحب نے اپنے آبائی گاو¿ں ہیل (کھاریاں) میں تین روزہ ورکشاپ منعقد کی، جس میں چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان سے نمائندہ افراد نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ ایک سیمینار بھی منعقد ہوا، جس میں لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس قسم کی سرگرمیاں، مختلف مذاہب کے پیروکاروں کا مل بیٹھ کر ایک دوسرے کے خیالات سننا باہمی فاصلے کم کرنے کاذریعہ ہیں۔زمینی فاصلے کم کرنے کے لئے بھی حرکت کرنا پڑتی ہے۔انسان اپنی جگہ ٹھہرا رہے تو معمولی سافاصلہ بھی کم نہیں ہو سکتا اور اگر وہ متحرک ہو جائے تو ہزاروں میل کا سفر بھی طے ہو جاتا ہے۔ یعنیہ دلوں کے فاصلے ہیں کہ ان کی دوریاں تو مشرق و مغرب سے بھی زیادہ ہیں۔ اصل کمال تو ان دوریوں کو ختم کرنا ہے، ندی کے کنارے جو باہم متوازی سفر کرتے ہیں ، ان کو آپس میں جوڑنا ہے۔ بظاہر یہ ناممکن ہدف، لیکن جناب قاضی عبدالقدیر خاموش مسلسل سفر میں ہیں اور ان کا سفر منزل کے حصول تک جاری ہے اور جو شخص مسلسل سفر میں رہے، وہ کبھی نہ کبھی ضرور منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے اور گوہر مراد کے پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔  ٭

مزید :

کالم -