کرسمس.... عید ِ ولادت المسیح

کرسمس.... عید ِ ولادت المسیح
کرسمس.... عید ِ ولادت المسیح

  

کرسمس عید ِ ولادت المسیح کا تہوار دنیا بھر میں 25دسمبر کو نہایت ترک و احتشام سے منایا جاتا ہے۔ یہ عظیم دن شہزادہ¿ امن (پرنس آف پیس) کے یوم پیدائش کے حوالے سے امن، صلح، آشتی اور تجدید محبت کے لئے معروف و مقبول ہے۔ لکھا ہے کہ خدا نے دنیائے انسانیت سے اپنی محبت اور گناہ کے موروثی اثرات سے نجات کے لئے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اُن پر ایمان لائے، ہلاک نہ ہو، بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔ خدا وند یسوع منجی عالم اور نجات دہندہ بنی نوع انسان ہیں اور خدا سے انسان کے ٹوٹے ہوئے رشتے اور تعلق کو بحال کرنے کے لئے عرش کو چھوڑ کر فرش پر اُتر آئے اور اپنی کنواری ماں مریم مقدسہ کے بطن سے روح القدس خدائے واحد کے ارشاد ربانی کے مطابق انتہائی کسمپرسی کے عالم میں بیت اللحم کی سرائے کے ایک اصطبل کی چرنی میں پیدا ہوئے۔

 انجیل جلیل کے مطابق ان کی پیدائش کی خبر بھی سردیوں کی ٹھٹھرتی ہوئی راتوں میں بھیڑوں کی چوپانی کرتے ہوئے گڈریوں اور چرواہوں کو فرشتوں نے امن و صلح و آشتی کے گیت سناتے ہوئے دی۔ پورب اور پچھم کے مجوسیوں اور ستارہ شناسوں نے خدا وند یسوع مسیح کی پیدائش پر ایک محیر العقول ستارے کو نمودار ہوتے ہوئے دیکھا، پھر اُسی ستارے کی رہنمائی میں وہ یسوع کی زیارت گاہ چرنی تک آ پہنچے۔ انجیل مقدس میں لکھا ہے کہ اُن کی ولادت سے صلیب دیئے جانے تک اُن کا رابطہ پسے ہوئے اور پچھڑے پس ماندہ طبقات اور سماجی اور دینی طور پر ٹھکرائے ہوئے گناہ گاروں اور شرعی عالموں کے رد کئے ہوئے مفلوک الحال اور بوجھ سے دبے ہوئے عوام سے رہا۔ یہی وجہ تھی کہ اُس دور کے اسرائیلی کاہن اور فتویٰ فروش اُس کے در پے آزار رہے۔

انہیں اعتراض تھا تو یہی کہ وہ اُن کا ہم سفر اور ہم نوا ہونے کی بجائے گناہ گاروں، شرابیوں اور محصول لینے والے خطا کاروں کے درمیان شب و روز کیوں گزارتے ہیں،وہ جو بزعم خویش خود کو راست باز اور پرہیز گار سمجھتے ہیں، اُن سے کنارہ کشی کیوں اختیار کئے ہوئے ہیں، جس کے جواب میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ”مَیں تو آیا ہی اِن گناہ گاروں اور خطا کاروں کی نجات کے لئے ہوں، کیونکہ طبیب کی ضرورت صحت مندوں کو نہیں، بیماروں کو ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنے شاگردوں کا انتخاب بھی نچلے طبقے کے محنت کشوں، مچھیروں اور ماہی گیروں سے کیا اور انہیں آدم گیر بننے کی تربیت اور بشارت دی، آج دنیا کی نصف سے زائد آبادی اُن کے شہید آدم گیر شاگردوں کی مساعی ¿ جمیلہ اور بشارت و آگہی کے سائے تلے مشرف بہ مسیحیت ہو کر مثالی اور دوسرے مذاہب کے مقابلے میں قابل ِرشک زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے نہ تو تلوار سے ملک فتح کئے، نہ بادشاہتیں قائم کیں،بلکہ فرمودات مسیح خداندی کی تعلیمات کا پرچار اور بشارت کا پیغام دیا، یوں عوام کے قلوب و اذہان کو مسخر کیا۔ اُن کے شاگردوں میں سے صرف ایک طبعی عمر پا کر واصل ِ حق ہوئے، باقی11یا تو صلیب دیئے گئے یا قتل کر دیئے گئے، لیکن اُن کے خون سے سینچے ہوئے ثمرات کے تحت لوگ آج بھی سرخ رُو اور قد آور اطمینان بخش زندگی بسر کر رہے ہیں۔

خدا وند یسوع مسیح نے بنی نوع انسان کو شریعت کی شقاوت اور جبر سے آزاد کرتے ہوئے بوجھ سے دبے ہوئے لوگوں کو آرام بخشا۔ انہوں نے اپنے دور کے شروع کے عالموں کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں سفیدی پھری ہوئی قبروں کے مشابہ قرار دیا اور کہا کہ تم سونف اور پودینہ پردہ کی آمدنی میں سے10فیصد ذکات دیتے ہو، لیکن بیواﺅں کے گھروں پر قبضہ جما لیتے ہوئے انہوں نے سرمایہ داروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اونٹ کا سوئے کے ناکے میں سے نکل جانا آسان ہے، لیکن سرمایہ دار کا خدا کی بادشاہی میں داخل ہونا مشکل ہے۔ خدا وند یسوع مسیح کا پیغام محبت عالمگیر پیغام ہے، جس میں صرف امن ہی امن ہے، محبت ہی محبت ہے۔ دشمنوں تک سے محبت کا پیغام خطاﺅں اور گناہوں کی معافی کا پیغام نہ جنگ، نہ جہاد، نہ فرقہ واریت، نہ مذہبی تفریق و امتیاز، نہ انتہا پسندی، نہ مذہب کے نام پر دہشت گردی، بلکہ اُن کے نزدیک مختون، یونانی اور رومی سب برابر ہیں۔

 انہوں نے سامریوں اور یہودیوں کے درمیان بنی ہوئی ہر دیوار کو مسمار کر دیا اور ایک سامری خاتون کے ہاتھوں پانی پی کر اُسے ہمیشہ کی زندگی کا امرت بخش دیا۔ آج دہشت گردی، قتل و غارت گری اور فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی کے ماحول میں خداوند یسوع مسیح کے امن و محبت کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ روٹھے ہوﺅں کو منانے اور محبت کے رشتوں کو بحال کرنے کی ضرورت ہے، صرف اسی صورت میں ہم شہزادہ¿ امن خدا وند یسوع المسیح کے یومِ ولادت کے حقیقی مفہوم کی تفہیم حاصل کر کے دنیائے انسانیت کو امن و چین کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔ آپ سب کو عید ِ ولادت المسیح اور سالِ نو اپنی تمام تر روحانی اور دنیاوی برکات و فیوض کے ساتھ مبارک ہو۔ آمین! ....( ڈاکٹر کنول فیروز مسیحی دانشور ہیں، اس مضمون میں استعمال ہونے والی اصطلاحات مسیحی عقائد کے مطابق ہیں)

مزید :

کالم -