بجلی کا بحران ختم ہو سکتا ہے

بجلی کا بحران ختم ہو سکتا ہے
بجلی کا بحران ختم ہو سکتا ہے

  

اس وقت پاکستان توانائی کے شدید بحران سے دوچار ہے، بجلی اتنی کم ہے کہ شہروں میں 10سے12گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ایسے میں دیہات کا جو حال ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ اب سردی شروع ہوئی تو گیس کا بحران بھی پیدا ہو گیا ہے اور ہم شہری دوہری پریشانی سے دوچار ہیں۔یہ درست ہے کہ وزیراعظم اور حکومت اس بحران کو ختم کرنے کی نوید سنا رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تین چار سال میں لوڈشیڈنگ ختم کر دی جائے گی وہ درست فرماتے ہوں گے، لیکن حقائق بالکل مختلف ہیں ابھی تو حکومت نے بجلی گھر بنانے کے لئے معاہدے کئے ہیں ان کو بروئے کار لانے اور تکمیل میں کئی سال لگیں گے اور پھر جوں جوں بجلی کی پیداوار بڑھے گی۔ توں توں مانگ بھی بڑھتی چلی جائے گی کہ اس عرصے میں صنعتیں بھی لگنا ہیں اور مکان مارکیٹیں بھی بن رہی ہیں۔یوں یہ سب افسانہ لگتا ہے۔ یوں بھی جو بجلی تیل اور کوئلے سے پیدا ہو گی وہ نسبتاً مہنگی ہو گی، کوئلے اور تیل کی درآمد پر زرمبادلہ خرچ ہو گا۔

میرے خیال میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے مناسب اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں اور نہ ہی ہماری سمت درست ہے۔ہمارے قائدین یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ملک میں توانائی کے بہت سے وسائل ہیں، لیکن ان کو استعمال میں تو لایا نہیں جا رہا۔ باتیں بہت کی جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں ذرا دنیا پر نظر ڈالیں تو بہت کچھ واضح ہو جاتا ہے۔ عالمی سطح پر تیل اور کوئلے پر انحصار ختم کیا جا رہا ہے۔ کہ یہ ماحول کے لئے تباہ کن ہے، گرین ہاؤس سائنس دان مخالفت کر رہے ہیں ان کا استدلال یہ ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو دنیا بھر میں درجہ حرارت بڑھتا رہے گا اور2050ء تک درجہ حرارت میں چار درجہ تک اضافہ ہو جائے گا، جو بتدریج بڑھے گا اور یہ زمین جیسے سیارے کے لئے خطرناک ہے۔ اس وقت بھی دنیا طوفانوں، بارشوں، زلزلوں اور گرمی کی شدت سے دوچار ہے۔ پاکستان کوئی دنیا سے الگ تھلگ نہیں ہے۔ یہاں بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور درجہ حرارت ہی میں اضافہ نہیں ہوا، گرمی کے موسم کا دورانیہ بھی بڑھ گیا ہے۔ اب سردی تو صرف ڈیڑھ دو ماہ کے لئے آتی ہے۔ اس میں بھی سوکھی سردی کا دورانیہ زیادہ ہوتا ہے اور امراض کا سبب بنتا ہے۔ بہار کا موسم تو قریباً خواب بن کر رہ گیا ہے۔ جھٹ سے گرمی اور اچانک سردی آ جاتی ہے۔ بجلی کے بحران کے حل کے لئے تجاویز سے قبل گزارش کر دی جائے۔

حضور اکرم ؐ کا فرمان گرامی ہے کہ ’’صبح جلد اُٹھو، فجر کی نماز کے بعد رزق کی تلاش کے لئے نکل جاؤ اور مغرب تک واپس گھر آ جاؤ‘‘ اگر آپ غور فرمائیں پرندوں کا بھی یہی معمول ہے، وہ فجر کو رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں اور شام تک گھونسلوں میں واپس آ جاتے ہیں۔ آپ بھی یہ طریقہ اپنا کر دیکھیں کتنی برکت پڑتی ہے، لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے، ہم نے دن کو رات اور رات کو دن بنایا ہوا ہے۔ ہمیں اپنے معمولات کو واپس لانا ہو گا۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ہم بہت نقال ہیں۔ مغرب کی نقل کرنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ہے، لیکن ہم ان کی اچھی باتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ توانائی کے حوالے سے جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ دنیا بھر نے وہ معمول اپنا رکھا ہے، جس کے لئے ہمارے نبی اکرم ؐ نے فرمایا تھا۔ پورے مغرب اور دنیا کے دوسرے ممالک میں کاروبار دن کو شروع ہوتے اور سورج غروب ہونے تک بند ہو جاتے ہیں۔ لوگ گھروں میں آ کر بیوی بچوں کو وقت دیتے ہیں۔ہم کیا کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنے اعمال پر غور کرنا ہو گا۔

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ دنیا میں سورج کی روشنی اور تجارت کے ساتھ ساتھ ہوا اور پانی سے استفادہ کیا جا رہا ہے، جو سستا طریقہ بھی ہے ہم بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔ میرے خیال میں ہمیں سولر کی طرف جانا چاہئے۔ملٹی نیشنل سولر کمپنیوں کی خدمات حاصل کریں، بتدریج استعمال بڑھاتے جائیں۔ ابتدا سائن بورڈ، سگنل اور سٹریٹ لائٹ سے کی جا سکتی ہے اس کے ساتھ ہی شہریوں کو رضاکارانہ طور پر سولر کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ نیا مکان تعمیر کرنے والے بجٹ میں سولر کی تنصیب بھی شامل کر لیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں پن بجلی کے لئے بڑے بڑے ڈیموں کے علاوہ مقامی طور پر چھوٹے پیمانے پر بجلی پیدا کرنی چاہئے۔ سوات، ہزارہ، کاغان اور ایسی ہی خوبصورت وادیوں میں آبشاریں اور چھوٹے دریا ہیں۔ اگر ان کے ذریعے مقامی طور پر ایک میگاواٹ سے پانچ سات میگاواٹ تک بجلی حاصل کریں اور اسے مقامی استعمال کے لئے دے دیں تو نیشنل گرڈ پر بوجھ کم ہو گا لوڈشیڈنگ میں کمی ہو جائے گی۔

ایسے بجلی گھر کم لاگت میں جلدی تیار ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہمیں ہوا سے بھی استفادہ کرنا ہو گا۔ بدین، ٹھٹھہ سے گوادر تک ساحل کے ساتھ ساتھ ہوا سے بہت زیادہ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ ہالینڈ اس کی مثال ہے۔ مَیں نے کیلی فورنیا کے صحرا میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لئے ونڈ مل لگے ہوئے دیکھے ہیں اور ہمارے پاس بلوچستان ڈیزرٹ اس کے لئے بہترین جگہ ہے۔ میری اس تجویز پر بھی غور کریں کہ دکانیں مغرب(سورج غروب ہونے پر) تک کھلی رہیں اور پھر بند ہو جائیں۔ صنعتوں میں شفٹ سسٹم کر دیا جائے اور ہفتہ وار رخصت کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ زون بنا کر چھٹی پیر سے اتوار تک پھیلا دی جائے۔ تعلیمی اداروں اور دفاتر کے اوقات بھی تبدیل کر دیئے جائیں۔ ان طریقوں پر عمل کرنے سے اتنی بجلی بچے گی کہ لوڈشیڈنگ کی ضرورت نہیں رہے گی اور اس میں تمام لوگوں کو بھی حکومت کی مدد کرنی چاہئے اور اپنے اپنے گھروں اور دفاتر میں روشنی کا استعمال کم سے کم کرنا چاہئے۔

مزید :

کالم -