قائد اعظم ؒ ایک اسلامی فلاحی مملکت چاہتے تھے!

قائد اعظم ؒ ایک اسلامی فلاحی مملکت چاہتے تھے!
قائد اعظم ؒ ایک اسلامی فلاحی مملکت چاہتے تھے!

  

پورا عالم اسلام ایک قوم ہے اور غیر مسلم ایک الگ قوم کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں، اس کے علاوہ کوئی تیسری قوم دین اسلام اور مسلمانوں کے نزدیک دنیا میں وجود نہیں رکھتی ،یہی نظریہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کا باعث بنا اور اسی دو قومی نظریہ سے ہندوستان کے مسلمانوں کو روشناس کروانے والی شخصیت ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ تھی ،یہی نظریہ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کو پاکستان کے خواب کی تعبیر حاصل کرنے کے لئے مسلسل ثابت قدم رکھے ہوئے تھا۔

11 جنوری، 1938 ء کو گیا ریلوے سٹیشن بہار پر ایک بہت بڑے مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے مسلم لیگ کا جھنڈہ لہرا کر فرمایا: ’’آج اس عظیم الشان اجتماع میں آپ نے مجھے مسلم لیگ کا جھنڈا لہرانے کا اعزاز بخشا ہے۔ یہ جھنڈا در حقیقت اسلام کا جھنڈا ہے، کیونکہ آپ مسلم لیگ کو اسلام سے الگ نہیں کر سکتے۔ بہت سے لوگ بالخصوص ہمارے ہندو دوست ہمیں غلط سمجھے ہیں۔ جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں یا جب ہم کہتے ہیں کہ یہ جھنڈا اسلام کا جھنڈا ہے تو وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم مذہب کو سیاست میں گھسیٹ رہے ہیں، حالانکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہم فخر کرتے ہیں۔ اسلام ہمیں ایک مکمل ضابطہ حیات دیتا ہے۔ یہ نہ صرف ایک مذہب ہے، بلکہ اس میں قوانین، فلسفہ اور سیاست سب کچھ ہے۔ درحقیقت اس میں وہ سب کچھ موجود ہے جس کی ایک آدمی کو صبح سے رات تک ضرورت ہوتی ہے۔ جب ہم اسلام کا نام لیتے ہیں تو ہم اسے ایک کامل لفظ کی حیثیت سے لیتے ہیں۔ ہمارا کوئی غلط مقصد نہیں، بلکہ ہماری اسلامی ضابطہ کی بنیاد آزادی، عدل و مساوات اور اخوت ہے‘‘۔ اس کے بعد آپ 6 مارچ 1946ء کو فرماتے ہیں: ’’ہمیں قران پاک، حدیث شریف اور اسلامی روایات کی طرف رجوع کرنا ہو گا جن میں ہمارے لئے مکمل رہنمائی ہے، اگر ہم ان کی صحیح ترجمانی کریں اور قراٰن پاک پر عمل پیرا ہوں‘‘۔

سیکولر ذہن رکھنے والے دانشور، روشن خیالی کے حامل افرادقائد اعظمؒ کی 11 اگست 1947ء کی جس تقریر کا حوالہ بطور سیکولر ازم دیتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ’’آپ آزاد ہیں، آپ کو اپنے معبدوں میں جانے کی اجازت ہے، پاکستان کی اس ریاست میں آپ کو اپنی مساجد یا کسی بھی دوسری عبادت گاہوں میں جانے کی اجازت ہے‘‘۔ اور یہ بات بالکل درست ہے لیکن اس کو غلط رنگ دیا گیا ہے، مذہبی آزادی سب کو ہوتی ہے لیکن حکم صرف اللہ تعالیٰ کا اور دین صرف اسلام ہی نافذ ہوتا ہے۔ یہ بات پاکستان میں اقلیتوں کے ان کے حقوق اور مذہبی آزادی کے لئے کہے تھے جو اسلام نے ایک مسلم ریاست میں لازمی قرار دئیے ہیں۔ سیکولر حلقے اس بات کی جو تعبیر کر رہے تھے، قائد اعظم نے خود اس کی نفی کر دی تھی۔25 جنوری 1947ء کو کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم ؒ نے دو ٹو ک انداز میں فرمایا تھا: ’’اسلامی اصول آج بھی ہماری زندگی کے لئے اسی طرح قابل عمل ہیں جس طرح تیرہ سو سال پہلے قابل عمل تھے‘‘۔

قائد اعظمؒ نے وفات سے چند روز قبل فرمایا: ’’تم جانتے ہو کہ جب مجھے احساس ہوتا ہے کہ پاکستان بن چکا ہے، تو میری روح کو کس قدر اطمینان ہوتا ہے۔ یہ مشکل کام تھا اور مَیں اکیلا اسے کبھی نہیں کر سکتا تھا، میرا ایمان ہے کہ یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فیض ہے کہ پاکستان وجود میں آیا۔ اب یہ پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اسے خلافت راشدہ کا نمونہ بنائیں تاکہ خدا اپنا وعدہ پورا کرے اور مسلمانوں کو زمین کی بادشاہت دے‘‘۔۔۔ ’’ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا، بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے، جہاں ہم اسلامی اصولوں کو آزما سکیں۔۔۔ (اسلامیہ کالج پشاور جنوری 13، 1948ء)۔۔۔ ماہ فروری 1948ء کو قائد اعظمؒ نے ریڈیو پاکستان پر اپنے خطاب میں یہی فرمایا تھا کہ ،ْ پاکستان کا آئین ابھی پاکستان کی قومی اسمبلی کو بنانا ہے۔ مجھے نہیں معلوم اس کی شکل و شباہت کیا ہوگی۔ مجھے یہ یقین ہے کہ یہ جمہوری نوعیت کا ہوگا جو اسلام کے اصولوں پر مشتمل ہوگا۔ جو آج بھی اسی طرح قابل عمل ہیں جس طرح آج سے تیرہ سوسا قبل قابل عمل تھے۔

اگر ہم قائد اعظم ؒ کی ذاتی زندگی پر نظر ڈالیں تو کئی واقعات ملتے ہیں جن سے ان کی اسلام دوستی اور مذہب سے محبت چھلکتی ہے۔ ہم نے قائداعظمؒ کی ہر سوانح عمری میں یہ واقعہ پڑھا ہے کہ جب وہ لندن میں بیرسٹری کے لئے داخلہ لیناچاہتے تھے تو انہوں نے لنکزان کو اپنی درسگاہ کے طورپر اس لئے منتخب کیا کہ لنکز ان میں دنیا کے عظیم ترین آئین یا نظام قانون دینے والوں۔۔۔Greatest Law Givers۔۔۔ کی فہرست میں ہمارے نبی آخر الزمان حضرت محمدﷺ کا نام گرامی بھی شامل تھا۔چنانچہ قائداعظم ؒ نے اس سے متاثر ہوکر لنکز ان میں داخلہ لیا اور بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ 1918ء میں انہوں نے بمبئی کی ممتاز شخصیت سرڈنشا کی بیٹی رتی سے شادی کی تو شادی سے قبل قبول اسلام کی شرط رکھی۔ محمد علی جناحؒ رتی ڈنشا کو مولانا نورانی کے سگے تایا مولانا نذیراحمد صدیقی کے پاس لے کر گئے، جنہوں نے انہیں مسلمان کیا اور ان کا نکاح قائداعظمؒ سے پڑھوایا۔ ایک دفعہ کسی صاحب نے محض شرارت کرنے اورمسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے لئے قائداعظم ؒ سے یہ سوال پوچھا تھا کہ آپ کا تعلق سنی فرقے سے ہے یا شیعہ فرقے سے؟ تو قائداعظم ؒ کا جواب تھا کہ ہادی اسلام حضور نبی کریم کا مذہب کیا تھا؟ یہ جواب ان کی سوچ، شخصیت اور مذہبی ر جحان کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔

جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو ایک آزاد مملکت دلانے والی عظیم شخصیت قائد اعظم محمد علی جناحؒ آج سے135سال قبل پیدا ہوئی، انہی کی جدوجہد کی بنا پر بر صغیر کے مسلمان\" قوم\" کہلائے۔67سال پہلے قائد اعظم محمد علی جناح نے ہمیں ہندوؤں اور انگریزوں کے تسلط سے آزادی دلائی۔آج ہم ایک جوہری طاقت بھی ہیں، لیکن یہ بات کس قدر تشویش ناک ہے کہ ہم اقوام عالم میں اب تک معزز اور محترم مقام حاصل نہیں کر سکے۔کیا ہم ایک قوم ہیں یا گروبندی کا شکار ہجوم! ہمیں یہ بھی جائزہ لینا چاہیے کہ پاکستانی قوم کے رہنماؤں میں قائداعظم جیسی اصول پسندی اور کردار کی عظمت کس حد تک موجود ہے۔

مسلم لیگ کا قیام 1906ء میں عمل میں آ چکا تھا، لیکن وہ مسلمانوں کو متحد کرنے میں ناکام تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح نے جب مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی تو مسلمانان ہند ایک قوم کہلانے لگے۔ مایوس تھے تو الگ ووٹ کا حق مانگتے تھے۔پُر امید ہوئے تو الگ وطن کا مطالبہ کرنے لگے۔جو کل تک جنوبی ایشیا میں محکوم اقلیت سمجھے جاتے تھے وہ اسکے چوتھائی حصے کے حکمران بن گئے۔سات سال کے عرصے میں وہ تحریک جسے دیوانگی، خام خیالی اور محض شاعری کہا جاتا تھا۔ مردانگی، پختہ کاری اور نثر میں لکھی ہوئی تاریخ بن گئی۔محمد علی جناحؒ کی پُر عزم اور با تدبیر قیادت کی وجہ سے 14اگست1947ء کو اقوام عالم میں سب سے بڑی اسلامی مملکت دنیا کے نقشے پر ابھری۔ قائد اعظم عزم صمیم اور قوت ارادی کے ایسے پیکر تھے جس کے سامنے ہندوؤں اور انگریزوں کی ایک نہ چلی۔سر آغا خان کہتے ہیں کہ ان تمام سیاستدانوں میں، جنہیں مَیں جانتا ہوں۔۔۔ کلینو، لائیڈجارج، چرچل، کرزن، مسولینی، مہاتما گاندھی۔۔۔ قائداعظمؒ ان کے مقابلے میں سب سے عظیم ہیں۔ ان میں سے کوئی شخص بھی کردار کی مضبوطی کے لحاظ سے ان سے بہتر نہیں ہے۔

قائد اعظمؒ کے کردار سے واقف ہر شخص کا کہنا ہے کہ قائد اعظمؒ کے قول و فعل میں کہیں تضاد نہیں تھا۔یہی میرے قائدکا کر دار تھااور اس بات سے ان کا بڑے سے بڑا مخالف بھی انکار نہیں کر سکتا تو پھر ہم کیوں اپنے معصوم رہنما پر بہتان طرازی پر اتر آئے ہیں۔ خدارا پاکستانی قوم پرظلم مت کیجئے، اس پر رحم کھائیے یہ بہت معصوم ہے۔اس کو اس کے ٹریک سے ہٹانے کی کوشش مت کیجئے۔ میرا قائد سیکولر ہر گز نہیں تھا۔میرے قائد کے لئے جھوٹ اور ڈھٹائی کا سہارا مت لیجئے۔جن مقاصد کے لئے یہ ملک تخلیق ہوا تھا، ان مقاصد کے تحت اس کو آگے بڑھنے دیجئے اپنی اور اپنی نسل کی عاقبت چند سکوں کے عوض خراب مت کیجئے۔اسلام سے برگشتہ اور غیر اسلامی نظریات کے حامل چند بد طینت افراد اس معاشر کو بے لباس کرنے پر کمر کس کے بیٹھے ہیں۔مگر وہ اپنے مذموم مقاصد میں ہرگز کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔

مزید :

کالم -