دورِ جدید کے مصاحب!

دورِ جدید کے مصاحب!

  

تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ماضی بعید میں مطلق العنان فرمانروا (بادشاہ228 خلیفہ228 راجہ) کے مصاحب بھی ہوتے تھے جو ان کو ملک یا ریاست کے احوال سے آگاہ رکھتے اور مشورے بھی دیتے تھے۔ ان میں سے وہ حضرات فرمانروا کے زیادہ قریب ہوتے جو ان کو بری خبروں سے دور رکھتے اور ان کی پسند کے مشورے دیتے تھے۔ زمانہ آگے بڑھ گیا مطلق العنانی بتدریج ختم ہوتی چلی گئی اور اس کی جگہ جمہوریت نے لینا شروع کر دی۔ آج بھی دنیا میں چند بادشاہتیں تو ہیں لیکن اکثریت جمہوری ممالک کی ہے چاہے طرز جمہوریت کی نوعیت کچھ بھی ہو کہ برطانیہ والے اپنے انداز جمہوریت پر فخر کرتے ہیں تو چین والے بھی خود کو پرولتاری جمہوریت والے کہلاتے ہیں، امریکہ، فرانس اور جرمنی میں بھی جمہوریت ہے اور ان کا نظام اپنا ہے یاد آیا، برطانیہ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں بھی مکمل جمہوریت ہے لیکن ان ممالک نے ملکہ برطانیہ کو اپنا ریاستی سربراہ رکھا ہوا ہے اگرچہ اس شہنشاہیت سے ان کے جمہوری نظام کو فرق نہیں پڑتا، البتہ آج بھی مسلمان ممالک میں بادشاہت ہے اگرچہ ان ممالک میں بھی جمہوری جراثیم پہنچ چکے اور تخم ریزی شروع ہے۔

بات مصاحبین کی تھی کہ ان حکمرانوں کے جو مصاحب ہوتے ہیں وہ طبع شاہی کی نزاکت کو جاننے والے ہوتے ہیں اور کبھی بھی اپنے حکمرانوں کو غم زدہ یا فکر مند نہیں ہونے دیتے اس لئے ان حکمرانوں کو ساون کے اندھے کی طرح ہرا ہی ہرا نظر آتا ہے۔ زمانہ تبدیل ہوا، دور جدید شروع ہو گیا، جمہوریت آئی تو مصاحبین کی نوعیت بھی بدل گئی اب حکمرانوں نے مشاورت کے نام پر کچن کیبنٹ کا تصور پیدا کیا۔ بظاہر یہ کچن کیبنٹ نیک و بد سمجھانے کے لئے ہوتی ہے۔ لیکن حقیقت میں اس کا کردار مصاحبین والا ہی ہو جاتا ہے۔

زمانہ واقعی بدلا مواصلات میں ترقی ہوئی تو ان جمہوری ممالک نے باخبر رہنے کے لئے محکمہ بھی تشکیل دے دیا جس کا بنیادی مقصد حکمران یا حکمران جماعت کے سربراہوں کو باخبر رکھنا ہے۔ اسے باقاعدہ محکمے کی شکل دی گئی اور اس کا نام تعلقات عامہ رکھ دیا گیا۔ مقصد حکمرانوں کو باخبر رکھنا اور ان کی تشہیر قرار پایا، اس محکمے کے فرائض کی نوعیت مصاحبین جیسی بن گئی تو محکمہ کے حکام نے اپنا طرز عمل بھی ویسا بنا لیا۔ حاکم وقت کو میڈیا میں ہونے والی تنقید اور عوامی مسائل سے آگاہی کی بجائے زیادہ سے زیادہ وقت ان سے بچانے میں صرف کیا جانے لگا۔ تعریفی خبروں اور تبصروں کی کلپنگ تیار کر کے حاکم وقت کو ارسال کر دی جاتی اور کوشش یہ ہوتی کہ تنقید والی خبروں اور تجزیوں کو حاکم تک جانے ہی نہ دیا جائے اور جو جانا ضروری ہو اس کے لئے ساتھ ہی ساتھ یہ مشورہ بھی شامل کیا جائے۔ اکثر خبروں کی تو تردید بھجوائی جاتی اور حقیقت پسند خبروں کو چھپا لیا جاتا کم ضرر خبریں بھیج دی جاتی ہیں اور بیشتر خبروں کی تردید یا وضاحت جاری کر دی جاتی ہے، یہ شعبہ کسی ایک حکمران کے لئے ہی نہیں پورے اداروں کے لئے بنایا جاتا ہے اور ان اداروں سے متعلق خبروں کی تردید یا وضاحت کی جاتی ہے اور یہ کام کر لینے کے بعد نقل اس افسر کو بھجوا دی جاتی ہے۔

اب ذرا موجودہ دور کی بات بھی کر لیں۔ آج کے دور میں محکمہ اطلاعات یا تعلقات عامہ یہ فرائض انجام دیتا ہے ۔ مجال ہے کہ طبع نازک پر گراں گزرنے والی خبر پیش خدمت ہو۔ صاحب کا دھیان رکھنا پڑتا ہے کہ صبح ہی صبح ان کا مزاج خراب نہ ہو جائے۔ چنانچہ یہ طرز عمل حکمرانوں اور محکموں کے سربراہوں کو عوامی مسائل سے دور رکھتا ہے۔ حکمرانوں کو تو ایسی خبریں مہیا کی جاتی ہیں جن کی نوعیت ’’صاحب‘‘ کی پسندیدہ ہوتی ہے اور پھر صاحب ان خبروں (کلپنگ228 مانیٹرنگ رپورٹ) کو دیکھ کر ساتھ ساتھ احکام بھی صادر کئے جاتے ہیں اور یقیناً یہ ستائش والے ہوتے ہیں۔

اب ذرا سیاسی جماعتوں پر نظر ڈالیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ یہاں بھی آمریت ہی ہے اور ہر جماعت نے شعبہ اطلاعات بنا رکھا ہے جو زیادہ تر صاحب لوگوں کے بیانات اور ان پر ہونے والی تنقید ہی کا جواب دیتے رہتے ہیں، ان سیاسی جماعتوں نے تو مجلس عاملہ جیسادھندا بھی ختم کر دیا اور کور کمیٹی کے عنوان سے مصاحبین کا جمگٹھا کر لیا جاتا ہے اور فیصلے پسند کے کروائے جاتے ہیں۔

ہم نے اب تک جو بھی تجربہ کیا یا دیکھا اور رپورٹ کیا اس کی نوعیت بھی ایسی ہی ہے کہ دور جدید کے یہ مصاحب ’’صاحب‘‘ تک بری خبر جانے ہی نہیں دیتے اور یوں مسائل لٹکتے چلے آ رہے ہیں۔ دور حاضر میں پاکستان کے مصاحب گیس اور بجلی کی قلت اور اشیاء کے نرخوں میں اضافے والی خبریں بھی شاید چھپا لیتے ہیں کہ اب تک حکمرانوں کی طرف سے نہ تو کوئی اقدامات نظر آئے اور نہ ہی احساس ہوا کہ محترم قائدین تک غریب اور پسماندہ لوگوں کو درپیش مشکلات سے آگاہی ہی نہیں ورنہ کچھ نہ کچھ تو ہو ہی جاتا۔

یہاں یہ بھی گزارش کریں کہ اس ماضی بعید میں اچھے حکمرانوں نے خود اپنے انٹیلی جنس یونٹ بنائے ہوئے تھے جو اچھی اور بری تمام خبروں سے آگاہ کر دیتے تھے ہمیں یاد ہے کہ ماضی قریب میں جنرل ضیاء الحق (مرحوم) نے ذاتی اور بے تکلف دوستوں سے یہ کام لیا اور ان سے ہر طرح کی معلومات حاصل کر لیتے تھے اور یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ عوام ان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں وہ ان دوستوں سے بلا تکلف ہر بات پوچھا کرتے تھے۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگا لیں کہ سیاست دانوں کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران کسی مسئلہ پر بحث ہو گئی تو مرحوم نے فرمایا ’’مجھے سب پتہ ہے میں معلومات حاصل کرتا رہتا ہوں مجھے تو یہ بھی معلوم ہے کہ کچھ لوگ مجھے ’’کانا‘‘ بھی کہتے ہیں‘‘ دروغ برگردن راوی یہ بات ہمیں ایک سیاست دان نے ہی بتائی جو اس ملاقات میں موجود تھے۔

تو قارئین کرام! اگر آپ کی فریاد میڈیا کے توسط سے عام طور پر حکمرانوں تک نہیں پہنچتی تو برا نہ منایئے گا، آج کے مصاحب ان کے مزاج آشنا ہیں اور ماضی کے مصاحبین والا کردار ہی ادا کرتے ہیں ہمارے خیال میں بجلی اور گیس کے شدید تر بحران اور مہنگائی سے وہ سب بے خبر ہیں۔

مزید :

کالم -