میاں نواز شریف کا عزم نو

میاں نواز شریف کا عزم نو
میاں نواز شریف کا عزم نو

  

 وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ ملک و قوم کے لئے دہشت گردی کی جنگ کی قیادت خود کریں گے ۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا ہے کہ نتائج کچھ بھی ہوں وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے ۔ اس وقت پاکستانی حکومت اور دہشت گرد ان سپاہیوں کی طرح ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں جو صرف یہ جانتے ہیں کہ اگر ایک نے دوسرے کو نہ مارا تو وہ اسے ہلاک کر دے گا ۔ مذاکرات کی باتیں قصہ ماضی بن چکی ہیں ۔ طالبان کے حق میں کسی نہ کسی انداز میں آواز اٹھانے والوں کو سانحہ پشاور کے بچوں کے خون نے شرمندگی میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ افغان طالبان نے بھی ان کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ اس سے قبل دنیا بھر میں اس دہشت گردی کے خلاف مذمت کی آوازیں بلند ہوئیں ہیں ۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ دہشت گرد تیزی سے تنہائی کا شکار ہو رہے ہیں ۔ وزیر اعظم نے شہروں میں جس ضرب عضب کے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں دہشت گردوں کو ہی نہیں بلکہ ان کو پناہ دینے والوں کے خلاف بھی ایک بڑا آپریشن شروع ہو رہا ہے ۔بہت سے مغربی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمہ میں ایک بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ اب یہ ایک صنعت کی صورت اختیار کر گئی ہے اور ان سے مالی مفاد اٹھانے والوں کی زندگیاں تبدیل ہو گئی ہیں اور اب وہ کسی صورت یہ دھندہ ترک کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ مگر جس انداز سے کارروائیوں کا آغاز کیا جا رہا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب واضح طو رپر کچھ ایسی صورت پیدا ہو گی جس میں یا تو اللہ کو خوش رکھا جا سکے گا اور یا شیطان کا ساتھی بننا پڑے گا ۔ اللہ کا بندہ ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود شیطان سے نہ بگاڑنے کی پالیسی پر عمل کرنا مشکل ہو جائے گا ۔ فوج دہشت گرد ی کے خاتمے کے لئے سب سے اہم کردار بھی ادا کرتی رہی ہے اور اس کے جوان دہشت گردوں کا نشانہ بھی بنتے رہے ہیں ۔ ضرب عضب کے بعد دہشت گردوں پر پریشر آیا تھا اور اس کا رد عمل سانحہ پشاور کی صورت میں نظر آیا۔ اس سانحہ کے بعد جس طرح آرمی چیف کابل گئے اور انہوں نے کابل کے حکام اور ایساف کی قیادت سے ملاقاتیں کیں ۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ طالبان کے لئے کس انداز سے زمین تنگ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ جنرل راحیل شریف کے دورہ کابل کے بعد طالبان کے خلاف ایک بڑا آپریشن بھی ہوا اور اس آپریشن کے دوران سوشل میڈیا پر یہ خبریں بھی آئیں کہ ملا فضل اللہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے ۔تاہم اس کی کسی دو سرے آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی ۔ موجودہ افغان حکومت نے کھل کر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اگر حامد کرزئی برسراقتدار ہوتے تو وہ حمایت کرنے کی بجائے شاید پاکستان کے خلاف الزامات لگا نے کی پالیسی پر عمل کرتے ۔چودھری نثار علی خان نے میڈیا کے کردار کی تعریف کی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کچھ اشارے بھی کئے ہیں ۔ ان کا ایک شکوہ تو یہ ہے کہ میڈیا اپنا ضابطہ اخلاق نہیں بنا سکا اور اس سلسلے میں ماضی میں کی گئی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں ۔ انہوں نے اس خواہش کا بھی اطہار کیا ہے کہ میڈیا کو دہشت گردوں کو بلیک لسٹ کر دینا چاہیے ۔ پاکستان میں میڈیا نے بھی بے شمار قربانیاں دی ہیں ۔ اس وقت پاکستان میں جمہوری ادارے اگر اپنے وجود میں کچھ طاقت کو محسوس کر رہے ہیں تو اسے میڈیا کی جدوجہد کا بھی نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔ امریکی میڈیا آزاد ہے اور اتنا زیادہ آزاد ہے کہ اس کے کچھ بھی لکھنے پر پابندی نہیں ہے ۔1984 ء میں جب ڈلاس میں ایک امریکی شہری نے امریکی پرچم کو آگ لگا دی تو امریکی سپریم کورٹ نے اسے اس لئے بری کر دیا تھا کہ اس شخص نے امریکی پرچم کو آگ لگا کر درحقیقت امریکی پالیسیوں کے خلاف اپنی نفرت کے اظہار کے حق کو استعمال کیا تھا ۔ اور یہ حق اسے امریکی آئین دیتا ہے اور کسی بھی قانون کے ذریعے کسی کے آزادی اظہار کو سلب نہیں کیا جا سکتا ۔ 11 ستمبر کے سانحہ کے بعد پینٹاگان نے امریکی اور مغربی میڈیا کے لئے ایک ہدایت نامہ جاری کیا ۔ جس کے مطابق میڈیاسے کہاگیا کہ وہ عراق اور افغانستان میں ہلاک یا زخمی ہونے والے فوجیوں کی صرف تعداد بتا سکتا ہے ۔ وہ نہ تو ان کے نا م بتائے گا ۔نہ ان کے تجہیز و تکفین کے مناظر دکھائے گا ۔ مغربی میڈیا نے بڑی حد تک اس ہدایت کی پابندی کی ہے ۔ آپ نے کبھی سی این این ، بی بی سی جیسے بڑے چینلوں پر عراق یا افغانستان میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام نہیں سنے ہوں گے اور نہ ان کی تصاویر دیکھی ہوں گی ۔ ان فوجیوں کے تابوت جب امریکی ایئر پورٹوں پر اترتے ہیں تو ان کے مناظر کبھی آپ کو میڈیا پرنظر نہیں آ تے ۔امریکہ نے میڈیا کو قائل کر لیا ہے کہ ان کا ملک حالت جنگ میں ہے اور میڈیا کی تمام تر آزادی کے باجوداسے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہے ۔ امریکہ میں عام طور پر میڈیا اور حکومت کا ذمہ داری کا تصور مختلف رہا ہے ۔ مگر ان جنگوں کے دوران دونوں میں غیر معمولی ہم آہنگی نظر آئی ہے ۔ 1940 ء کے عشرے میں امریکہ میں ایک آزاد پریس کمیشن قائم ہوا تھا ۔ اس نے لکھا تھا کہ آزاد پریس کو ذمہ دار ہونا چاہیے کیونکہ اگر پریس ذمہ دار نہیں ہو گا تو وہ اپنی آزادی بھی کھو بیٹھے گا ۔ویسے یہاں امریکی میڈیا پر ہونے والی اس بے شمار ریسرچ کا تذکرہ کرنا بھی بے محل ہو گا جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ بیشتر صورتوں میں امریکی میڈیا قومی خارجہ پالیسی کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتا ہے ۔یوں اس پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ امریکی میڈیا ملکی معاملات میں تو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے مگر عالمی معاملات میں امریکی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہوئے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے سے بھی باز نہیں آتا ۔ ہمارے خیال کے مطابق پاکستان کے میڈیا پر نہ تو غیر محب وطن ہونے کا الزام لگایا جا سکتا ہے او رنہ ہی غیر ذمہ داری کا ۔تاہم میڈیا میں کچھ ایسے عناصر ضرور موجود ہیں ۔ جن کی تربیت کی ضرورت ہے ۔کچھ عرصہ قبل ایک معروف ٹی وی چینل کے اینکر پرسن کو رپورٹر بتا رہا تھا کہ فلاں افسر کو او ایس ڈی بنا دیا گیا ۔ مگر اینکر پرسن بار بار سوال کر رہا تھا کہ ان صاحب کو او ایس ڈی تو بنا دیا گیا ہے مگر لگایا کہاں گیا ہے ۔ ان صاحب کو اتنا بھی نہیں معلوم تھا کہ او ایس ڈی وہ ہوتا ہے جس کو کسی جگہ نہ لگایا گیا ہو اور اسے کھڈے لائن پوسٹنگ بھی پر کشش نظر آتی ہو ۔ ہمارے اینکر پرسن تلفظ کے ساتھ کیسی کیسی زیادتیاں کرتے ہیں ۔ اس کا مشاہدہ تو آپ کو بھی ہوا ہو گا ۔ دہشت گردی کی کوریج کیسی ہونی چاہیے اس کی کسی جگہ کوئی تربیت نہیں دی جاتی ۔ جب بھی کوئی سانحہ ہوتا ہے کیمرہ اور مائیک پکڑ کر ایسے ایسے لوگ موقع پر پہنچ جاتے ہیں ۔جنہیں صرف یہ پتہ ہوتا ہے کہ انہیں بولنا ہے اور خوب بولنا ہے ۔ وہ اپنی رپورٹ میں خبر کے کیا ، کہیں ،کسے ، کیوں اور کون جیسے سوالات کے جواب نہیں دیتے ۔ بلکہ ایک ہنگامہ سا برپا کر کے سمجھتے ہیں کہ حق ادا ہو گیا ایک سینئر پولیس افسر بتا رہے تھے کہ اگر کسی جگہ بم کا دھماکہ ہوتو بعض اوقات رپورٹر اس سوال کے جواب کی بھی توقع کر رہے ہوتے ہیں کہ دہشت گرد نے کھانا کہاں سے کھایا تھا ؟ اور یہ سوال اس وقت ہو رہے ہوتے ہیں جب کسی کو کچھ پتہ نہیں ہوتا ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اب پوری قوم شامل ہو گئی ہے اور میاں نواز شریف نے فیصلہ کیا ہے کہ انہوں نے اس جنگ کی قیادت خود کرنی ہے ۔ ہم تو مدت سے یہی سمجھتے آئے ہیں کہ وزیر اعظم ہی اس جنگ کی قیادت کر رہے ہیں ۔ ان کے اس بیان سے ہم کنفیوژ ہوگئے ہیں اور ہم یہاں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ جنگ میں کنفیوژن کا ہونا کوئی اچھی بات نہیں ہوتی ۔

مزید :

کالم -