موقع پرستوں کی دہشت گردی

موقع پرستوں کی دہشت گردی
موقع پرستوں کی دہشت گردی

  

پاکستان میں دہشت گردی کوصرف ایک ہی معانی دیئے گئے ہیں، یعنی وہ دہشت جو قتل و غارت گری سے پیدا ہوتی ہے، حالانکہ ہمارے ہاں ایک موقع پرست مافیا بھی ہے جو دہشت گردی کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، مثلاً اس وقت پوری قوم سانحہء پشاور کے بعد ایک صدمے کی کیفیت میں ہے، حکومت کی پوری توجہ اس مسئلے پر مرکوز ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں بھی اس حوالے سے سرجوڑ کے بیٹھی ہوئی ہیں۔ قوم کے اس طرح ایک طرف متوجہ ہو جانے سے موقع پرستوں نے فائدہ اٹھانے کا یہ چانس بھی ضائع نہیں کیا۔ ایک طرف اچانک سوئی گیس کی فراہمی میں کمی ہوئی تو دوسری طرف ایل پی جی مالکان نے اندھیر مچا دیا۔ سلنڈر اس قدر مہنگا کر دیا کہ عام آدمی نے بھوکا رہنا گوارا کیا یا پھر گھاس پھوس جلا کر روٹی پکانے کا بندوبست کرنے پر مجبور ہو گیا۔ اب اس بارے میں کون انکوائری کرے کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔کیوں عین اس موقع پر کہ جب سوئی گیس کی پائپ لائن مبینہ طور پر پھٹ گئی، ایل پی جی کو آگ لگا دی گئی۔ اس دوران اربوں روپے کس مافیا نے کمائے اور حکومت کیوں خاموش رہی؟ آخر یہ ایل پی جی مافیا اس قدر منہ زور اور بے لگام کیوں ہے کہ اس پر کسی کا کوئی کنٹرول ہی نہیں۔ جب چاہتا ہے قیمتوں کو آسمان پر لے جاتا ہے اور انت کا منافع کماتا ہے۔ ایل پی جی کے سپلائرز میں جو لوگ شامل ہیں، کوئی اس سارے بحران اور لوٹ مار میں انہیں بے نقاب نہیں کرتا۔

مَیں کل روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں ایک تصویر دیکھ رہا تھا، جس میں لاہور کے رکشہ ڈرائیور مہنگی ایل پی جی اور سی این جی کی عدم فراہمی پر مرغا بن کر احتجاج کررہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی بے تدبیری اور ایل پی جی مافیا کی لوٹ مار نے عوام کو مرغا بنا دیا ہے۔ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ خواتین کو لکڑیوں یا کوئلے پر ہانڈی پکانا پڑی ہے۔ یہ بھی ایک خاص قسم کی دہشت گردی ہے کہ لوگ اپنی روز مرہ زندگی کو جاری رکھنے میں ناکامی محسوس کریں اور ان کے گھروں میں دو وقت کی روٹی بھی نہ پک سکے۔ اب ان حالات میں کہ جب وزیراعظم محمد نوازشریف کو دہشت گردی کی جنگ نے آ گھیرا ہے، وہ کیا کچھ کریں، لیکن انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ گیس کی عدم فراہمی اور ایل پی جی کی مہنگے داموں فروخت پر جو شہر شہر احتجاج ہو رہا ہے، وہ انہی کے خلاف ہے۔ ان کی حکومت ایک طرف ہر ممکن کوشش کررہی ہے کہ عوام کو پٹرول اور بجلی سستی کرکے ریلیف فراہم کیا جائے، تاکہ عوام میں حکومت کے خلاف جو زہر بھرا گیا ہے، اس کے اثرات کو کم کیا جا سکے، لیکن دوسری طرف گیس جیسی بنیادی ضرورت کو اس طرح معاشرے سے غائب کر دیا گیا ہے ،جیسے وہ کبھی تھی ہی نہیں۔

مان لیتے ہیں کہ گیس کی فراہمی میں کسی حادثے کی وجہ سے تعطل آ گیا تھا، مگر سوئی گیس والے ایسے حادثات میں دوبارہ گیس کی بحالی کے لئے کچھوے کی چال کیوں چلتے ہیں۔ وہ سرعت کے ساتھ مرمت اور بحالی کا کام کیوں نہیں کرتے ، پھر کیا حکومت کا یہ فرض نہیں کہ متبادل ایندھن کے طور پر ایل پی جی کی مناسب قیمت پر فراہمی کو یقینی بنائے، یہ کیا کہ ایک خاص مافیا مجبوری کے عالم میں زندگی گزارنے والے عوام کو لوٹنے کے لئے میدان میں آجاتا ہے اور حکومت تماشا دیکھتی رہتی ہے۔ بچوں کے لئے تو سب سے بڑی دہشت گردی یہ ہے کہ جب ان کے گھر میں کھانا نہ بنے یا انہیں گرم دودھ ہی نہ مل سکے۔کسی بھی مشکل لمحے میں موقع پرستوں کی طرف سے خود غرضانہ رویہ ردیکھنے میں آتا ہے۔ یہ مرے کو مارے شاہ مدار والی بات ہے۔ صرف گیس پر ہی منحصر نہیں، اس وقت شہروں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی عروج پر ہے۔

محکمہ پانی و بجلی کے وزیر و وزیر مملکت صرف سیاست کررہے ہیں اور انہیں ایک اچھا موقع مل گیا ہے کہ وہ پشاور واقعہ کی مذمت کرتے رہیں اور قوم سے متحد اور بیدار رہنے کی اپیل کریں۔ آپ اعدادوشمار اٹھا کر دیکھ لیں، صاف نظر آئے گا کہ جب سے پشاور کا سانحہ ہوا ہے، بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ملتان جیسے شہر میں جہاں 6گھنٹے بجلی جاتی تھی، اب دس سے بارہ گھنٹے جا رہی ہے، جس دن پانی و بجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی ملتان میں کھلی کچہری لگائے بیٹھے تھے، اسی دن تحریک انصاف کے رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس کی، جس میں لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا۔ یہ بات بڑی شرمناک ہے کہ بحران کے دنوں میں جب پوری قوم متحد ہوجاتی ہے تو وزارتوں میں بیٹھے ہوئے چکر باز قوم کو لوٹنے یا دکھ دینے کا وطیرہ اپنا لیتے ہیں۔ اس وقت پوری قوم بشمول حکومت اور عسکری قیادت دہشت گردی کے خلاف لائحہ عمل بنانے میں الجھی ہوئی ہے۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کو بجلی و گیس جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم کر دیا گیا ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس معاملے کو حکومتی سطح پر کوئی اہمیت نہیں دی جائے گی۔ یہ انتہائی منفی رویہ ہے، جس کی گرفت ہونی چاہیے۔

یہ منظر ہے کہ جب لوگوں کو دہشت گردی کے خلاف سڑکوں پر ہونا چاہیے، وہ گیس اور بجلی کے لئے سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔ عورتیں دیگچیاں اور توے اٹھا کر سرکاری محکموں کی بے حسی کا ماتم کررہی ہیں اور مردوں نے سڑکوں پر ٹائر جلا کر انہیں بند کر رکھا ہے۔یہ تو کوئی مثبت منظر نہیں، جسے ہم دنیا کے سامنے پیش کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے سے لوٹ مار کی دہشت گردی کب ختم ہوگی؟ آج سیاسی و عسکری قیادت اس نکتے پر تو اکٹھی ہو چکی ہے کہ ملک میں کہیں بھی دہشت گردوں کو پناہ نہیں لینے دی جائے گی، مگر وہ اس پر کب متفق ہوگی کہ ملک میں ناجائز منافع خوروں، بلیک مافیا اور عوام کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے والوں نے جو ات مچا رکھی ہے، اس کا خاتمہ کیسے ہوگا۔ کل ملتان میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ملاقات ہوئی تو ان کا کہنا بھی یہی تھا کہ صرف تنہا دہشت گردوں کا طاقت سے قلع قمع کرنے کی پالیسی کبھی کامیاب نہیں ہو گی، جب تک ہم ملک میں معاشی عدم مساوات ختم نہیں کریں گے۔ معاشی مجبوریاں انسان کو ہروہ کام کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں، جو عام حالات میں آدمی سوچ بھی نہیں سکتا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ملک ایک خاص مافیا کے نرغے میں ہے، جو پورے ملک کی معیشت پر نہ صرف قابض ہے، بلکہ عوام کو ریلیف پہنچانے کے ہر فیصلے کو ناکام بنا دیتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب پارلیمنٹ کے باہر دھرنا جاری تھا تو چودھری نثار علی خان اور چودھری اعتزازاحسن میں ’’جنگ‘‘ چھڑ گئی تھی ، جس میں ایل پی جی کا ذکر بھی آیا تھا اور چودھری اعتزازاحسن پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ اس سے ناجائز منافع خوری میں ملوث ہیں، جس پر انہوں نے چودھری نثار علی خان کو آڑے ہاتھوں لیا تھا اور معاملہ وزیراعظم نوازشریف کی معافی تک چلا گیا تھا، اس وقت یہ بات کھل جاتی اور تحقیق سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا، تو آج ہم یہ نہ پوچھتے پھرتے کہ موجودہ ایل پی جی کے بحران سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے اور کس نے اس کی قیمتوں کو آسمان تک پہنچا دیا ہے؟

پاکستانی قوم کا معاملہ ’’چادر چھوٹی اور پاؤں بڑے والا‘‘ ہے۔ یہاں ایک مسئلہ حل کرو تو دوسرا کھڑا ہو جاتا ہے۔ ایک دہشت گردی کو روکو تو دوسرے دہشت گرد نئی شکلوں اور حربوں کے ساتھ میدان میں آ جاتے ہیں۔ عوام نے ہر طرف سے بس پسنا ہی ہے، انہیں حقیقی معنوں میں کبھی کوئی ریلیف ملا ہے اور نہ ملے گا۔ شاید اسی لئے اس استحصالی نظام کے خلاف ان کے اندر نفرت پروان چڑھ رہی ہے۔ جو بالا دست ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ سب اسی طرح چلتا رہے گا، اسی لئے وہ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن مَیں پھر کہہ رہا ہوں کہ جس طرح آج لوگ جان کے دشمن دہشت گردوں کے خلاف متحد اور اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، اسی طرح عوام کا معاشی استحصال کرنے والے مافیاؤں اور دہشت گردوں کے خلاف بھی ایک دن اٹھ کھڑے ہوں گے اور انہیں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ کیا ہم اس دن کے انتظار میں یہ سب کچھ جاری رکھیں گے یا طبقہ ء اشرافیہ کو ہوش کے ناخن لے کر حالات کا ادراک کرنا چاہیے۔ اس سوال کا جواب آنے والا کل ضرور دے گا۔

مزید :

کالم -