مقبوضہ کشمیر میں مودی کا خواب چکنا چور!

مقبوضہ کشمیر میں مودی کا خواب چکنا چور!

  

فطرت اپنا عمل کرتی ہے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار اپنی خواہش پوری نہیں کر پائی ا ور ان انتخابات میں بھی اکثریت نہیں حاصل کر سکی جو کشمیری عوام کی اکثریت کی خواہشات اور بائیکاٹ کے خلاف جبر کے سائے میں ہوئے۔ بی جے پی نے قومی انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد بھارت میں اقتدار سنبھالا اور مودی کو وزیر اعظم بھی بنا لیا لیکن صرف چار ماہ بعد ہی بی۔ جے۔ پی کا جادو اتر گیا اور ریاستی انتخابات میں اسے پے درپے شکست ہونے لگی۔ اس پر مودی نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے خلاف زہر اُگلنا اور پاکستان دشمنی کا مظاہرہ شروع کر دیا، مقبوضہ کشمیر میں ریاستی انتخابات جیتنے کے لئے کنٹرول لائن پر مسلسل فائرنگ کر کے جنگ جیسا ماحول پیدا کیا۔

مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حقیقی نمائندہ جماعتوں حریت کانفرنس، نیشنل فرنٹ اور دوسری سیاسی جماعتوں نے حسب روائت انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ فوجی جبر کے سائے میں انتخابات ہوئے جس کے نتائج آئے ہیں تو بی جے پی نہ صرف یہ کہ اکثریت حاصل نہیں کر سکی بلکہ اسے 87 میں سے صرف 25 نشستیں ملی ہیں جبکہ مقامی، سیاسی جماعت پیپلزڈیمو کریٹک پارٹی (محبوبہ مفتی گروپ) کو 28 نشستیں مل گئی ہیں، نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو بالترتیب 15 اور 12 نشستیں ملی ہیں یہ دونوں جماعتیں مخلوط حکومت بنا کر برسر اقتدار تھیں۔ اب فیصلہ محبوبہ مفتی کو کرنا ہے کہ وہ کن جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بناتی ہیں۔ وہ بی جے پی کو ساتھ ملاتی ہیں یا پھر کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنا لیتی ہیں۔ ماضی میں یہ ان کے ساتھ تھیں، اختلاف کی بنا پر اپنی جماعت بنائی تھی۔بہر حال نریندر مودی کا یہ خواب تو چکنا چور ہو گیا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرالے جس کے تحت مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی اور نیشنل کانفرنس سمیت کانگریس والے بھی آرٹیکل 370 کو نہ چھیڑنے کے حق میں ہیں۔

مزید :

اداریہ -