کھیل اور بھارتی رویہ، کبڈی میں بھی ڈنڈی ماری!

کھیل اور بھارتی رویہ، کبڈی میں بھی ڈنڈی ماری!

  

اس سال کبڈی کا عالمی کپ بھارت کے شہر امرتسر میں کرایا گیا، فائنل مقابلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوا۔ پاکستان کی کبڈی ٹیم اچھے کھیل کا مظاہرہ کرتی ہوئی جیت رہی تھی اور بھارتی کبڈی ٹیم سے تین پوائنٹ آگے تھی۔ اور پھر یہ ہوا کہ یکایک بھارتی ٹیم نے پاکستان کی ٹیم پر سبقت حاصل کر لی اور بالاخر 2 پوائنٹ کی برتری سے اسے ہرا دیا دوسرے معنوں میں تھوڑے وقفے میں بھارتی ٹیم نے پاکستانی ٹیم سے پانچ پوائنٹ جیت لئے۔جب تقسیم انعامات کا سلسلہ شروع ہوا تو پاکستان ٹیم کے کپتان چشتی پھٹ پڑے وہ یوں بھی بلک بلک کر روئے تھے۔ انہوں نے بر ملا کہا کہ امپائروں نے زیادتی کی نہ صرف یک طرفہ فیصلے دیئے بلکہ تھرڈ امپائر نے ان کو دھمکیاں بھی دیں۔ بھارتی ٹیم کے لئے ساری آسائشیں مہیا کی گئیں اور پاکستان کے کھلاڑیوں کو پانی تک نہیں پینے دیا، پاکستان ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ بھارت والے ہر قیمت پر ورلڈ کپ اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے۔ اس لئے میدان میں کھیل دیکھنے آئے ہوئے شائقین نے بھی ٹیم کو پریشان کیا اور پھر میچ بھی وقت سے پہلے ختم کر دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر رویہ یہی ہونا ہے تو ہم آئندہ سال کھیلنے نہیں آئیں گے، ہماری شرکت اچھے سلوک سے مشروط ہو گی۔

پاکستان کے یہ کھلاڑی ایک روز زیادہ قیام کے بعد واپس آئے تو واہگہ پر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی اور شاندار استقبال ہوا، بتایا گیا کہ پاکستان ٹیم کے کپتان کی شکایت پر مشرقی پنجاب (بھارت) کے وزیر اعلیٰ نے ایک ریویو کمیٹی بنا کر شکایت کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ا ور کہا کہ اگر غلطی ثابت ہوئی تو کپ پاکستان ٹیم کو دے دیا جائے گا۔ اس کمیٹی نے میچ کی ویڈیو دیکھ کر جائزہ لینا ہے۔ابھی ریویو کمیٹی نے فیصلہ نہیں دیا تھا کہ عالمی کبڈی فیڈریشن کے چیف ایگزیکٹو دیوراج چنز ویدی نے بھارتی ٹیم کو عالمی چیمپئن ماننے سے انکار کر دیا اور پورے ٹورنامنٹ ہی کو غیر قانونی قرار دے دیا ان کا استدلال ہے کہ یہ ٹورنامنٹ فیڈریشن کو کرانا چاہئے اور ٹورنامنٹ کے لئے امپائر غیر جانبدار ہوتے ہیں۔ جبکہ یہاں سارے امپائر بھارتی ایسوسی ایشن کے تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب عالمی کپ ٹورنامنٹ عالمی کبڈی فیڈریشن ہی کرائے گی۔

ہاکی کے بعد بھارت نے کبڈی ٹیم کے ساتھ بھی یہ سلوک کیا کہ جیتی ہوئی ٹیم کو ہرا دیا یقیناً ان کو اپنے گھر میں شکست برداشت نہیں تھی جسے ہاکی میں ہار پر تکلیف ہوئی اور عالمی ہاکی فیڈریشن پر دباؤ ڈال کر پاکستان کے دو کھلاڑیوں پر فائنل میچ کی پابندی لگوا دی کہ جرمنی جیت جائے اور جرمنی جیت گیا اس کے باوجود پاکستان ہاکی ٹیم نمبر 2 حیثیت سے وکڑی سٹینڈ پر تھی اور بھارتی ٹیم تیسری پوزیشن بھی نہ لے سکی اور آسٹریلیا سے ہار گئی۔کھیل ہمیشہ اچھے جذبات اور اخلاق سے ہوتے ہیں ہارنے والے خندہ پیشانی سے شکست تسلیم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میچ کے اختتام پر کھلاڑی ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہیں۔ لیکن بھارتیوں نے کھیل کی روح کو مجروح کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور عرصہ دراز سے ان کا یہی وطیرہ ہے کہ ہار تسلیم نہیں کریں گے، یوں کھیل میں سے اچھے اخلاق اور جذبے کو خارج کیا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر اس کا نوٹس لینا چاہئے کہ بھارت دوسرے ممالک کی ٹیموں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کرتا ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ عالمی سطح کی تنظیمیں بھی بھارتی دباؤ میں آ جاتی ہیں اگر دنیا کو کھیل کی روح کو برقرار رکھنا ہے تو پھر ان کو چاہئے کہ وہ بھارت کو رویہ درست کرنے کے لئے کہیں اور دباؤ ڈالیں۔

مزید :

اداریہ -