جموں میں مودی لہر کے سامنے کوئی ٹک نہیں پایا

جموں میں مودی لہر کے سامنے کوئی ٹک نہیں پایا

  

 جموں(کے پی آئی)بھارتیہ جنتا پارٹی نے مودی لہرکی دوش پر سوار ہو کر نہ صرف جموں کی علاقائی سیاسی پارٹی نیشنل پینتھرز پارٹی کا مکمل طور صفایا کرنے میں کامیابی حاصل کی بلکہ وادی چناب میں کانگریس کے مضبوط قلعہ میں بھی دراڑ ڈال کر فتح کے جھنڈے گاڑدئے ۔ پارٹی نے جموں خطہ سے تاریخ ساز کامیابی حاصل کرتے ہوئے 37نشستوں میں سے 25نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ کانگریس، جس نے 2008اسمبلی انتخابات میں جموں صوبہ سے 13نشستیں حاصل کی تھیں ، کواس بار محض 5پر اکتفا کرنا پڑا جبکہ اسے 8نشستوں کا نقصان جھیلنا پڑا ۔ ان میں ضلع ریاسی کے خان برادران(اعجاز خان اور ممتاز خان)نے اہم کردار ادا کیا جنہوں نے گول ارناس اور گلاب گڑھ سے فتح حاصل کی۔ مودی لہر کے سیلاب میں ہندو وزیر اعلی کا نعرہ دینے والے حلقہ انتخاب اکھنور سے شیام لال شرما اورآئندہ حکومت میں نائب وزیرااعلی کی دعویداری پیش کرنے والا حلقہ انتخاب گاندھی نگر سے رمن بھلہ اورڈوڈہ سے عبدالمجیدوانی بھی بہہ گئے۔ نیشنل کانفرنس کو 2008چناو کے مقابلہ اس مرتبہ 2نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑا اور پارٹی محض3نشستیں ہی جیت پائی ۔ این سی نے 2008میں پونچھ حویلی، نوشہرہ، کالاکوٹ، وجے پور اور کشتواڑ نشستیں جیتی تھیں جوکہ اس مرتبہ ساری کی ساری ہار گئی جبکہ نگروٹہ، بشناہ اور مینڈھر سے کامیابی حاصل کی ۔ پی ڈی پی کو 3 نشستیں ملیں۔پارٹی نے پونچھ حویلی اور راجوری حلقہ سے پہلی بار کامیابی حاصل کی جب کہ ضلع راجوری کے درہال حلقہ کی نشست پر قبضہ برقرار رکھا البتہ مینڈھر حلقہ سے اس کے امیدوار کو شکست سے دوچار ہو نا پڑا ۔ اودھم پور سے بھاجپا کے باغی ممبر آزاد امیدوار پون کمار گپتا نے پینتھرز پارٹی کے دو مرتبہ ایم ایل اے رہے بلونت سنگھ منکوٹیا کو بھاری ووٹوں سے شکست دی۔ 2008چناو میں خطہ جموں کی 37نشستوں پر کانگریس 13نشستوں کے ساتھ سرفہرست رہی تھی جبکہ بھاجپا کو11، نیشنل کانفرنس کو5، پینتھرز پارٹی کو3، پی ڈی پی کو2اور 2آزاد امیدوار وں نے حاصل کی تھیں۔خطہ جموں سے کانگریس کے جن سنیئرلیڈران کو شکست کا سامناکرنا پڑا ،ان میں چھمب سے تاراچند، اکھنور سے شام لال شرما، گاندھی نگر سے رمن بھلہ، بلاور سے ڈاکٹر منوہر لال، بھدرواہ سے محمد شریف نیاز، ڈوڈہ سے عبدالمجید وانی، راجوری سے شبیر احمد خان خصوصی طور قابل ذکر ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے ہارنے والے اہم لیڈران میں وجے پور سے سرجیت سنگھ سلاتھیا، مڑھ سے اجے کمار سدھوترہ، سرنکوٹ سے مشتاق احمد بخاری، کشتواڑ سے سجاد احمد کچلو، بنی سے غلام حیدر ملک، کالاکوٹ سے رچھپال سنگھ، نوشہرہ سے رادھے شام شرما اورپونچھ سے اعجاز جان شامل ہیں۔ پینتھرز پارٹی ، جس کے پچھلی اسمبلی میں 3ارکان تھے ،کا مکمل طور صفایاہوگیا ہے۔ 3مرتبہ رام نگر سے ایم ایل اے رہے ہرشدیو سنگھ، اودھم پور سے دو مرتبہ ایم ایل اے رہے بلونت سنگھ منکوٹیا اور سانبہ سے دو مرتبہ ایم ایل اے رہے یشپال کنڈل کو بھی بھاجپا امیدواروں کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا تاہم بھاجپا کو بشناہ اور نگروٹہ میں نیشنل کانفرنس امیدواروں کے ہاتھوں مودی فیکٹر کے باوجود شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر دویندر سنگھ رانا نے ہائی پروفائل حلقہ نگروٹہ سے بھاجپا کے ریاستی صدر اور رکن پارلیمان جگل کشور شرما کے بھائی نند کشور کو شکست سے دوچار کیا جبکہ بشناہ حلقہ سے 2002سے حلقہ کی نمائندگی کر رہے اشونی کمار شرما(بھاجپا)کو نیشنل کانفرنس کے کمل ورما(اروڑہ)نے ہار کا مزاہ چکھایا۔خطہ جموں میں 37نشستوں میں سے بھاجپا نے 25نشستیں جیتیں جبکہ یہ پانچ حلقوں میں دوسرے نمبر پر رہی۔ ان حلقوں میں اندروال، راجوری، گول ارناس، بشناہ اور نگروٹہ شامل ہیں۔کانگریس نے 5نشستیں جیتیں جبکہ 12نشستوں پر کانگریس دوسرے نمبر پر رہی جس میں جموں ایسٹ، جموں ویسٹ، گاندھی نگر، اکھنور، ڈوڈہ، بھدرواہ، ہیرا نگر، بلاور، چھمب، رائے پور دومانہ اور چنینی شامل ہیں۔نیشنل کانفرنس نے 3نشستوں نگروٹہ، بشناہ اور مینڈھر سے کامیابی حاصل کی جبکہ 9حلقوں میں یہ دوسرے نمبر پر رہی ان میں پونچھ حویلی، سرنکوٹ، بنی،مڑھ،درہال، کالاکوٹ،سچیت گڑھ، وجے پور ، گلاب گڑھ شامل ہیں۔پی ڈی پی نے پونچھ حویلی، درہال اور راجوری سے فتح کے جھنڈے گاڑے جبکہ 4حلقوں نوشہرا، مینڈھر، آر ایس پورہ اور بانہال میں دوسرے نمبر پر رہی ۔

مزید :

عالمی منظر -