دہشت گردی کے خلاف امیدکی نئی کرن

دہشت گردی کے خلاف امیدکی نئی کرن

  

 خطے میں دیرپا امن و امان کے قیام اور انسداد دہشت گردی کے متعلق چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف، ایساف کمانڈر جنرل جان کیمبل اور افغانستان کے آرمی چیف جنرل شیر محمد کے درمیان جی ایچ کیو راولپنڈی میں اہم ملاقات ہوئی، پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے تناظر میں ایساف کمانڈر اور افغان چیف آف آرمی سٹاف منگل کو خصوصی طور پر اسلام آباد آئے تھے، جہاں انہوں نے جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی، ملاقات سے قبل وزیراعظم نوازشریف سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ملاقات کی اور قومی سلامتی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ افغان چیف آف آرمی سٹاف اور ایساف کمانڈر نے جنرل راحیل شریف سے خطے کی مجموعی صورت حال پر تبادلہء خیال کیا دونوں جرنیلوں نے پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب کی تعریف کی۔ انہوں نے سانحہ پشاور پر جنرل راحیل شریف سے اظہار افسوس بھی کیا اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ تینوں جرنیلوں کے درمیان پاک افغان سرحد پر انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے پر اظہار خیال بھی کیا گیا اور سرحد پر موثر رابطوں کو فروغ دینے کے لئے اقدامات بھی زیر غور آئے۔ اس موقع پر جنرل راحیل شریف نے کہا کہ سرحد پر افغانستان کے اندر پاکستانی طالبان کے خلاف افغان فورسز کی کارروائی قابل تعریف ہے۔ جنرل راحیل شریف نے یقین دلایا کہ انسداد دہشت گردی کے لئے کئے جانے والے تمام اقدامات میں پاکستان بھرپور تعاون کرے گا اور ہم مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے۔ تینوں جرنیلوں نے راولپنڈی میں جو تبادلہ خیال کیاہے، جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے اور جو فیصلے کئے گئے ہیں ان میں امیدکی ایک روشن کرن نظر آتی ہے اور اس کی روشنی میں دہشت گردوں کے خلاف جو کارروائی کی جائے گی توقع ہے کہ اس سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوں گے۔ دہشت گردی پاکستان اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان طویل سرحد ہے جہاں سے آمد و رفت کے سینکڑوں غیر قانونی راستے ہیں اور انہیں استعمال کرکے دہشت گرد ایک دوسرے ملک میں آسانی سے داخل ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں سوات اور اب شمالی وزیرستان میں ہونے والے فوجی آپریشنوں کے بعد جو دہشت گرد بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے انہوں نے افغانستان جا کر نئی آماجگاہیں بنا لیں، جہاں بیٹھ کر یہ دہشت گرد پاکستان میں دہشت گردی کی منصوبہ بند ی کرتے اور کارروائیوں کے لئے گروہ تیار کرتے ہیں۔ پاکستان میں کارروائی کے بعدوہ اگر بچ نکلیں تو واپس افغانستان چلے جاتے ہیں، اسی طرح افغانستان میں کارروائیاں کرنے والے بھی آکر پاکستان کے سرحدی علاقوں میں روپوش ہو جاتے ہیں۔ چند روز قبل آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنے دورۂ افغانستان کے دوران افغان صدر اشرف غنی سے اس موضوع پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ پشاور میں سکول پر وحشیانہ دہشت گردی کے منصوبہ ساز بھی افغانستان میں ہیں، اس تبادلہ ء خیال کے دوران طے ہوا تھا کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور نہ ہی پاکستان اپنی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال کرنے کی کسی کو اجازت دے گا، اگرچہ سابق افغان صدر حامد کرزئی بھی اس طرح کی یقین دہانیاں کراتے رہتے تھے، لیکن وہ عملاً دہشت گردوں کو روک نہ پائے، اب صدر اشرف غنی نے یقین دہانی کرائی تو فوری طور پر عملی اقدامات بھی سامنے آ گئے دو روز قبل افغان صوبہ کنڑ میں افغان فورسز نے پاکستان میں کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کی جس میں بہت سی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے اس کارروائی کو سراہا اور ایساف کمانڈر اور جنرل شیر محمد کے ساتھ گفتگو میں اس مثبت کارروائی کے بہتر نتائج نکلنے کی امید ظاہر کی۔ دونوں ملکوں نے انٹیلی جنس شیئرنگ پر تبادلہ خیال کیا اور معلومات کے تبادلے پر اتفاق کیا اس کے بعد اگر دونوں ملک مل کر ان کے خلاف مربوط کارروائیاں کرتے ہیں تو یہ بہت زیادہ موثر اور کارآمد ثابت ہو سکتی ہیں۔ سرحدی علاقوں میں اگر دہشت گردوں کی کمین گاہیں ختم ہو جاتی ہیں اور اس کے نتیجے میں ان کی منصوبہ بندی اور تربیت کا نیٹ ورک تباہ ہو جاتا ہے تو یہ دونوں ملکوں کے لئے مفید ہوگا۔ ایساف فورسز اگرچہ اس سال کے آخر تک افغانستان سے جا رہی ہیں تاہم دس ہزار سے زائد امریکی افواج افغانستان میں موجود رہیں گی۔ نیٹو کی ٹوکن نمائندگی بھی ہوگی اس لئے اگر ان دنوں میں مشترکہ آپریشن کیا جاتا ہے تو اس کے مثبت نتائج کی امید بھی رکھی جا سکتی ہے۔ صدر اشرف غنی کا دور واقعی اس لحاظ سے بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے کہ تباہ حال ملکوں کی بحالی ان کی تعلیم کا خصوصی موضوع رہا ہے، اس لئے وہ اپنے ملک کی معیشت کو بحال کرنے کے لئے اگر دہشت گردی کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ افغان تاریخ میں اس کے معمارِ نو کی حیثیت سے بھی اپنانام لکھوا سکتے ہیں اور پاکستان کے لئے بھی ان کی موجودگی اہم ثابت ہوگی۔ پشاور میں جو وحشیانہ دہشت گردی ہوئی ہے اس کا دکھ نہ صرف پاکستان کے اندر محسوس کیا گیا ہے بلکہ دنیا بھر میں اس کی سنگینی کی لہروں نے ارتعاش پیدا کیا ہے۔عالمی برادری نے پاکستان کے ساتھ اظہار ہمدردی بھی کیا ہے اس کے نتیجے میں دہشت گردی سے نپٹنے میں تعاون کی جو فضا بن گئی ہے اس سے امید کی جا سکتی ہے کہ اب کی بار دہشت گردوں کا بچ نکلناممکن نہیں ہوگا، پاکستان میں اس وقت جو اتفاق رائے دہشت گردوں کے ساتھ نپٹنے کے لئے پیدا ہوا ہے، ایسی فضا پہلے نہ تھی سیاسی اور عسکری قیادت اس دن سے لگاتار سوچ بچار اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا عمل بھی کانفرنسوں کے ذریعے جاری ہے۔ نیشنل ایکشن پلان بنانے کے لئے کمیٹی کے بھی طویل اجلاس ہو رہے ہیں اور ورکنگ گروپ بھی نئی حکمت عملی بنانے میں مصروف ہے۔ مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کے لئے خصوصی عدالتوں کی تشکیل کے لئے بھی اقدامات ہو رہے ہیں، ایسے میں اگر افغانستان میں عملی کارروائیاں ہوتی ہیں تو بہت جلد وہ مرحلہ آ سکتا ہے جب دہشت گردوں کا قلع قمع کردیا جائے گا۔ افغانستان اور پاکستان میں اگر امن و امان بحال ہوتا ہے تو یہ خطے کے لئے بہت فائدہ مندہو سکتا ہے اور یہ تباہ حال خطہ تیزی سے ترقیاتی شاہراہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ راولپنڈی میں تین جرنیلوں کے موثر تبادلہ خیال میں امید کی جو کرن نظر آئی ہے ، امید ہے وہ روشن تر ہو گی اور دہشت گردی کے عفریت کا سر کچلنے میں مدد گار ثابت ہوگی۔

مزید :

اداریہ -