روزنامہ زمیندار سے وابستگی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے ،ابوالحسن نغمی

روزنامہ زمیندار سے وابستگی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے ،ابوالحسن نغمی

  

 لاہور(خصوصی رپورٹ)معروف براڈ کاسٹر ، صحافی ،ادیب ،دانشور اور روزنامہ زمیندار کے بزرگ کارکن صحافی ابو الحسن نغمی نے مولاناظفرعلی خاں ٹرسٹ کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقد کی گئی خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانی کا یہ خواب کہ مولاناظفرعلی خاں کے اخبار میں کام کروں جوپورا ہوا اور یوں انہیں برصغیر پاک وہند کے عظیم اخبار زمیندار میں کام کرنے کا اعزاز احاصل ہوا۔انہوں نے کہا کہ میرا صحافتی سفر مری سے شروع ہوا جہاں مولانا اپنے چھوٹے بھائی چوہدری غلام حیدر خاں کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ میں انہیں اچانک ملا، نوکری کی درخواست دی جسے مولانا نے قبول کیا اور مولانا کے چھوٹے بھائی غلام حیدر خاں نے میری جیب میں پانچ روپے کا نوٹ ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ زادِ راہ ہیں۔ جو بعد ازاں آپ کی تنخواہ سے منہا کرلیے جائیں گے۔ مجھے ایک سفارشی رقعہ بھی دیا گیا جو مولانا کے صاحب زادے مولانا اختر علی خاں کے نام تھا۔ ابو الحسن نغمی نے اس موقع پر کہا کہ مولاناظفرعلی خاں برصغیر کے ان سرکردہ صحافیوں میں سے تھے جن کی شہرت ،شعر وادب اور سیاست کے میدان میں بھی بام عروج پر تھی۔ ہندوستان کا کوئی ایسا شہر نہ تھا جہاں مولاناظفرعلی خاں نے سیاسی جلسے نہ کیے ہوں۔ ابو الحسن نغمی نے کہا کہ انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ 18جنوری 1955ء کو مولانا کی81ویں سالگرہ پر دیگر لوگوں کے ساتھ کرم آباد پہنچے ،ان کے ہمراہ عبدالمجید سالک، رئیس احمد جعفری، رشید اختر ندوی، شوکت تھانوی، پیام شاہ جہان پوری، شاد امرتسری،منیر نیازی بھی وہاں گئے۔ اسی روز دوپہر کو شورش کاشمیری بھی وہاں پہنچ گئے۔مولانا ظفرعلی خاں کی سالگرہ کے سلسلے میں کرم آباد میں ایک مشاعرہ بھی ہوا جس میں میں نے اپنی نظم امریکن کورٹ سنائی۔ ابو الحسن نغمی نے مولانا ظفرعلی خاں ٹرسٹ کے قیام کو خوش آئند قرار دیا۔اس سے پہلے چیئر مین ٹرسٹ خالد محمود نے ابو الحسن نغمی اور مہمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ابو الحسن نغمی صحافت اور نشریات کے سنہرے دور سے تعلق رکھنے والی قدآور شخصیت ہیں۔ریڈیو پر بچوں کے پروگرام میں نغمی صاحب کی گفتگو بچوں کے ساتھ بڑے بھی ذوق وشوق سے سنتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب مصطفی علی ہمدانی، عزیز الرحمن جیسے اناؤنسر اور براڈ کاسٹر موجود تھے۔مولانا ظفرعلی خاں ٹرسٹ کے لیے یہ بات فخر کا باعث ہے کہ ابو الحسن نغمی جیسی شخصیت کے لیے ٹرسٹ نے نشست کا اہتمام کیا ہے۔شخصیات کی پذیرائی کے حوالے سے ایسی تقاریب ٹرسٹ کے زیر اہتمام ہوتی رہیں گی۔اس موقع پر معروف صحافی اور مولاناظفرعلی خاں ٹرسٹ کے خازن مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ ابو الحسن نغمی اس لحاظ سے بھی معتبر ہیں کہ انہوں نے مولانا ظفرعلی خاں کو دیکھا اور ان کے روزنامے میں بحیثیت صحافی کام کیا۔ نغمی صاحب کی خدمات صحافت اور نشریات کی تاریخ میں جلی حروف سے لکھی جائیں گی۔ ادبی جریدے الحمراء کے ایڈیٹر اور مولانا ظفرعلی خاں کے بھتیجے شاہد علی خاں نے اس موقع پر ابو الحسن نغمی کے ساتھ اپنی وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ابو الحسن نغمی کا تعلق مولانا ظفرعلی خاں کے خانوادے سے بہت پرانا ہے۔ ان کے والد مولانا حامد علی خاں کے دور میں وہ نہ صرف ان سے ملنے کے لیے آیا کرتے تھے بلکہ الحمرا میں قلمی معاونت بھی کرتے تھے۔ مولانا ظفرعلی خاں ٹرسٹ کے سیکرٹری راجہ اسد علی خاں نے اس موقع پر کہا کہ ابو الحسن نغمی نے اپنی تصانیف اور تحریروں میں مولانا ظفرعلی خاں اور ان کے خانوادے کا بڑے عمدہ انداز سے تذکرہ کیا ہے اور ان کی تصانیف نوجوان نسل کے لیے ایک قابل ذکرحوالہ جاتی مواد کے طور پر سمجھی جانی چاہئیں۔ تقریب میں شامل ناصر قریشی، ڈاکٹر شفیق جالندھری، ناصر زیدی، ڈاکٹر انوار احمد بگوی، پروفیسر احمدسعید، افتخار مجاز، ریاض مسعود، ملک ضیاء الدین، محمدعلی چراغ،پروفیسر حنیف شاہد، یاسمین نغمی، شجیع الحسن ،قیوم بٹ، حفیظ اللہ نیازی ،منشاء قاضی، محمد جاوید ،پیر زادہ اکمل اویسی، امجدسلیم علوی، حاجی ملک منیر، نذرالاسلام ، عبدالرحمن، شفیق کھوکھر، راجہ ناصر علی خاں، میاں غلام نبی صابر،عزیز ظفرآزاد، پروفیسر غلام صابراوررفیق چوہدری نے شرکت کی۔ آخر میں ابو الحسن نغمی کو ٹرسٹ کی جانب سے چیئر مین خالد محمود نے یادگاری شیلڈ پیش کی اور ان کے ہاتھوں سے ٹرسٹ کی نئی عمارت کا افتتاح بھی کروایا۔

مزید :

علاقائی -