سٹر یٹجک کو آرڈی نیشن اور مقامی حکومت میں ترامیم کا معاملہ کمیٹیوں کے سُپرد

سٹر یٹجک کو آرڈی نیشن اور مقامی حکومت میں ترامیم کا معاملہ کمیٹیوں کے سُپرد ...

  

                                     لاہور( نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز بھی حسب روائت اپنے مقررہ وقت صبح دس بجے کی بجائے 55منٹ کی تاخیر سے سپیکر رانا محمد اقبال خاں کی صدارت میں شروع ہوا ۔ اجلاس میں صوبائی وزیر ڈاکٹر فرخ جاوید نے ارکان کے سوالات کے جوابات دئیے ۔ حکومتی رکن نگہت شیخ کے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے ایوان کو آگاہ کیا کہ روس کی طرف سے پاکستانی کینو کی برآمد پر عائد پابندی کے خاتمے کے لئے تمام محکموں نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور یہ پابندی ختم ہو گئی ہے ۔ روس نے یہ پابندی پاکستانی ٹماٹر کو لگنے والے ایک بیماری کی وجہ سے عائد کی تھی لیکن ہم نے اسکے بعد روس کے متعلقہ اداروں کے نمائندوں کو پاکستان دورے کی دعوت دی جنہیں باغات ‘ پروسیسنگ یونٹس اور فیکٹریوں کا دورہ کرایا گیا جسکے بعد یہ پابندی ہٹالی گئی ۔انہوں نے بتایا کہ 227ملین روپے کی لاگت سے ایک پروگرام بھی شروع ہے جس میں ان معاملات سے نمٹا جارہا ہے۔انہوںنے مولانا الیاس چنیوٹی کے ضمنی سوال کے جواب میں بتایا کہ بھرتیوں پر پابندی کی وجہ سے 700فیلڈ اسسٹنٹ کی بھرتیاں نہیں ہو سکیں لیکن جیسے ہی یہ پابندی ختم ہو گی ان آسامیوں پر بھرتیاں کر لی جائیں گی۔ حکومتی رکن میاں طاہر کے سوال کے جواب میں وزیر زراعت نے بتایا کہ فیصل آباد زرعی یونیورسٹی کے لئے پچاس فیصد بجٹ ہائیر ایجوکیشن کمیشن جبکہ پچاس فیصد یونیورسٹی فیسوں کی مد میں حاصل ہونےوالے وسائل سے حاصل ہوتا ہے ،پنجاب حکومت ترقیاتی کاموںکی مد میں بجٹ فراہم کرتی ہے ۔ میاں طاہر نے سوال اٹھایا کہ طلبہ سے سالانہ کتنی فیس اکٹھی جاتی ہے جس پر وزیر زراعت نے جواب دیا کہ 153کیٹگریز ہیں اور ہر ایک کیٹگری کی مختلف فیس ہے تاہم فیس کی رقم نہ بتانے پر حکومتی رکن میاں طاہرنے کہا کہ ہمیں لوگوں نے ووٹ دے کر ایوان میں بھیجا ہے اگر ہم انکی بات نہیں کرینگے تو کس کی بات کریں گے ۔ صوبائی وزیر کی طرف سے بار بار پوچھے جانے کے باوجود جواب نہ آنے پر حکومتی رکن اسمبلی نے اپنا اگلا سوال احتجاجاً واپس لے لیا ۔صوبائی وزیر زراعت نے ایوان کو بتایا کہ پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جہاں بھی سبزی منڈی شہر کی حدود میں آئے گی اسے شہر سے باہر منتقل کر دیا جائے گا۔صوبائی وزیر نے ایوان کو آگاہ کیا کہ پنجاب کے 26اضلاع میں 1609گریجوایٹس کو زمین الاٹ کی گئی جن میں سے 911زرعی گریجوایٹس نے زمین کا قبضہ حاصل کیا ان میں سے 589نے زرعی زمین کو آباد کر کے اس سے پیدا وارلینا شروع کر دی ہے ۔ جبکہ کچھ کے معاملات عدالتوں میں ہیں۔ سردار ایوب خان نے سوال اٹھایا کہ باقی زمین آباد نہ کرنے والوں سے کیا یہ واپس لے لی گئی ہے یا کوئی پوچھ گچھ کی گئی ہے جس کا جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیرنے بتایا کہ اس کا نوٹس لیا گیا ہے یہ زمینیں پانی کے مسائل کی وجہ سے آباد نہیں ہو سکیں جسکے بعد محکمہ آبپاشی ‘ زراعت اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی مشترکہ ٹیم بنا دی ہے جو اس سلسلہ میں کام کر رہی ہے۔صوبائی وزیر نے ایوان کو مزید بتایا کہ محکمہ زراعت بھلوا ل میں کینو اور ملتان میں آم کی منڈیاں قائم کرنے پر غور کر رہا ہے ۔صوبائی وزیر نے امجد علی جاوید کے سوال کے جواب میں بتایا کہ 58ہزارکھال میں سے 43 ہزار کھال پکے کر لئے گئے ہیں جبکہ باقی رہ جانے والوں کو آئندہ تین سے چار سالوں میں مکمل کر لیا جائے گا ۔ کوشش ہو گی کہ بجٹ رکھیں تاکہ کھال کی مرمت بھی ہو سکے ۔ میاںامجد علی جاوید نے کہا کہ محکمہ کام کیا کرے گا جس کھال کا میں سوال اٹھا رہا ہوں اسے تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا ہے ۔صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ محکمے کے پاس زمین کو ہموار کرنے کے لئے 340بلڈورز اپنی عمر پوری کرچکے ہیں اور نئے خریدنے کے لئے سمری بھجوا دی گئی ہے ۔ تاہم 340میں سے 90فیصد بلڈوزر سے ابھی کام لیا جارہا ہے ۔ نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر سردار شہاب الدین نے کہا کہ حکومت نے فراخدلی کا ثبوت دیتے ہوئے سرکاری نوکریوں پر سے پابندی تو ہٹا دی ہے لیکن جنوبی پنجاب کے اضلاع کو اس میں نظر انداز کیا جارہا ہے ۔اگر اسی طرح استحصال کا سلسلہ جاری رکھنا ہے تو پھر ان اضلاع کو پنجاب کے نقشے سے کاٹ دیں جس پر اسپیکر نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہے آپ کیوں ایسی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے اضلاع کا کوئی بچہ یا بچی کوالیفائی کر بھی لیتے ہیں تو یہ معاملہ آٹھ کلب پر آجاتا ہے وہاں کوئی شخصیت بیٹھی ہے جو پسند اور نا پسند کی بنیاد پر بھرتی کرتی ہے ۔ اگر یہ معاملات رہیں گے تو پھر کیوں نہ سرائیکی اور بہاولپور صوبے کی بات ہو ،کیا وسطی پنجاب کے اضلاع ہی پنجاب ہیں۔ لیہ میں ڈسٹرکٹ جیل بنی ہے لیکن مقامی ضلع کی ایک بھی بھرتی نہیں اور میں ریکارڈ دیتا ہوں چیک کر لیا جائے ۔صوبائی وزیر جیل خانہ جات چوہدری عبد الوحید نے اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت تعلیم ‘ نوکریوں اور ترقیاتی بجٹ میںجنوبی پنجاب پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں وہاں سے بھرپور کامیابی ملی ہے ۔ جتنی یونیورسٹیاںجنوبی پنجاب میں بنی ہیں وہ اپر پنجاب میں نہیں بنیں ۔ جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر وسیم اختر نے کہا کہ سردار شہاب الدین جو بات کہہ رہے ہیں وہ درست ہے جس پر اسپیکر نے کہا کہ یہ بات درست نہیں ہے ۔ ڈاکٹر وسیم اختر نے ایوان میں گیس کے بحران اور ایل پی جی مافیا کی من مانیوں پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی مارکیٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں ایل پی جی 96روپے فی کلو ہونی چاہیے لیکن اسکی قیمت 250روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے ۔ کیا یہی حکومت کی گڈ گورننس ہے اس کا نوٹس لیا جائے جس پر اسپیکر نے وزراءکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فوری نوٹس لیں۔اجلاس میں حکومتی رکن طارق باجوہ نے ہدیٰ شوگر ملز کی طرف سے گنے کے کاشتکاروں کو 2013-14کے سیزن میں دئیے گئے چیک باﺅنس ہونے پر احتجاج کرتے کہا کہ ان چیکوں پر سلپ بھی لگی ہوئی ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں ہورہی کیا قانون صرف غریبوں کے لئے ہے ۔ میر امطالبہ ہے کہ شوگر ملز مالکان پر ایف آئی آر کے احکامات دئیے جائیں جس پر اسپیکر نے انہیں اپنے چیمبر میں بلا لیا ۔ اجلاس میں حکومتی رکن میاں طارق محمود کی طرف سے بس اڈوں کی ابتر حالت زار کی پارلیمانی سیکرٹری نے گواہی دی جس پر اسپیکر نے اس معاملے کو اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ٹرانسپورٹ کے سپرد کر کے ایک ماہ میںجواب طلب کر لیا ۔ اجلاس میں صوبائی وزیرملک شیر علی نے مسودہ قانون ( ترمیم ) سٹریٹجک کوارڈی نیشن پنجاب 2014اور مسودہ قانون ( تیسری ترمیم ) مقامی حکومت پنجاب 2014پیش کیا جنہیں متعلقہ قائمہ کمیٹیوںکے سپرد کر دیا گیا ۔ اجلاس میں گزشتہ روز صحت سے متعلق مسائل پر عام بحث ہونا تھی تاہم پولیو ریڈی کیشن کی وجہ سے یہ بحث نہ ہو سکی اور اجلاس کل ( جمعہ ) صبح نو بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید :

صفحہ آخر -