دہشتگردی فوجی عدالتوں سے ختم ہو سکتی ہے تو سیاسی و عسکری قیادت منظوری دینے میں دیر نہ کرے

دہشتگردی فوجی عدالتوں سے ختم ہو سکتی ہے تو سیاسی و عسکری قیادت منظوری دینے ...

  

                                  لاہور(جاوید اقبال+حنیف خان)ملک کی مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں عسکری اور خارجہ امور کے ماہرین نے کہا ہے کہ اگر ملک سے د ہشتگردی کا ناسور فوجی عدالتوں کے قیام سے جڑے ختم ہوسکتا ہے تو اس پر ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کو یکسوئی کے ساتھ ان کے قیام کی منظوری دینے میں دیر نہیں کرنی چاہیے ۔ملک سے فوری دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ دنوں میں اقدامات کئے جائیں ۔فوجی عدالتوں کے قیام سے قبل دہشت گردی کے خلاف سخت قوانین بنائے جائیں۔ان عدالتوں کے قیام کے لئے مدت کا تعین ہونا چاہیے ۔دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لئے جو بھی اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں، اٹھائے جانے چاہییں ۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ق کے سیکرٹری طلاعات سینیٹر کامل علی آغانے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لئے اگر فوجی عدالتوں کے قیام سے حل ہوتا ہے تو حکومت دیر نہ کرے فوری طورپر سپیڈی ٹرائل کورٹس کا قیام عمل میں آجانا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ فیصلے قومی و ملکی مفاد میں کئے جائیں اور اس کے لئے سیاسی و عسکری قیادت کو متحد ہونا ہوگا ۔کمیٹی پر کمیٹی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی کو جڑے اکھاڑنے کی ضرورت ہے اس کے لئے سخت قوانین بنانے ہونگے اس کے تحر یک انصاف قوم، حکومت اور فوج کے ساتھ کھڑی ہے پہلے ہی بہت وقت ضائع ہوچکا ہے دہشت گردہمارے ملک کے ”مستقل “کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور صرف کمیٹیاں بنانے سے بات نہیں بنے گی ،عملی فوری اقدامات کرنا ہونگے۔مسلم لیگ ن کے چیئر مین راجہ ظفر الحق نے کہا کہ پوری سیاسی عسکری قیادت متفق ہے ،حکومت تمام فیصلے ملکی اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کررہی ہے ۔ملک میں فوجی عدالتیں قائم کرنے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ ہم ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ان کا پیچھا کریں گے ۔سابق وزیر خاجہ گوہر ایوب نے کہا کہ آئین و قانون اجازت دیتا ہے کہ ملک کے اندر دہشت گردی کے خاتمے اور دہشت گردی میں ملوث طاقتور ،مجرموں کو فوری سزائیں دلانے کے لئے فوجی عدالتوں کا قیام ضروری ہے ،یا پھر موجودہ عدلیہ کو فوری فیصلوں کے لئے ضروری وسائل اور سکیورٹی فراہم کردی جائے ۔اے این پی کے رہنما حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے پارٹی مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے یہ انتہائی حساس معاملہ ہے لیکن اگر اس نظام انصاف میں ہی تیزی لائی جائے اوردنوں میں فیصلے کئے جائیں تو ان ہی عدالتوں کے ذریعے دہشت گردوں کو سزائیں دلوائی جاسکتی ہیں ۔بلوچ رہنما طلال بگٹی نے کہا کہ ملک کے اندر آزاد عدلیہ ہے اس عدلیہ کو مضبوط کیا جائے ان کی موجودگی میں کسی او عدلیہ کی ضرورت نہیں ہے دہشت گردوں کے فوری ٹرائل اور فوری سزاﺅں کے ئے عدلیہ کو وسائل دیئے جائیں۔جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے فوجی عدا لتیں قائم ہونی چاہیے یا نہیں اس پر ہم مشاورت کررہے ہیں مختلف پہلوﺅں کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جاسکتا ہے ۔ جنرل (ر)ضیاءالدین بٹ اور جنرل اسلم بیگ نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے اور ملک و قوم اور عوام کے قاتلوں کو فوری سزاﺅں کی ضرورت ہے جس کے لئے قوانین سخت کرنا ہونگے ۔اور ایسے کیسز کا ٹرائل کے لئے اگر فوجی عدالتیں ضروری ہے تو ان کے قیام میں دیر نہیں ہونی چاہیے ۔اور دنیا کے کئی ممالک میں فوجی عدالتیں قائم ہیں ۔اب فیصلے کا وقت ہے دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام پر پہنچانا ہوگا۔

فوجی عدالتیں

مزید :

صفحہ آخر -