قومی سیاسی، عسکری قیادت پھر متفق، سازشی بھی سرگرم!

قومی سیاسی، عسکری قیادت پھر متفق، سازشی بھی سرگرم!

  

تجزیہ چودھری خادم حسین

پوری قومی سیاسی اور عسکری قیادت نے ایک مرتبہ پھر یکسو ہو کر دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا فیصلہ اور عزم کا اظہار کیا۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے دہشت گردوں کے ہاتھوں معصوم بچوں اور ہزاروں فوجیوں اور شہریوں کی شہادتوں کا ذکر کیا اور کہا اس عظےم جانی نقصان کے ساتھمعیشت کو بھی بہت خسارہ ہوا ہے، قومی قیادت ورکنگ گروپ کی سفارشات کی روشنی میں ایک دو اختلافی نکات بھی طے کرنے میں کامیاب ہو گئی اور اب جلد ہی تمام سفارشات کو عملی شکل دینے کے لئے پارلیمنٹ سے ترامیم اور پالیسی کی منظوریبھی لے لی جائے گی۔ ایک طرف تو یہ خوش آئند عمل جاری ہے دوسری طرف اپنی گردن بچانے والے ہمدردوں کی مدد سے مسلسل ریشہ دوانیوں میں مصروف ہیں اور ملک میں امن کی خرابی کے ساتھ سیاسی انتشار کی کوشش بھی کرتے چلے جا رہے ہیں۔ جنرل (ر) پرویز مشرف، کراچی میں بیٹھے ڈوریاں ہلا رہے ہیں، حال ہی میں پیپلزپارٹی (پارلیمنٹیرین) کے صدر مخدوم امین فہیم محترم پیر صبغت اللہ راشدی، پیر پگارو (ہشتم) کی معیت میں ان سے ملے اور پیپلزپارٹی میں اختلافات کی خبریں ابھرکر باہر آنے لگیں، مخدوم امین فہیم جیسے ٹھنڈے ٹھار شخص نے بھی برملا پارٹی پالیسیوں سے اختلاف کا اظہار کر دیا، فی الحال انہوں نے کسی بڑے اقدام سے گریز کیا اور یہ اعلان کیا کہ وہ پارٹی کو نہیں چھوڑ سکتے۔ اصلاح احوال کی کوشش کرتے رہیں گے۔ مخدوم امین فہیم 2008ءکے انتخابات کے بعد سے روٹھے چلے آ رہے ہیں اور اختلاف کے باوجود پارٹی میں موجود ہیں۔ سید خورشید شاہ اور راجہ پرویز اشرف نے ان سے تفصیلی ملاقات بھی کی اسی کے نتیجے میں انہوں نے سروری جماعت کا اہم اجلاس بلا کر بھی یہی کہا کہ وہ پارٹی میں ہیں اور رہیں گے، وہ اپنی اہمیت چاہتے ہیں جو اب شریک چیئرمین کو دینا پڑے گی۔

سابق صدر آصف علی زرداری مضبوط اعصاب کے انسان ہیں، وہ خود کہتے ہیں کہ ایک گروہ سیاسی میدان سے شریف خاندان اور پیپلزپارٹی کو باہر نکالنے کی سازش اور جدوجہد کررہا ہے تو ان کو یہ ادراک بھی کرنا ہوگا کہ پارٹی کے بھاری بھرکم یا دیرینہ کارکن اور راہنما اپنا راستہ تبدیل نہ کریں اس سلسلے میں ان کو خود سرگرم عمل ہونا اور چل کر ایسے حضرات کے پاس جانا ہوگا، اس کے ساتھ ہی بلاول سے اختلاف والی تھیوری کو غلط ثابت کرنا بھی انہی کی ذمہ داری ہے اور وہ اسے خود پوراکریں، بچوں بلاول، بختاور اور آصفہ سمیت سب کو خاندان کے طور پر ایک لڑی میں رکھیں۔ اگر یہ اطلاع درست ہے کہ بلاول اپنے کزن ذوالفقار اور فاطمہ بھٹو سے میل ملاپ چاہتے ہیں تو خاندان کے طور پر صلح میں کیا حرج ہے؟ عوام بھی اسے پسند کریں گے ، بہرحال یہ خاندانی مسئلہ ہے، اس کے لئے ان کو صنم بھٹو کے ساتھ مل کر مثبت اقدامات کرنا ہوں گے تبھی سازشیں ناکام ہوں گی۔

ادھر یہ حال ہے تو مسلم لیگ ن کے درپے سردار ذوالفقار کھوسہ اور سید غوث علی شاہ ہیں، ان حالات ہی میں چودھری نثار علی خان بعض اقدامات یا بیانات سے ابہام پیدا کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں مولانا عبدالعزیز لال مسجد کے خطیب نہیں ان کے بھانجے ہیں، یہ بھی اچھی کہی، کیا اس خاندان سے باہر کوئی صاحب علم نہیں۔ مولانا عبدالعزیز کی بنانی شہدا فاﺅنڈیشن کا جواب یہ ہے کہ مولانا عبدالعزیز ہی لال مسجد کے خطیب ہیں اور تاحیات خطیب رہیں گے۔ یہ تضاد کیوں؟چودھری نثار علی خان ذمہ دار شخصیت ہیں ان کو خاص اہمیت حاصل ہے ان کو تو ہر حال میں احتیاط کرنا چاہیے وہ خود کہتے ہیں ”میں ادھار نہیں رکھتا“ تو پھر لال مسجد والی شہداءفاﺅنڈیشن کا جواب کیوں نہیں دیتے، بہتر عمل بہتر طریقے سے ہوتا ہے،یہ وقت ایسے اختلافی نکات کا نہیں ہے، اگر قومی سیاسی و عسکری قیادت یکسو اور متفق ہو سکتی ہے تو پھر باقی سب کو بھی خیال کرنا ہوگا۔ پیپلزپارٹی بڑی جماعت ہے اس کو بھی سنبھل کر چلنا ہوگا۔

 قیادت پھر متفق

مزید :

تجزیہ -