دہشت گردوسن لو!پاکستان میں اب تمہارے دن گنے جا چکے ہیں ،نواز شریف

دہشت گردوسن لو!پاکستان میں اب تمہارے دن گنے جا چکے ہیں ،نواز شریف

  

 اسلام آباد(خصوصی رپورٹ،مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن)وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کوقوم کافیصلہ سنارہاہوں کہ اب ان کے دن گنے جاچکے ہیں۔ انہوں نے رات 12بجکر 20منٹ پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ میں ایسے موقع پر مخاطب ہوں جب پشاور سانحہ نے قوم کو ہلا دیا ہے، سفاک قاتلوں نے عوام کے سینوں پرگہرازخم لگایا ہے، ہر پاکستانی کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے، معصوم بچے علم کی لگن سے گھروں سے نکلے اور اْنہیں خون سے نہلا دیا گیا، بچوں کی آنکھوں میں نہ جانے کتنے خواب سجے تھے، ایک بات ہونے کے ناطے احساس ہے کہ والدین اپنے بچوں کی سلامتی کی دعائیں مانگتے ہیں، والدین کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتا کہ اپنے بچوں کے جنازے کو کندھا دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 6سال کی بچی خولہ میری بیٹی تھی جو ٹیسٹ دینے گئی اور واپس نہیں آئی، حذیفہ بھی میرا بیٹا تھا جو ناشتے کے بغیر گھر سے نکلا اور واپس نہیں آیا، پوری دنیا بچوں کے والدین کے غم میں برابر کی شریک ہے، حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی دہشت گردی کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیا، مذاکرات بے نتیجہ ہونے کے بعد آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا، آپریشن ضربِ عضب نے کاری ضرب لگائی اور دہشت گرد وحشیانہ کارروائیوں پر اتر آئے، ہم نے دہشت گردی میں ملوث سزا یافتہ قیدیوں کی سزا پر عملدرآمد کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ وزیر اعظم نوازشریف نے کہا کہ پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں متفقہ طور پر طے کیا گیا ہے کہ جو خصوصی عدالتیں قائم ہوں گی ان کی مدت 2سال ہوگی، نیکٹا کو فعال بنایا جا رہا ہے، پاکستان بھرمیں مسلح جتھوں کی اجازت نہیں ہوگی، کالعدم تنظیموں کو دوسرے نام سے کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ کے تمام وسائل ختم کیے جائیں گے، اقلتیوں کے تحفظ کو یقین بنایا جا رہا ہے،دینی مدارس کی رجسٹریشن اورضابطہ بندی کااہتمام کیاجارہاہے، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دہشت گردوں کی تشہیر پر مکمل پابندی ہوگی، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر دہشتگردی کے اختتام کے لیے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں، ملک کے ہر حصے میں انتہاپسندی کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی جائے گی، کراچی میں جاری آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے حکومت بلوچستان کو مکمل اختیار دیا جا رہا ہے، افغان مہاجرین کی رجسٹریشن سے متعلق جامع پالیسی تشکیل دی جارہی ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ایک طرف بزدل دہشت گرد اور دوسری طرف قوم کھڑی ہے، کل کا پاکستان بہت پْرسکون پاکستان ہوگا، ہماری آئندہ نسلیں پاکستان میں سکون کی زندگی گزاریں گی، قائداعظم کے پاکستان کو ان کے وڑن کی طرح بنایا جا رہا ہے، تمام قیادت کوکریڈٹ جاتا ہے، فوج کا بھی ایک کلیدی کردار ہے، دہشت گردوں نے جو درد دیا ہے اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، پاکستان اپنی سرزمین کسی کو استعمال نہیں کرنے دے گا،بطور وزیراعظم دہشت گردی کیخلاف جنگ کی قیادت کرنا میری ذمیداری ہے، دہشت گردوں کوقوم کافیصلہ سنارہاہوں کہ اب تمھارے دن گنے جاچکے ہیں،وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ کی بھاری قیمت اداکی ،سخت فیصلے کرنے کا وقت آگیاقوم ٹھوس فیصلوں کی منتظر ہے اور اب ایسانہیں ہوگاکہ دہشتگرد جو چاہیں کرگزریں ‘ اگر آج کمزور اور لنگڑے فیصلے کئے تو تاریخ اور قوم کبھی معاف نہیں کرے گی‘ دہشت گردی کینسر بن چکی ہے‘ اگر اس کا علاج نہ کیا گیا تو اس کے بہت برے اثرات مرتب ہوں گے‘ اگر کسی جماعت کو تحفظات ہوں تو بیٹھ کر بات کی جائے‘ پاکستان‘ افغانستان نے ایک دوسرے کی سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے پر اتفاق کیا ہے‘ آج قوم کو تمام جماعتوں کی طرف سے یکسوئی کا فیصلہ جانا چاہئے۔ بدھ کے روز وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت پا رلیما نی جما عتو ں کی آ ل پا رٹیز کا نفر نس کا اعلی سطحی اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت وزیر داخلہ چوہدری نثار اور تمام سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ نے شرکت کی۔ وزیراعظم نواز شریف نے تمام سیاسی جماعتوں کا اجلاس میں آمد پر خیرمقدم کیا اور کہا کہ پشاور جیسے اندوہناک واقعہ کی سب جماعتوں نے مذمت کی اور جس طرح تمام سیاسی قیادت نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ذمہ داری کا ثبوت دیا اس کیلئے شکرگزار ہوں۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ اس وقت قوم کی نظریں ہم پر ہیں کہ سیاسی قیادت کیا فیصلے کرتی ہے کیونکہ پاکستان اور پوری دنیا کی تاریخ میں بچوں کو مارنے والے اندوہناک واقعات نہیں ملتے۔ دہشت گردی کینسر جیسی بیماری بن چکی ہے اور اگر اس کینسر کا علاج نہ کیا گیا تو تاریخ اور قوم ہمیں کبھی بھی معاف نہیں کرے گی۔ یہ ذمہ داری تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر پوری کرنا ہوگی۔ نواز شریف نے کہا کہ اگر آج ہم کمزور اور لولے لنگڑے فیصلے کئے تو قوم ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور ایسے لوگوں کیخلاف جو ملک و قوم کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے تیار ہیں اور ریاست کیخلاف ہاتھوں میں چھوٹے بڑے گروپ اسلحہ لے کر آئین کی خلاف ورزی کررہے ہیں تو ایسے لوگوں کیخلاف کارروائی کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان نے بڑی قربانیاں دیں اور دہشت گردی سے معیشت کو بھی نقصان پہنچا۔ پہلے کبھی بھی ان عناصر کیخلاف جنگ نہیں لڑی کیونکہ ہم مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنا چاہتے تھے لیکن یہاں پر بات کس سے کی جائے۔ یہاں پر چھوٹی بڑی بہت سی کالعدم جماعتیں موجود ہیں جو ریاست کیخلاف کھڑی ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے آپریشن ضرب عضب شروع کیا تو اب تک اس آپریشن کے بیشمار مثبت نتائج سامنے آئے ہیں جوکہ خوش آئند ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں انتخابات کے بعد نئی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور وہاں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی دورے کئے۔ افغان قیادت کیساتھ اتفاق ہوا کہ افغانستان پاکستان کیخلاف اور افغانستان پاکستان کیخلاف اپنی سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے جبکہ پاک افغان قیادت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ مسائل کو میڈیا پر اچھالنے کی بجائے ایک دوسرے کیساتھ شیئر کرکے حل کریں گے۔ پشاور واقعہ کے بعد آرمی چیف نے فوری طور پر افغانستان کا دورہ کیا اور وہاں پر دہشت گردی کیخلاف دونوں ملکوں کی جانب سے کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ پاک افغان کا دہشت گردی کیخلاف ایک ساتھ ہونا مثبت پیشرفت ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ اب پاک سرزمین پر دہشت گردی برداشت نہیں کی جائے گی اور نہ ہی افغان دہشت گردوں پاکستان کیخلاف سرزمین استعمال کرنے دی جائے گی۔ نواز شریف نے کہا کہ اب دہشت گردی کیخلاف مضبوط فیصلے کرکے پوری قوم کو ایک پیغام جانا چاہئے۔ اگر آج ہم نے اگلے واقعات کا انتظار کیا تو پھر بہت دیر ہوجائے گی۔ اگر کسی جماعت کو کوئی خدشات یا تحفظات ہیں تو آج اس کی نشست میں بیٹھ کر شیئر کرلے کیونکہ آج ہم جس ملک میں دورے پر جاتے ہیں تو وہاں کی لیڈر شپ اور میڈیا ہم سے ایسے سوالات کرتے ہیں جن کا ہمارے پاس جواب نہیں ہوتا۔ آج کے اجلاس میں تمام جمہوریت کے حمایتی موجود ہیں اور تمام جماعتوں نے جمہوریت کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ جمہوریت کو بچانے کیلئے آج تمام جماعتوں کو یکسوئی کا فیصلہ کرنا ہوگا اور آج کی اس نشست کو بامقصد بنانا ہوگا کیونکہ پشاور سانحہ بہت بڑا المیہ ہے اور پوری قوم کی نظریں آج کے اجلاس پر لگی ہوئی ہیں۔ اگر آج ہم نے ان دہشت گردوں کو جنہوں نے ہمارے جوانوں اور معصوموں کو شہید کیا ان کو معاف کردیا تو پھر تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ سری لنکن ٹیم پر حملے کے مرتکب دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانا بھی مثبت پیشرفت ہے۔ ایسے فیصلوں سے قوم خوش ہوگی۔اجلاس میں مشاہد حسین سید،رشید گوڈیل ،عمران خان ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ ، شیریں مزاری ، شاہ محمودقریشی ، ڈاکٹر عارف علوی ، مولانافضل الرحامن ، غلام احمدبلور ، افراسیاب خٹک ، بابر غوری ، غفورحیدری ، احسن اقبال ، سعد رفیق ، احسن کرمانی ، آزادکشمیر میں اپوزیشن لیڈر اجہ فاروق حیدراور آرمی چیف جنرل راحیل شریف و ڈی جی آئی ایس آئی شریک ہو ئے۔پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریفنے اجلاس سے خطا ب کر تے ہو ئے کہا کہ دہشتگردی کے ناسور نے ملک کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ دہشتگردی کے ناسور نے ملک کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ دہشتگردوں کیخلاف جراتمندانہ اور بڑے فیصلوں کو وقت آن پہنچا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ دلیرانہ فیصلے کئے جائے اور ان پر عملدرآمد کیا جائے۔ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاک فوج حکومت کیساتھ بھرپور تعاون کرے گی۔ دہشتگردی اور انتہا پسندی کیخلاف متحد ہو کر جیتیں گے۔ آرمی چیف نے کہا کہ آئندہ نسلوں کیلئے دہشتگردی کا خاتمہ ہمارا اولین فرض ہے۔ متحد ہو کر ہی دہشتگردی کیخلاف جنگ جیتی جا سکتی ہے اس سے قبل وزیراعظم ہاؤس میں ہونیوالی آل پارٹیز کانفرنس میں پارلیمانی راہنماؤں کو آپریشن ضرب عضب اور آپریشن خیبر ون کی کامیابیوں پر بریفنگ دیتے ہو ئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے بتایاکہ ایساف اور افغان عسکری قیادت نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ، پاک فوج ہر جگہ دہشتگردوں کاپیچھا کررہی ہے دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے سخت اقدامات اور موثر ترین حکمت عملی تیار کرنا ہوگی‘ ملک بھر میں دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے آپریشنز کامیابی کیساتھ جاری ہیں‘ دہشت گردوں کو روکنے کیلئے سرحدوں پر خاطرخواہ اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں آپریشن کامیابی کی طرف گامزن ہیں اور دہشت گردوں کے خاتمے تک آپریشن جاری رہیں گے۔ آرمی چیف نے کہا کہ دہشت گردی پر قابو پانی کیلئے سخت اقدامات اور موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے اور اس وقت ملک بھر میں دہشت گردوں کا تعاقب کیا جارہا ہے جبکہ آرمی چیف نے دورہ افغانستان اور افغان صدر اشرف غنی کیساتھ ہونے والی ملاقات پر بھی پارلیمانی راہنماؤں کو بریف کیا اور سانحہ پشاور کے بعد ہونے والی کامیابیوں سمیت دیگر تفصیلات سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ اب دہشت گردوں کو روکنے کیلئے سرحدوں پر خاطر خواہ اقدامات کئے گئے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب میں 190 جوان شہید ہوئے۔ 2100 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دورہ کابل کے دوران ایساف اور افغان فورسز نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ افغان سرحد کیساتھ کوآرڈینیٹ آپریشن بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کردیا گیا ہے اور آپریشن کے مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں۔آرمی چیف نے واضح کیاکہ دہشتگردی کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی ۔وزیراعظم کی زیرصدارت پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ فوج کاؤنٹرٹیررازم سمیت ریپڈ رسپانس فورس کا بھی کام انجام دے رہی ہے تاہم دہشتگردوں سے نمٹنے کے لئے ریٹائرڈ فوجیوں کی خدمات سے استفادہ کیا جائے گا۔ دہشت گردی راتوں رات ختم نہیں ہوسکتی، دہشت گردوں کے لواحقین عدالتوں میں جا کر فوج پر الزام لگاتے ہیں، فوج کا احتساب تو ہوتا ہے مگر دہشت گردوں کا احتساب نہیں ہوتا۔ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ کاؤنٹرٹیررازم کے حوالے سے فوج سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں آرٹیکل 245 کے تحت موجود ہے جب کہ پنجاب اوروفاق کے سوائے کسی اورصوبے نے آرٹیکل 245 کی ریکوزیشن نہیں دی اور 10 ہزار فوجی شہروں میں تعینات ہیں، اگر فوج کو آئین کے تحت نہیں بلایا گیا تو 10 ہزار فوجی دستے واپس لے لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کاؤنٹر ٹیررازم کے لئے پولیس تربیت یافتہ نہیں اور نہ ہی اسے جدید اسلحہ سے لیس کیا گیا ہے تاہم آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اس میں مدد کی پیشکش کی ہے۔وزیرداخلہ نے بتایا کہ موبائل فون سمز کی غیرقانونی فروخت کیخلاف بھی عملی اقدامات اٹھارہے ہیں،کسی جماعت پر پابندی لگا دی جائے تو وہ نام بدل کر کام کرنا شروع کردیتی ہے جب کہ کئی جماعتیں بتاتی ہیں کہ کسی کے اشارے پر کالعدم تنظیمیں کام کرتی ہیں تاہم دہشتگردوں کے رابطوں کو منقطع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کی دھمکیاں میڈیا پر نشر نہیں ہونی چاہیں،گزشتہ 8 روز میں میڈیا نے ذمے داری کا مظاہرہ کیا اور میڈیا کو آئندہ بھی چاہیے کہ دہشتگردوں کو بلیک لسٹ کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سول اور ملٹری تعلقات میں یکجہتی ہوگی تو دہشت گردوں پر مضبوط ہاتھ ڈال سکیں گے، وزیرداخلہ نے کہاہے کہ میڈیا شدت پسندتنظیموں کے بیانات کو بریکنگ نیوز کے طورپر چلاتاہے ، ایک طرف آرمی یا حکومت کے اقدامات کے بارے چل رہاہوتاہے تو دوسری طرف شدت پسندوں کے موقف آرہے ہوتے ہیں ، معاملات کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دوسری طرف سے موقف عوام تک پہنچانا بند کریں ،اس کے لیے الگ قانون کی ضرورت ہے ۔ اُنہوں نے کہاکہ میڈیا کیلئے ضابطہ اخلاق ایک عرصے سے بن رہاہے اور گذشتہ دنوں وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں بھی انکشاف ہواکہ تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ، گذشتہ دنوں میڈیا نے مکمل ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ، صرف خراسانی گروپ کی طرف سے دھمکیوں کی خبر ہی نظروں میں آئی ۔ وزیرداخلہ نے بتایاکہ میڈیا کے بعد انٹرنیٹ کی بھی نگرانی کی ضرورت ہے ، جس کی جو مرضی آئے ، کرتارہے ، انٹرنیٹ صارفین کی ایکٹیویٹی پر بھی نظر رکھنی ہوگی اور ا س کے لیے تمام قیادت متفق ہے ،ایک الگ قانون لانے کی ضرورت ہے جس کے تحت انٹرنیٹ صارفین کا احتساب ہوسکے ۔

مزید :

صفحہ اول -