دہشت گردی کے خاتمہ کی خاطر قانون سازی کیلئے حکومت کو سیاسی مصلحتوں سے نکلنا ہو گا

دہشت گردی کے خاتمہ کی خاطر قانون سازی کیلئے حکومت کو سیاسی مصلحتوں سے نکلنا ...
دہشت گردی کے خاتمہ کی خاطر قانون سازی کیلئے حکومت کو سیاسی مصلحتوں سے نکلنا ہو گا

  

تجزیہ -:سعید چودھری

                 دہشت گردوں کو قرار واقعی سزائیں دینے کے لئے فوجی عدالتوں کے قیام کی تجویز پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے حکومت مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے میں ہے ۔دہشت گردی کی سنگین صورتحال کے باوجود کئی سیاسی جماعتوں نے تاحال اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا ہے ۔کیا موجودہ آئین کے تحت فوجی عدالتیں قائم ہوسکتی ہیں ؟ اس کاجواب نفی میں ہے ۔فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی ۔اس سے قبل آئین میں آرٹیکل 212(اے) موجود تھا جو فوجی عدالتوں اور فوجی ٹربیونلز کے قیام کی اجازت دیتا تھا ۔اسی طرح وحشیانہ جرائم کی سماعت کے لئے آئین کے آرٹیکل212(بی )کے تحت خصوصی عدالتوں کے قیام کی گنجائش نکالی گئی تھی ۔آئین کا آرٹیکل 212(اے) 1985میں پی او نمبر14جبکہ آرٹیکل212(بی ) بارھویں آئینی ترمیم کے ذریعے منسوخ کئے جاچکے ہیں ۔اب آئین میں فوجی عدالتوں کے قیام کی گنجائش نہیں ہے ۔جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور صدارت کی ابتداءمیں نیم فوجی عدالتوں کے قیام کا فرمان جاری کیا تھا ،جس کے تحت انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں ججوں کے ساتھ فوجی افسروں کو بھی بیٹھنا تھا ۔نیم فوجی عدالتوں کا قانون ایک مخصوص مدت کے لئے نافذ کیا گیا تھا ،تب آئین بھی معطل تھا اس کے باوجود اس وقت کے لاہورہائی کورٹ کے چیف جسٹس فلک شیر نے ایک عبوری حکم کے ذریعے نیم فوجی عدالتوں کے قانون پر عمل درآمد روک دیا تھا اور یہ ملکی تاریخ کا واحد قانون بن کے رہ گیا تھا جس پر ایک دن بھی عمل درآمد نہیں ہوسکا تھا۔فوجی عدالتوں کے قیام کے حامیوں کا خیال ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عام عدالتوں کے جج اور گواہان عدم تحفظ کا شکار ہیں جس کے باعث فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے اور مجرموں کو قرار واقعی سزا نہیں مل پاتی ۔فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے نہ صرف آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی بلکہ انسداد دہشت گردی کے قانون میں بھی ترامیم لازم ہو جائیں گی۔فوجی عدالتیں قائم ہوجاتی ہیں تو ان میں سماعت کے لئے انسداد دہشت گردی کے قانون کے شیڈول میں ترمیم ہونی چاہیے ۔دہشت گردی کے تمام کیس فوجی عدالتوں میں نہیں جانے چاہئیںبلکہ وحشیانہ نوعیت کی دہشت گردی کی الگ سے تعریف کرکے اسے انسداد دہشت گردی کے قانون میں اضافی شیڈول کے تحت شامل کیا جانا چاہیے ۔وحشیانہ نوعیت کی دہشت گردی میں آرمی پبلک سکول پشاور پرحملے، بم دھماکے ،فوجی تنصیبات پر حملے ، عوامی مقامات پر دہشت گردی اورقانون نافذ کرنے والے اداروں پرحملوں جیسے واقعات کو شمار کیا جانا چاہیے۔

دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے متعلقہ قوانین میں ترامیم اور فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے حکومت نے جو کمیٹی تشکیل دی ہے اس سے لگتا ہے کہ حکومت ابھی تک مصلحتوں کا شکار ہے ۔اس کمیٹی نے شامل کئے گئے قانونی ماہرین میں سے چودھری اعتزاز احسن کے سواکوئی ایسا رکن نہیں ہے جس نے بھرپور انداز میں فوجداری مقدمات کا کام کیا ہو،بیرسٹر ظفر اللہ خان ڈی ایم جی گروپ کے افسر تھے اور وہاں سے مستعفی ہوکر انہوں نے وکالت شروع کی اور ان کا تجربہ زیادہ ترملازمتوں کے مقدمات لڑنے تک محدود رہا ہے ۔اٹارنی جنرل پاکستان سلمان اسلم بٹ نے آج تک کوئی فوجداری ٹرائل نہیں کیا ،وہ کارپوریٹ لاءکے ماہر ہیں ۔فروغ نسیم کے کریڈٹ پر بھی جنرل (ر ) پرویز مشرف غداری کیس کے سوا کوئی بڑا فوجداری مقدمہ نہیں ہے ۔پی ٹی آئی کی طرف سے کمیٹی کے لئے حامد خان کی نامزدگی سامنے آئی ہے ۔حامد خان بھی ماضی قریب میں کسی فوجداری ٹرائل یا فوجداری مقدمہ میں پیش نہیں ہوئے ،ان کا شمار کمپنی اور بینکنگ کے علاوہ آئینی مقدمات کے ماہرین میں ہوتا ہے ۔اسی طرح اے این پی کی طرف سے افرا سیاب خٹک اس کمیٹی میں شامل ہوں گے ،انہوں نے آج تک عملی وکالت ہی نہیں کی ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ فوجداری مقدمات کا وسیع تجربہ رکھنے والے وکلاءاور ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جاتی ۔ماضی میں حالات کے فوری رد عمل کے طور پر بھی قوانین بنائے جاتے رہے ہیں جن کا عدالتوں میں مذاق بنا رہا اس سلسلے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ مجریہ1997کی مثال دی جاسکتی ہے ۔اعلی ٰ عدالتوں کے فیصلوں کے نتیجے میں اس ایکٹ کی اتنی کانٹ چھانٹ ہو چکی ہے کہ اس میں ابتدائی طور پر شامل کئے گئے آدھے سے زیادہ جرائم دہشت گردی کی تعریف سے باہر ہوچکے ہیں۔حکومت کو سیاسی مصلحتوں کا شکار ہونے کی بجائے بار کونسلوں سے استفادہ کرنا چاہیے ۔پاکستان بار کونسل نے تو اس حوالے سے ورک پیپر بھی تیار کررکھا ہے ۔علاوہ ازیں تمام بار کونسلیں اس معاملے پر حکومت کی معاونت کے لئے بھی تیار ہیں ۔

سویلین علاقوں میں آئین میں ترمیم کئے بغیر فوجی عدالتیں قائم نہیں کی جاسکتیں۔تاہم اگر دہشت گردوں اوران کی تنظیموں کو ریاست سے جنگ کرنے والا دشمن قرار دے دیا جائے توپھر ان کے ٹرائل موجودہ فوجی عدالتوں میں بھی ممکن بنائے جاسکتے ہیں ۔اس حوالے سے یہ قانونی قباحت سامنے آئے گی کہ سانحہ پشاور جیسے واقعات میں ملوث ملزمان کا ٹرائل فوج کی عدالتوں میں کیسے ہوگا ؟ حکومت کو چاہیے کہ دہشت گردی اور وحشیانہ جرائم کے درمیان فرق روا رکھے ۔مجوزہ فوجی عدالتیں مخصوص مدت کے لئے قائم کی جائیں جن میں صرف وحشیانہ دہشت گردی کے مقدمات ہی زیر سماعت آئیں ۔

مزید :

تجزیہ -