عید ولادت المسیح کرسمس

عید ولادت المسیح کرسمس
عید ولادت المسیح کرسمس

  

عید ولادت المسیح یعنی کرسمس ہر سال 25 دسمبر کو تزک واہتمام سے منایاجاتاہے جس کی تیاری نومبرکے پہلے ہفتہ ہی سے شروع کردی جاتی ہے۔دنیابھر میں کرسمس کے ایام میں غریبوں کی خوشیوں کویقینی بنانے کے لئے تمام اشیاکے نرخ حقیقی معنوں میں 50 فیصد اور بعض مقامات پر 75 فیصد کم کردئیے جاتے ہیں تاکہ ہر شخص کرسمس کی خوشیوں میں شریک ہوسکے۔ کرسمس کا تہوار یسوع المسیح کی مقدسہ کنواری مریم کے بطن سے معجزانہ پیدائش کی یادمیں منایا جاتاہے وہ بیت لحم کی ایک سرائے میں جانوروں کی چرنی میں انتہائی کسمپرسی کے عالم میں پیداہوئے۔انہوں نے غربت میںآنکھ کھولی۔ فرشتوں نے اُن کی پیدائش کی خوشخبری بھی میدان میں سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے چرواہوں کو دی جوبھیڑوں کے گلہ کی نگہبانی کررہے تھے ۔ یسوع المسیح تمام زندگی غریبوں اور گناہ کے بوجھ سے دبے ہوئے لوگوں کی فلاح و بہبود اور اُنہیں ابدی نجات کی بشارت دیتے رہے ۔ اُنہوں نے کہاکہ اے بوجھ سے دبے ہوئے لوگو میرے پاس آو ۔ میں تمہیں آرام دوں گا۔ اُس دور کے بنی اسرائیل کے علماء اُن پر معترض ہوتے تھے کہ وہ محصول لینے والوں، گناہ گاروں اور مے نوشوں کے درمیان اپنے شب وروزبسر کرتے ہیں تو اُن کا جواب تھاکہ طبیب کی ضرورت بیماروں کو ہی ہواکرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں تو آیاہی گنہگاروں اور پسے ہوئے طبقات کی بحالی اور خداسے اُن کے ٹوٹے ہوئے تعلق کو جوڑنے کے لئے ہوں۔ انہوں نے اپنے شاگرد بھی محنت کشوں کھیت مزدوروں اور ماہی گیروں میں سے منتخب کئے۔ انہوں نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری پیروی کر و میں تمہیں آدم گیربناؤں گا۔

یسوع المسیح نے تمام عمر نہ تو اپناکوئی گھر بنایا اور نہ ہی اُن کا کوئی مستقل ٹھکانہ تھا بلکہ وہ صبح شام پاپیا دہ ایک نگر سے دوسرے نگر تک کوبہ کو سفر کرتے ہوئے لوگوں کو بیماریوں سے شفا ، اندھوں کی بینائی حتیٰ کہ مردوں کو زندہ کرتے نظرآتے۔انہیں انجیل مقدس میں پرنس آف پیس (شہزادہ امن)کہہ کر پکار ا گیا ۔ ان کا ہر پیغام امن وسلامتی اورمحبت سے لبریز ہے۔ انہوں نے دشمن سے بھی محبت اور ان کے لئے دعا کرنے کی تلقین کی۔انہوں نے کہا کہ میں جنگ کرنے نہیں بلکہ صلح اورامن کے لئے آیا ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نہ تو مذہب اور تبلیغ کے لئے جنگ یا جہاد کا حکم دیا اور نہ ہی کوئی سلطنت قائم کی۔ ان کا فرمان تھا کہ میری بادشاہت زمینی نہیں بلکہ آسمانی ہے۔ ان کے شاگرد بھی ان کے ہمراہ زمینی زندگی کے ساز و سامان سے محروم مگر آسمانی بادشاہت کے قیام اور اس کے لئے راہیں استوار کرنے میں ان کی زندگی میں بھی اور ان کی صلیبی موت کے اور تیسرے دن زندہ ہو کر آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد بھی خالی ہاتھ لوگوں کی رشد و ہدایت اور خدائے واحد و برتر کے حکموں کی پیروی کی تلقین کرتے رہے۔ انہوں نے نہ تو تلوار اٹھائی نہ ہی کوئی ہتھیار اور یونہی پیغام محبت سے تبلیغ کا فرض ادا کرتے رہے ۔ انہوں نے یسوع المسیح کے جنگ سے نفرت اور امن سے محبت کے پیغام کو عام کرنے کے لئے ہر صعوبت اور مصیبت برداشت کی اور جام شہادت نوش کیا۔ آج ان ہی کی بشارت کا ثمر ہے کہ دنیا کی آبادی کا سب سے بڑا حصہ مشرف بہ مسیحیت ہو چکا ہے۔ آج بھی ہمیں یسوع المسیح کے امن کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ جنگ سے نفرت اور انسانوں کے درمیان محبت کے رشتوں کے استحکام کے لئے یسوع المسیح کی پیروی شرط اول ہے۔اسی صورت میں دنیا میں امن قائم ہو سکتاہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم گناہ سے نفرت اور گنہگار سے محبت ،اپنے قصورواروں کو معاف کریں اور اپنے دشمنوں کے لئے دعا کریں اورنئے سال کا آغازآپس کی نفرتوں ،کشیدگیوں اوررنجشوں کو بھلا کر خداوند کے اس پیغام کو یاد کریں کہ تمام دکھوں کوبرداشت کرتے ہوئے صلیب پر کہا کہ اے باپ انہیں معاف کر!کیونکہ خداوند یسوع نے انہیں معاف کر دیا تھا لہٰذا وہ خدا سے ان کی معافی اور نجات کے طالب تھے۔ ہم بھی ایک دوسرے کو معاف کریں۔ اسی صورت میں ہم خداوند یسوع المسیح کی پیروی کا حق اداکرسکتے ہیں۔بصورت دیگر ہم عید ولادت المسیح کرسمس منانے کے حق دار نہیں۔ آپ سب کو کرسمس اور سال نو اپنی تمام تر دینوی اورروحانی برکات کے ساتھ مبارک ہو۔آمین!(ڈاکٹرکنول فیروز مسیحی دانشور ہیں)

مزید :

کالم -