بھکر کے دو بھائیو ں کے بعد قبریں اکھاڑنے والا ایک اور گروہ سامنے آگیا

بھکر کے دو بھائیو ں کے بعد قبریں اکھاڑنے والا ایک اور گروہ سامنے آگیا
بھکر کے دو بھائیو ں کے بعد قبریں اکھاڑنے والا ایک اور گروہ سامنے آگیا

  

میانوالی (نمائندہ خصوصی) بھکر میں قبریں کھود کر انسانی گوشت کھانے کے واقعے کے بعد میانوالی میں بھی تقریباً ایسا ہی واقعہ پیش آیا جہاں ”درندوں“ کا ایک لالچی گروہ قبروں سے انسانی اعضاءنکال کر فروخت کررہا تھا۔ علاقہ مکینوں کی شکایت پر قانون حرکت میں آیا اور ملزمان کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق میانوالی کے علاقہ وادی نمل کے گاﺅں ڈھبہ کرسیال کے قبرستان میں چند قبریں کھلی پائی گئیں جس پر علاقہ مکینوں نے پراسرار طور پر قبریں کھلنے سے متعلق ایک دوسرے سے مشاورت کے بعد پولیس کو اطلاع کردی ۔

متعلقہ تھانہ چکڑالہ کے تفتیشی افسر قطب شیر نے بتایاکہ ابتدائی پوچھ گچھ میں سامنے آنے والی معلومات کی روشنی میں گاﺅں کے ہی رہائشی چار افراد کو حراست میں لیا جنہوں نے اعتراف جرم کرلیا جبکہ ملزمان کے قبضے سے انسانی بال بھی برآمد کرلئے گئے۔ پولیس کے مطابق دو قبریں کھلی ملیں جنہیں مقامی علماءنے دوبارہ بند کرادیا جبکہ ملزمان محمد خان، حفیظ اللہ، ایوب اور زاہد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے اعتراف کیا کہ وہ مختلف علاقوں میں قبریں کھود چکے ہیں، چکوال کی تحصیل تلہ گنگ میں 1500 سے 4000روپے تک فی کلو گرام بال بیچا کرتے تھے۔

دسری طرف مقدمے کے مدعی حاجی فریدنے پولیس کی طرف سے ناقص تفتیش کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مقامی سیاسی رہنما ملک اللہ یار ملزمان کی پشت پناہی کررہے ہیں اور پولیس ان کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرتی۔اُنہوں نے بتایاکہ پولیس کی طرف سے ملزمان کو عدالت میں پیشی کیلئے پرائیویٹ گاڑی بھی مانگی گئی ہے ۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل بھکر کے دو بھائی بھی پکڑے گئے تھے جو قبریں کھود کر مردے نکال لیتے تھے اور انسانی گوشت ”نوش“ کرتے تھے، دو سال سزا کے پورا ہونے پر رہائی کے بعد پھر انسانی گوشت کھانا شروع ہوگئے اور ایک مرتبہ پھر جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئے۔

مزید :

جرم و انصاف -اہم خبریں -