چودہ سال کی عمر میں سزائے موت پانیوالےغریب ”مجرم“ کی لرزہ خیز داستان

چودہ سال کی عمر میں سزائے موت پانیوالےغریب ”مجرم“ کی لرزہ خیز داستان
چودہ سال کی عمر میں سزائے موت پانیوالےغریب ”مجرم“ کی لرزہ خیز داستان

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) غربت کے مارے روز گار کیلئے کراچی جانیوالے مظفرآباد کے شہری شفقت کو 14سال کی عمر میں سزائے موت سنائی گئی تھی اور اب کسی بھی وقت اُسے پھانسی ہوسکتی ہے ، سندھ ہائیکورٹ حال میں تکنیکی بنیادوں پر اپیل بھی مسترد کرچکی ہے جبکہ غربت کی وجہ سے ماں بھی اپنے بیٹے کو ملنے نہ جاسکی ۔

منہاج القرآن کی تاحیات خاتون رکن نے دھرنے ، انقلاب مارچ کی اصلیت کا بھانڈا پھوڑدیا

معروف نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگوکرتے ہوئے مظفرآباد کے کیل سیکٹر کے رہائشی شفقت کے بھائی منظورحسین نے بتایاکہ والد کو فالج کے اٹیک کے بعد مالی معاونت کے لیے شفقت نے سکول چھوڑ کر کراچی کی راہ لی اورخط و کتابت ہی شفقت سے رابطے کا ذریعہ تھا اورکام کی نوعیت کا علم نہیں تھا، 2004ءکے آغاز پر کراچی سے آنے والے ایک شخص نے بتایا کہ آپ کا بھائی گرفتار ہوگیا۔

حمائمہ ملک کی شعیب ملک سے دبئی میں خفیہ ملاقاتیں ، ثانیہ مرزا کوبھی پتہ چل گیا

منظور حسین کا کہنا ہے کہ وہ قرضہ لے کر شفقت سے ملنے کراچی گئے،2004 میں ایک بچے کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں شفقت حسین کوسزا سنائی گئی تھی اور اس وقت ان کی عمر 14 برس تھی۔وکیل کرنے کے لیے مالی سکت نہیں تھی لیکن شفقت نے ملاقات میں یہی بتایا کہ اس نے یہ جرم نہیں کیا، انصاف دلایا جائے، میری عمر ہی نہیں کیا میں یہ کام کر سکتا ہوں؟۔مجرم کے بھائی منظور حسین نے بتایاکہ پولیس نے تفتیش کے دوران تین انگلیوں کے ناخن نکال دیے،اتنا مارا کہ شفقت سے جب اس بارے میں پوچھیں تو اس کا شلوار میں پیشاب نکل جاتا ہے،وہ دونوں ہاتھ سر پر رکھ کر رونے لگتا ہے، کہتا ہے وہ نہیں بتا سکتا بس چار ماہ تک خوب مارا۔

بھکر کے دو بھائیو ں کے بعد قبریں اکھاڑنے والا ایک اور گروہ سامنے آگیا

 ان کا مقدمہ لڑنے والی غیر سرکاری تنظیم جسٹس پروجیکٹ پاکستان کا کہنا ہے کہ شفقت کی کم عمری کا مسئلہ پوری سماعت کے دوران سرکاری وکیل صفائی نے اٹھایا ہی نہیں،شفقت کااقبال جرم بھی پولیس کے تشدد کا نتیجہ تھا اور شفقت کے جسم پر سگریٹ کے نشان آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں، مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی لگانا زیادتی تھی۔

سانپ کی کھال سے چمڑا کیسے بنایا جاتا ہے؟ انتہائی دردناک طریقہ منظر عام پر

بی بی سی کے مطابق غربت کی وجہ سے شفقت کے اہلِ خانہ دس برس میں دو بار ہی اس سے ملنے کراچی جا سکے،فالج زدہ باپ، 80 سالہ بوڑھی ماں، چار بھائیوں اور تین بہنوں پر مشتمل اس خاندان کا کوئی مستقل ذریعہ معاش نہیں، روزانہ دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا ہی ان کے لیے دن کا سب سے بڑا چیلنج ہوتا ہے جبکہ رنجیدہ والدہ اور دیگر بہن بھائیوں نے گھر کے برے حالات کی وجہ سے تنگ آ کر ایک دن دوستوں کے ساتھ ملازمت کی تلاش میں کراچی جانے والے شفقت حسین کو اس دن کے بعد سے آج تک نہیں دیکھا۔

(بشکریہ بی بی سی )

نوٹ: خبر کے اندر موجود رنگین لائنیں دوسری خبروں کی متعلقہ سرخیاں ہیں ، خبر پڑھنے کیلئے رنگین لائن پر کلک کریں تو اسی صفحے پر یہ خبر بند ہوکر متعلقہ خبر کھل جائے گی۔

مزید :

قومی -