دہشتگردوں کی تلاش، لاہور پولیس کے درجنوں آپریشن بوگس نکلے

دہشتگردوں کی تلاش، لاہور پولیس کے درجنوں آپریشن بوگس نکلے
دہشتگردوں کی تلاش، لاہور پولیس کے درجنوں آپریشن بوگس نکلے

  

لاہور (ویب ڈیسک) لاہور پولیس نے رواں سال میں دہشت گردوں کی تلاش میں سینکڑوں سرچ آپریشن کئے جن میں درجنوں بوگس سرچ آپریشن ثابت ہوئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق پولیس نے سٹی، صدر، ماڈل ٹاﺅن اور اقبال ٹاﺅن ڈویژن میں زیادہ سرچ آپریشن کئے تاہم واہگہ بارڈر، رائیونڈ اور انارکلی سمیت لاہور کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کرنیوالے دہشت گردوں کو سرچ آپریشن کے دوران پکڑا نہ جاسکا۔

سانحہ پشاور کے شہداءکی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی ،قوم متحد ہے ، دہشتگردوں کو بدترین انجام تک پہنچا کررہیں گے : صدر مملکت ممنون حسین

لاہور میں دہشت گردوں کے درجنوں ٹھکانے ہیں جن میں افغانستان اور انڈیا کی خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹوں کے علاوہ تحریک طالبان اور کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ کے مطابق لاہور کی سٹی ڈویژن میں شاہدرہ، شفیق آباد، نولکھا اور بھاٹی گیٹ تھانوں کی حدود میں دہشت گردوں اور ان کو سپورٹ کرنے والے افراد کے ٹھکانے موجود ہیں۔ اسی طرح صدر ڈویژن میں رائے ونڈ، مانگا منڈی، چوہنگ، نواب ٹاﺅن، سبزہ زار، ہنجر وال کے علاقوں میں دہشت گردوں کے ساتھیوں کے ڈیرے ہیں۔

اقبال ٹاﺅن ڈویژن میں ملت پارک، نواں کوٹ اور شیراکوٹ کے علاقوں میں کرائے کے گھروں اور گلی محلوں میں دہشت گرد اور انکوٹریولنگ، رہائش کی سہولیات دینے والے کالعدم تنظیموں اور غیر ملکیوں کی بڑی تعداد روپوش ہے۔ پولیس نے ان علاقوں میں رواں سال کے دوران سینکڑوں سرچ آپریشن کئے تاہم کوئی بڑا دہشت گرد گرفتارنہیں کیا جاسکا۔ پولیس نے ماڈل ٹاﺅن ڈویژن کے علاقوں لیاقت آباد، نصیر آباد، اچھرہ، کاہنہ، کوٹ لکھپت اور نشتر کالونی میں بھی درجنوں سرچ آپریشن کئے اور سینکڑوں افغانیوں کو شناختی دستاویزات نہ ہونے پر گرفتار کیا تاہم جلد ہی ان تمام افراد کو رہا کردیا گیا۔

کینٹ ڈویژن میں برکی، ہڈیارہ، مناواں، باٹا پاور اور فیکٹری ایریا میں بھی کئی سرچ آپریشن کئے گئے تاہم دہشت گرد آسانی سے واہگہ بارڈر تک دو خود کش حملہ آوروں کو پہنچانے میں کامیاب ہوگئے۔ سرچ آپریشنز کی سربراہی ڈویژنوں کے ایس پیز کو سونپی گئی تاہم تھانوں کے ایس ایچ اوز نفری لے کر جاتے اور چند گھروں کے مکینوں کی تفصیلات چیک کرنے کے بعد تھانوں میں واپس چلے جاتے۔

 ایس پیز اور ڈی ایس پیز بھی سرچ آپریشن کی مانیٹرنگ کرنے کی بجائے ایس ایچ اوز کو سارا کام سونپ کر چلے جاتے ہیں جبکہ بے دلی سے کئے گئے سرچ آپریشنز میں جن افغانیوں کو گرفتار کیا گیا، ان کی بڑی تعدادکو پولیس اہلکاروں نے مک مکا کرکے چھوڑ دیا جس کے باعث واہگہ بارڈر، انارکلی، پاکستان چوک کے دھماکے ہوئے اور درجنوں افراد جاں بحق ہوگئے۔ دوسری طرف اس بارے میں لاہور پولیس کے افسروں کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشنز کے دوران دو سے تین ہزار پولیس اہلکاروں نے شرکت کی اور کئی ملزموں اور دہشت گردوں کے ساتھیوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

مزید :

لاہور -