ویزا دستاویزات ،دبئی نے درخواست گزاروں کو سخت وارننگ دے دی

ویزا دستاویزات ،دبئی نے درخواست گزاروں کو سخت وارننگ دے دی
ویزا دستاویزات ،دبئی نے درخواست گزاروں کو سخت وارننگ دے دی

  

دبئی (نیوزڈیسک)دبئی انتظامیہ نے عوام النا س کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی فیملی اور ارشتے داروں کے ویزہ اپلائے کرتے ہوئے ان لوگوں سے ہوشیار رہیں جو انہیں ہاﺅس لیزنگ سرٹیفکیٹ دینے کا کہہ رہے ہوں کیونکہ اس طرح وہ جعلسازی کے زمرے میں آتے ہیں۔

دبئی کے شہزادہ شیخ ہمدان بن راشد المکتوم چولستان پہنچ گئے

دبئی پراسیکیوشن ،دبئی ریزیڈینسی اینڈ فارن افیئیرز (DNRD)نے خبردار کیا ہے کہ ان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ لوگ کچھ جعلسازوں کے جھانسے میں آکر اپنی فیملی کا ویزہ اپلائے کرتے ہوئے ساتھ جعلی ہاﺅس لیز لگا رہے ہیں جس کا فوراً علم ہوجاتا ہے، ایسی صورت میں کیس اپلائے کرنے والا کافی مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔

DNRDکے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیر خلف ال غیت کا کہنا ہے کہ فیملی ویزہ اپلائے کرے کے لئے ہاﺅس لیز کا ساتھ لگایا جانا ضروری ہے لیکن ادارے کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ کچھ لوگ کنسلٹنٹس کی مدد سے جعلی لیز لگار کر ویزہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ ایک سنگین جرم ہے لہذا لوگوں کو کسی بھی ایسی کوشش سے دور رہنا چاہیے۔

پھانسی کی سزا پر امریکہ کا رد عمل ،تفصیلات جاننے کیلئے کلک کریں

حال ہی میں ایک شخص نے DNRDمیں اپنا کیس جمع کرواتے ہوئے لیز سرٹیفکیٹ ساتھ لف کیا لیکن یہ سرٹیفکیٹ جعلی ہونے کی وجہ سے فوراً ’اجارہ‘سسٹم کے ذریعے پکڑا گیا۔اس شخص کا کہنا تھا کہ اسے علم نہیں کہ یہ سرٹیفکیٹ جعلی ہے کیونکہ اس نے جہاں سے ویزہ درخواست بنوائی تھی اسی ایجنٹ نے یہ سرٹیفکیٹ دیا تھا اور اس بات کا یقین دلایا تھا کہ یہ اصل ہے۔

ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ جب کوئی درخواست گزار کیس جمع کروانے آتا ہے تو اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ کیا کیا ساتھ لگا رہا ہے کیونکہ کسی بھی چیز کے جعلی ہونے کی صورت میں اس کی تمام ذمہ داری درخواست گزار پر ہوگی اور صرف یہ کہنے سے کہ ’اسے اس کا علم ہی نہیں تھا‘ وہ بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔اس کا کہنا تھا کہ متعدد ایسے کیسوں میں عدالت نے درخواست گزار کو مجرم گردانتے ہوئے تین سے چھ ماہ کی قید بھی دی ہے لہذا بہت ضروری ہے کہ لوگ اس امر سے اچھی طرح آگاہ ہوجائیں۔اس کا مزید کہنا تھا کہ تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کچھ ایجنٹ اس جعلسازی میں ملوث ہیں اور لوگوں نے درخواست مکمل کروانے کے لئے ان ایجنٹوں کو تین سے چار ہزار درہم (تقریباً ایک لاکھ روپے)ادا کئے لہذا ان ایجنٹوں کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیا۔اس کا کہنا تھا کہ اس سرٹیفکیٹ کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ درخواست گزار کے پاس اپنی رہائش ہے اور وہ با آسانی اپنی فیملی کو رکھ سکتا ہے کیونکہ کچھ کیسز میں حکومت کو یہ علم ہوا کہ لوگ شئیرڈ رہائش میں رہ رہے ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے اپنی فیملی بھی رکھی ہوئی ہے جو کہ ایک حیاءسوز اور تشویشناک حرکت ہے۔

دبئی کے ایڈووکیٹ جنرل علی حومید الخاتم کا کہنا ہے کہ لوگ معمولی کام کی اتنی بڑی رقم اداکرتے ہیں لہذا یہ کہنا کہ ’مجھے علم ہی نہیں تھا ‘ ایک غلط بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک کیس میں درخواست گزار نے اپنے بھائی کے کاغذات میں جعلسازی کرتے ہوئے اپنی ماں کو سپانسر کیا اور کامیاب ہوگیا لیکن دوسری بار اس کے بھائی نے اصل کاغذ لگاتے ہوئے اپنی بیوی کو سپانسر کیا لیکن فیملی نام کی وجہ سے وہ پکڑا گیااور اب دونوں کو جعلسازی کے مقدمے کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ DNRDکے ملازمین بڑی آسانی سے جعلسازی پکڑ سکتے ہیں لہذا درخواست گزار اگر سرٹیفکیٹ کی فوٹو کاپی میں کوئی جعلسازی کریں گے تو یہ بہت آسانی سے پکڑی جا سکتی ہے۔دبئی میں اب تک 71ایسے کیسز پکڑے جا چکے ہیں ،ان میں سے 19کیسز2013ءمیں اور 52کیسز 2014ءمیں سامنے آئے تھے ۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -