پی ٹی آئی کے حامد خان نے فوجی عدالتوں کی مخالفت کردی

پی ٹی آئی کے حامد خان نے فوجی عدالتوں کی مخالفت کردی
پی ٹی آئی کے حامد خان نے فوجی عدالتوں کی مخالفت کردی

  

لاہور(سعید چودھری )دہشت گردی کے خلاف حکومت نے آئینی اور قانونی ترامیم کے لئے جوکمیٹی تشکیل دی ہے اس میں پاکستان تحریک انصاف کی نمائندگی کے لئے تجویز کئے گئے پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماءحامد خان نے فوجی عدالتوں کے قیام اور اس کے لئے آئین میں ترمیم کرنے کی مخالفت کردی، حامد خان نے اپنے نقطہ نظر سے پارٹی قیادت کو بھی آگاہ کردیا ہے۔

 وزیر اعظم کی جانب سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تعریف،تفصیلات جانئے

روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے حامد خان نے کہا کہ وہ فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف ہیں ۔وکلاءنے ہمیشہ فوجی عدالتوں کی مخالفت کی ہے ۔فوجی عدالتوں کے قیام کی بجائے انسداد دہشت گردی کی موجودہ عدالتوں کو زیادہ موثر بنانے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے ۔ان عدالتوں کے ججوں اور گواہوں کا تحفظ یقینی بنا دیا جائے تو انہی عدالتوں سے مطلوبہ نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں ۔میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف، عمران خان اور طاہر القادری کے خلاف درج دہشت گردی کے مقدمات کی مجوزہ فوجی عدالتوں میں منتقلی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک تصویر واضح نہیں ہے ،اگر فوجی عدالتیں بنتی ہیں تو سیاستدانوں کے معاملات کو ان سے الگ رکھنا پڑے گاورنہ یہ سلسلہ ایک مرتبہ شروع ہوگیا تو پھر پتہ نہیں کہا ں تک جائے گا۔حامد خان نے بتایا کہ انہیں ادھر اُدھر سے پتہ چلا ہے کہ وہ مذکورہ کمیٹی کے رکن ہیں تاحال ان سے کسی نے رابطہ کیا ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ کمیٹی کا اجلاس کب ہوگا۔علاوہ ازیں قارئین کے لئے یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ "پاکستان"کی تحقیق کے مطابق مذکورہ کمیٹی میں شامل کئے گئے قانونی ماہرین میں کوئی ایسا رکن نہیں ہے جس نے بھرپور انداز میں فوجداری مقدمات کا کام کیا ہو،بیرسٹر ظفر اللہ خان ڈی ایم جی گروپ کے افسر تھے اور وہاں سے مستعفی ہوکر انہوں نے وکالت شروع کی اور ان کا تجربہ زیادہ ترملازمتوں کے مقدمات لڑنے تک محدود رہاہے ۔اٹارنی جنرل پاکستان سلمان اسلم بٹ نے آج تک کوئی فوجداری ٹرائل نہیں کیا ،وہ کارپوریٹ لاءکے ماہر ہیں ۔فروغ نسیم کے کریڈٹ پر بھی جنرل (ر ) پرویز مشرف غداری کیس کے سوا کوئی بڑا فوجداری مقدمہ نہیں ہے ۔پی ٹی آئی کی طرف سے کمیٹی کے لئے حامد خان کی نامزدگی سامنے آئی ہے ۔حامد خان بھی ماضی قریب میں کسی فوجداری ٹرائل یا فوجداری مقدمہ میں پیش نہیں ہوئے ،ان کا شمار کمپنی اور بینکنگ کے علاوہ آئینی مقدمات کے ماہرین میں ہوتا ہے ۔اسی طرح اے این پی کی طرف سے افرا سیاب خٹک اس کمیٹی میں شامل ہوں گے ،انہوں نے آج تک عملی وکالت ہی نہیں کی ہے۔تاہم اعتزاز احسن کسی حد تک فوجداری مقدمات کا تجربہ رکھتے ہیں ۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -